لوجہاد…شیطانی دماغ کی تخلیق،ایک مکروہ پروپیگنڈہ

مولاناسید احمد ومیض ندوی

حالیہ انتخابات سے قبل بی جے پی اقتدار کے تعلق سے ملک کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو لیکر جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا وہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہے ہیں، بی جے پی نے ترقی وخوشحالی کے جن بلند بانگ دعووٴں کے ساتھ ملکی عوام کو سبز باغ دکھائے تھے وہ تو دھرے کے دھرے رہ گئے ،البتہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ نت نئے مسائل کا سلسلہ شروع ہوگیا، مہنگائی کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، بلکہ اس کا گراف مزید اونچا ہوچکا ہے، اچھے دنوں کی آمد کا انتظار کرتے کرتے عام ملکی باشندے ساری امیدیں قطع کرچکے ہیں، ملکی ترقی وخوشحالی کا کوئی مثبت ایجنڈا تو آگے نہ بڑھ سکا البتہ بی جے پی دورِ اقتدار میں دو میدانوں میں خوب ترقی ہوئی ہے، ایک فرقہ وارانہ فسادات، دوسرے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پرو پیگنڈہ مہم، بی جے پی اقتدار کے نتیجہ میں سب سے زیادہ جن عناصر کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہ ملک کی فرقہ پرست ہند توا طاقتیں ہیں، چنانچہ بی جے پی اقتدار لوٹنے کے ساتھ یہ طاقتیں پورے طور پر سرگرم ہوچکی ہیں، ایک طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم میں شدت پیدا کی جارہی ہے دوسری جانب اس سے پیدا ہونے والی اشتعال انگیز فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات تواتر کے ساتھ بھڑکائے جارہے ہیں، اتر پردیش فسادات کی آگ میں جل رہا ہے جہاں گذشتہ ۱۶/ مئی تا ۲۶ جولائی صرف دو ماہ کے عرصہ میں فرقہ وارانہ نوعیت کے ۲۵۹ واقعات رونما ہوچکے ہیں ان میں ۶۰ فیصد واقعات مغربی اتر پردیش میں پیش آئے اس طرح روزانہ اوسطاً ۱۰ تا ۱۲ واقعات کا تناسب رہا، مہاراشٹرا میں فرقہ وارانہ نوعیت کے ۱۶۷ واقعات پیش آ ئے۔
فرقہ وارانہ فسادات کے لئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ کے ذریعہ زمین ہموار کی جاتی ہے، اس وقت نفرت پر مبنی یہ پروپیگنڈہ مہم منظم انداز میں چلائی جارہی ہے، اس کے لئے ہندتوا عناصر ایک بار پھر ”لوجہاد“ کے پروپیگنڈہ کا حربہ پوری قوت کے ساتھ استعمال کررہے ہیں، ایک سال قبل اسی لو جہاد پروپیگنڈہ کے ذریعہ مظفر نگر میں مسلم کش فسادات کرائے گئے تھے، میرٹھ کے حالیہ واقعات میں بھی مسلمانوں کے خلاف ہندو عوام کو مشتعل کرنے کے لئے یہی حربہ استعمال کیا گیا، لو جہاد محض نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر ان کے لئے ملک کی سر زمین تنگ کی جارہی ہے، لو جہاد در اصل مسلم مخالف رجحان کو ہوا دے کر سیاسی منافرت کو تقویت پہونچانے کا موٴثر حربہ ہے، بنیادی طور پر یہ فرقہ وارانہ سیاست کا ایجنڈا ہے، ہند توا کی فرقہ پرست تنظیمیں عرصہ سے اس بات کا پروپیگنڈہ کررہی ہیں کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں سے معاشقہ کر کے پہلے انہیں اپنے دام محبت میں پھانستے ہیں پھر انہیں جبری طریقہ سے تبدیلیٴ مذہب پر مجبور کرتے ہیں فرقہ پرست عناصر کے مطابق یہ کام بعض مسلم تنظیموں کی سر پرستی میں منظم طریقے سے انجام دیا جارہا ہے اس کے لئے باقاعدہ فنڈنگ کی جارہی ہے مسلم نوجوانوں کو اس کام کے لئے ہر قسم کی سہولیات اور مادی ترغیبات کا لالچ دیاجاتا ہے، فرقہ پرست تنظیمیں اپنے دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لئے بعض ان واقعات کو بطور ثبوت پیش کرتی ہیں جہاں کسی مسلم نوجوان سے محبت کرکے کوئی