غزہ اور اسرائیل جنگ بندی: غزہ کے لیے ایک بڑی فتح

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کے نہتے شہریوں پر زبردستی تھوپی گئی جنگ، جو 8/جولائی 2014 کو شروع ہوئی تھی،آخر کارپچاس دنوں کی لمبی مدت کے بعدمنگل(26/اگست 2014)کی شام کوحماس -فلسطینی اتھارٹی -اسلامی جہاداور اسرائیل کے درمیان باہمی گفت و شنید کے بعدبند ہو گئی۔ قطرو مصر کی ثالثی میں تیار کیے گئے طویل مدتی معاہدے پر فریقین نے متفق ہو کر جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ اس سے پہلے بھی مصر نے فائر بندی کے لیے ثالثی کا رول ادا کیا تھا ؛ لیکن اس وقت اسرائیل کے سامنے کچھ شرائط نہیں رکھی گئی تھی ؛ بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ پہلے "فائر بندی”، پھر شرائط پر غور و خوض کیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ”حماس” نےاس موقع سے مصر کی ثالثی اور فائر بندی کی پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ: "مصری حکومت کی جانب سے فائر بندی کی جو تجویز پیش کی گئی ہے وہ شکشت خورد اور بزدلانہ ذہنیت کی پیداوار ہے، جسے غیور فلسطینی عوام کسی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔” مگر اس بار معاہدہ پر اتفاق اس لیے ہوسکا کہ "حماس” کی پیش کردہ کچھ اہم شرائط کو اسرائیل نےقبول کیا، پھر جنگ بندی ہو سکی۔

حماس کی طرف پیش کردہ جن اہم شرائط کو اسرائیل نے فوری طور پرقبول کیا ہے ان میں "غزہ” کی تمام سرحدی چوکیوں کا کھولنااورغزہ کے ساحل پر فلسطینی ماہی گیروں کو مچھلیاں پگڑنے کی جگہوں میں 12 بحری میل تک توسیع شامل ہے۔ اس توسیع کے بعد، مچھلی پکڑنے کی جگہ پہلے کے مقابلے میں دو گنی سے بھی ‏زیادہ ہو گئی ہے۔ درمیان جون میں تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور ہلاکت کے بعد گرفتار کیے گئے پچا س فلسطینیوں کی رہائی اور غزہ میں طیران گاہ اور بندرگاہ کی تعمیرکے مطالبات پر، ایک مہینہ بعد ہونے والے مذاکرات میں گفتگو کی جائے گی۔ حماس والوں کی شرائط کی قبولیت کے ساتھ جنگ بندی کو فلسطینیوں نے عموما اور اہالیان غزہ نے خصوصا فتح شمار کیا اور خوشی میں پورے غزہ پٹی میں جشن کاماحول تھا۔ ہر طرف سے”تکبیر ” کی صدائیں بلند ہو رہی تھی۔

ٹائم کی رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کی خبر آتے ہی "حماس” کے ترجمان سمیع ابو زہری نے نیوز کانفرنس میں کہاکہ "ہم غزہ کے لوگوں کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اپنے گھروں، بچوں اور دولت کی قربانی پیش کی۔اپنے مقصد کے حصول کے بعد،اللہ کی مدد سے، آج ہم فتح کا اعلان کرتے ہیں۔ نیتن یاہو اہالیان غزہ کو خود سپردگی کروانے کی کوشش میں ناکام رہا۔ ہاں، ہم نے اسرائیل کو اپنے حوصلہ اور مقابلہ سے شکشت دیا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ہم انھیں نہیں چھوڑ سکتے۔”حماس کےایک دوسرے لیڈرمحمود الزہر نے غزہ میں ہزاروں کےمجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا : "اہالیان غزہ کے لیے اب ہم طیران گاہ اور بندرگاہ بھی بنانے جا رہے ہیں۔ اگر کسی نے ہمارے طیران گاہ اور بندرگاہ پر حملہ کیا تو ہم بھی اس کے طیران گاہ پر حملہ کریں گے۔”

حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں اسرائیل کا جتنا مالی نقصان ہوا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ "حماس” کے ساتھ مذاکرات کرے، جس کو وہ "دہشت گرد” سے تعبیر کرتےتھے اور اچھوت سمجھتے تھے اورساتھ ہی ساتھ ان کی طرف سے پیش کی گئی شرطوں کو قبول کرے۔چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ اسرائیل کو حماس کے نمائندہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے مجبور ہونا پرا۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو اہالیان غزہ کی ایمانی قوت صہیونیوں کو اس بار چین کی نیند میسر نہیں ہونے دیتے اور ان کومالی نقصان کے ساتھ ڈر و خوف کے سائے میں دن و رات گزارنا ہوتا؛ لہذا شکشت خوردگی اور ہزیمت کی صورت میں اسرائیل کو مجبور ہوکر جنگ بندی پر آمادہ ہونا پرا۔

جنگ بندی کی خبر پر اسرائیلی حکومت نے شروع میں شرمندگی سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ پھر بعد میں اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیونے "بی بی سی” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”یہ فائر بندی اسرائیل کابنیادی مقصد اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔یہ معاہدے حماس کوغزہ سے اسرائیل مخالف ساری سرگرمیوں کو ختم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اب اگر ایسا ہوتا ہےاور ہمیں امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا، تو یہ ہماری فتح ہے۔” دوسری طرف جنوبی اسرائیل کی مقامی کونسل کے ‎ہیڈ نے کہا کہ ہم اس جنگ بندی کے معاہدے کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اٹمار شیمونی نے اس معاہدہ کو "دہشت گردوں کے سامنے خود سپردگی "سے تعبیر کیا۔ اس نے مزید کہا کہ”ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ "حماس” والے ہمارے سامنے شکست خوردگی کی حالت میں زندگی کی بھیک مانگنے آئیں؛ لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل مذاکرات کی میز کی طرف دورتے ہوئےجنگ بندی کی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے کو ایک غنیمت سمجھ رہا ہے۔”

بہت سے لوگوں؛ بلکہ کچھ مسلمانوں کا بھی یہ کہنا تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں "حماس” کی کوئی حیثیت نہیں ہے؛ لہذا ان کو خاموشی سے جنگ بندی کی کسی طرح کی بھی پیش رفت کا استقبال کرتے ہوئے محاذ سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سچا پکا مسلمان ہتھیاروں اور فوج کی تعداد پراعتماد نہیں کرتا؛ بل کہ اس پاک پروردگار پر یقین کرتا ہے جس نے اپنے گھر: کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے، ابرہہ کے بہت سے لشکر اور ہاتھی کو سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی ٹکڑیوں کو، چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں ڈال کر برباد و ہلاک کیا تھا۔ پھروہ لوگ یہ کسے بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے غزوہ بدر میں 313 ہوکر بھی 950 مشرکین سے فتح حاصل کی، غزوہ احد میں 700 ہوکر مشرکین کے 3000 کے لشکر کو للکارا، غزوہ خندق صرف 3000 رہ کر بھی 10000 دشمنوں ناکام و نامراد کردیا،غزوہ خیبر میں 1600 کی تعداد میں ہوکر 14000مخالفین کو شکشت دی اور غزوہ موتہ میں 3000 ہوکر بھی ایک لاکھ دشمنوں سے مقابلہ کیا۔ یہ مبارک سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا؛ بلکہ غزوہ حنین، غزوہ یرموک، فتح مکّہ مکرمہ و‏غیرہ کی بھی تاریخ پڑھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ : "اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤاور تم غالب رہوگے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔” (سورہ آل عمران، آیت: 139)