ہندو لڑکی اس سے شادی رچاتی ہے،ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ رہتے ہیں اور جہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط نظام تعلیم ہے اور بے پردگی اور مردوزن کا اختلاط عام ہے، بین مذہبی شادیاں کوئی تعجب کی بات نہیں اس قسم کے واقعات تقریبا ہر مذہب سی تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں پیش آرہے ہیں، لیکن ایسے اکا دکا واقعات کو بنیاد بناکر سنگھ پریوار کے تربیت یافتہ کارکنوں نے باقاعدہ ”لو جہاد“ کی اصطلاح گھڑ لی، اور بہت سی من گھڑت کہانیوں کا سہارا لیکر مسلمانوں کے خلاف عام ہندو بھائیوں میں نفرت کی آگ بھڑکانے لگے، اس کے لئے بیٹی بچاوٴ تحریک یا اینٹی لو جہاد فرنٹ نام سے باقاعدہ تحریک چلائی جانے لگی اور ”ہماری بیٹیوں کو مسلمانوں سی بچاوٴ“ جیسے نعرے لگائے گئے، ہندو بیٹیوں یا ہندو مذہب کے تحفظ کے نام پر باقاعدہ ایک میکانزم تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھرمیں محبت والفت کا پیغام عام کرنے کے بجائے نفرت وعداوت کی فصل ا گائی جارہی ہے، لو جہاد ہی کے عنوان سے مظفر نگر میں حالات کو کشیدہ بنایا گیا، فسادات سے کافی عرصہ پہلے باقاعدہ بعض تربیت یافتہ کارکنوں کے ذریعہ ہندو لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی منصوبہ بندی کی گئی افواہیں پھیلائی گئی، اور لو جہاد کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا جب لاوا خوب پک گیا تو بالآخر پھٹ پڑا اور دیہاتوں کے غریب مسلمانوں پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے،لو جہاد در اصل شیطانی دماغ کی تخلیق ہے جس کا مقصد ایک طرف مسلمانوں کو بدنام کرکے ان کے خلاف نفرت کو ہوا دینا ہے، دوسری جانب جہاد جیسی خالص اسلامی اصلاح کی شبیہ بگاڑنا ہے۔
ملک میں اس اصطلاح کا سب سے پہلے استعمال ساحلی کرناٹک منگلور اور کیرلا کے کچھ علاقوں میں ہوا جب چندسال قبل وہاں بین مذہبی محبت کی شادیوں کے کچھ واقعات رونما ہوئے اور جب ان واقعات کی میڈیا کی جانب سے تشہیر کی گئی تو کئی ایک فرقہ پرست تنظیمیں میدان میں اتر پڑیں اور لو جہاد کا ہوا کھڑا کرنے لگیں، اس سلسلہ میں سر گرم تنظیموں میں آر یس یس کے تربیت یافتہ سویم سیوک پرمود مقالک کی قائم کردہ تنظیم شری رام سینا نے ایسے جو ڑوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جس میں لڑکی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہو حتی کہ ان تمام شادیوں کو جو والدین کی مرضی کے خلاف ہورہی ہوں نشانہ بنایا جانے لگا شری رام سینا کا پروپیگنڈہ ہے کہ صرف کرناٹک میں ۴ ہزار سے زائد ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرایا گیا ہے، اس افواہ کو جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیلادیا گیا جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے، کرناٹک اور کیرلا واقعات کے بعد جب انہیں ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو عدالتوں نے پولیس کے ذریعہ کئی ماہ تک ان واقعات کی بھر پور جانچ کروائی، پولیس تفتیش کی تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد فاضل ججوں جو فیصلہ صادر کیا اس میں صاف کہاگیا کہ لوجہاد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے منفی اثرات کا کوئی ثبوت نہیں، کیرلا میں پیش آئے جس واقعہ پر فرقہ پرستوں نے شور مچایا تھا کئی مہینوں کی تحقیقات کے بعد کیرالا پولیس نے ہائی کورٹ میں جو رپورٹ داخل کی تھی اس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ پورے صوبے میں کئی گئی تفتیش