بدقسمتی یہ ہے کہ عالم اسلام کے حکمراں "قضیہ اقصی وفلسطین” کی حساسیت کو سمجھنے کے باوجود بھی اسےسنجیدگی سے نہیں لے رہے، نہیں تو ان ناپاک صہیونیوں کی کیا مجال تھی کہ مسجد اقصی کو ہتھیانے کی ناجائز کوشش کرتا اور فلسطینیوں کے لیے ان کے گھروں کو ہی جیل بنا کر ، ان کی زندگی سے کھلوار کرتا۔ اگر وہ حکمراں ان مسائل کو سنجیدگی سے لیتے تو اس کو حل کرنے کے لیے سالوں سال کی ضرورت نہیں تھی ؛ بل کہ مہینوں اور دنوں میں حل ہوگیا ہوجاتا۔ اللہ ان حکمرانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے!

حماس والوں کا اعتماد و یقین اللہ پر ہے؛ لہذا "حماس” نے اس جنگ میں اسرائیل کے خلاف اپنے حوصلے کا مظاہرہ اس طرح کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی عرب افواج نہیں کرسکی۔ اسرائیل کے چوسٹھ فوجیوں اور چھ شہریوں کو واصل جہنم کرنے میں، حماس کامیاب رہا۔جب کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جسے صہیونیت زدہ میڈیا نے کبھی رپورٹ نہیں کیا۔ مزید یہ کہ غزہ کی سرحد سے متصل غصب شدہ زمینوں پرزبردستی بسنے والے سیکڑوں اسرائیلیوں کو گھر چھوڑ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

اس جنگ میں صہیونی غاصب ریاست اسرائیل نے ہزاروں انسان کا ناحق خون بہایا اور دوسرے ہزاروں لوگوں کو زخمی کرکے ان کی بچی کھچی زندگی کو ایک بوجھ بنا دیا۔ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں مکان و دوکان ، مساجد و مدارس، اسکولس، کالجز اور یونیورسیٹیوں اور درجنوں سے زیادہ بلند و بالا عمارتوں کو زمین بوس کیا ہے۔ کوئی بھی انصاف پسند مورخ جب ہمارے اس دور کی تاریخ رقم کریگا؛ تو بنجامن نیتن یاہو، ایہود اولمرٹ، ایریل شیرون جیسے اسرائیلی حکمرانوں کو انسانیت دشمن ہٹلر، ہلاکو اور چنگیز کےسچے پکے جانشینوں میں شمار کرے گا۔

مڈل ایسٹ مونیٹر (Middle East Monitor) کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردی اورنسل کشی میں اسرائیلی درندوں نے 2145 انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، جس میں 578 بچے، 261 عورتیں اور 102 نہایت ہی معمر اور ضعیف لوگ تھے ؛ جب کہ گیارہ ہزار لوگوں کو زخمی کیا ہے۔اسی طرح اسرائیلی سفاکوں نے زمینی اور فضائی حملوں میں تقریبا 15670 گھروں کو نقصان پہونچایا ہے ، جس میں 2276 گھر مکمل طور پرختم ہوگئے ہیں۔ 190 مسجدوں پر حملہ کیا گیا ہے، جن میں سے 70 مساجد کلی طور پر شہید ہو چکی ہیں۔ 140 اسکولوں پر حملہ ہوا ، جن میں سے 24 اسکولس زمین بوس ہو چکا ہے۔ مکانوں کی تباہی و بربادی کی وجہ سے تقریبا پانچ لاکھ شہری خانہ بدوشوں کی سی زندگی کزارنے پر مجبور ہیں۔ مختصر لفظوں "غزہ” پورے طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ مگر اس تباہی و بربادی کے ساتھ ایک بہت بڑی کامیابی یہ ملی ہے کہ 2007 سے جو "غزہ پٹی” دنیا کا سب سے بڑا جیل بنا ہوا تھا اور اس کے مکیں جو کہ قیدی بنے تھے اب تقریبا مکمل طور پر آزاد ی کی زندگی گزار سکیں گے؛ اس لیے یہ ایک بہت بڑی فتح ہے۔