کے بعد پولیس کو کسی بہی شہر میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ کیرالا میں لو جہاد کے نام سے کوئی تحریک چل رہی ہے، کیرلا پولیس نے ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنائے جانے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں جن سے معلوم ہو کہ ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جارہا ہے، حیرت ہے کہ ان تمام حقائق کے باوجود نفرت کی سوداگر فرقہ پرست تنظیمیں لوجہاد کا ہوا کھڑا کررہی ہیں، مہاراشٹرا میں ہندو رکشک سمیتی نام کے گروپ نے بھی یہ نعرہ لگایا کہ ہندو مذہب کو بچانے کے لئے ہر اس جوڑے کو توڑ دو جس میں لڑکی ہندو ہے، کیرالا میں ایک عیسائی گروپ اس طرح کے رجحان کو روکنے کے لئے وی ایچ پی سے ہاتھ ملایا ہوا ہے، گجرات فسادات کے دوران بھی اس بات کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مسلم لڑکے آدی واسی لڑکیوں سے نہ صرف شادی کررہے ہیں بلکہ ان کا مذہب بھی تبدیل کررہے ہیں، صورتِ حال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ فرقہ پرست ہندو توا تنظیمیں لو جہاد کا پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے سوشیل میڈیا یوٹیوب وغیرہ کا بھر پور استعمال کررہی ہیں، جس سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بری طرح متأثر ہورہی ہے اور نوجوانوں کے ذہن زہر آلود ہوتے جارہے ہیں، اس مکروہ مہم کے لئے نیٹ اور سوشیل میڈیا کا استعمال کس عیاری کے ساتھ کیا جارہا ہے، اس کا اندازہ ایک صحافی کے اقتباس سے کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے خود اپنے ساتھ پیش آئے معاملہ کا ذکر کیاہے وہ لکھتے ہیں :
”آج جیسے ہی ایک ضروری کام سے میں نے اپنا یوٹیوب اکاوٴنٹ کھولا ایک عجیب وغریب آڈیو ساوٴنڈ نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی، صاحب! آپ کا ذرا سا وقت لیا جائے گا، ہوسکتا ہے آپ کے ذریعے کسی کی زندگی بچ جائے․․․․ اتنا کہہ کر وہ آواز ذرا دیر کے لیے رکی، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، میں سوچ میں پڑ گیا ، یہ کیا ہے؟ پھر اس سے پہلے کہ مجھے کوئی جواب ملتا وہی آواز آنی شروع ہوئی۔
آپ اسے دیکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، یہ ایک فنڈا ہے، ایک چھچورا کام ہے، اس کا نام ”لوجہاد“ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان لڑکے بھولی بھالی غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے عشق کے جال میں پھنساتے ہیں اور ان سے شادی کے وعدے کرکے انہیں ہندووٴں کے خلاف بھڑکاتے ہیں ،کہیں کہیں تو شادی بھی کر کے اور ہماری بہن بیٹیوں کا ذہنی وجسمانی استحصال کر کے ان سے بچے پیدا کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، اس طرح ان مسلمانوں کا مقصد اپنی آبادی میں اضافہ کرکے ہندوستان میں مسلم حکومت قائم کرنا ہے، اس طرح سے ہندووٴں کی زندگی خطرے میں ہے، باہر کے لوگ ہم پر چھارہے ہیں اور ہم سے ہمارا ملک چھیننے کی کوشش کررہے ہیں، ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہماری بہن بیٹیوں کو جہاد کی ٹریننگ دے کر ہمارے کے خلاف کیا جائے میری ہندو بھائیوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسے کسی بھی خطرے سے ہوشیار رہیں اور اگرکہیں ایسا دیکھیں تو فوراً پولیس کو بتاکر بھارت ماتا کے سچے سپوت ہونے کا ثبوت دیں․․․ اب آپ ایک ویڈیو دیکھیں جس میں ایک متأثرہ اپنی کہانی خود بتاتی ہے۔
اس زہریلی بکواس کے بعد ایک ویڈیو چلائی گئی جس میں ایک برقعہ پوش خاتون سے ایک شخص پوچھ رہا تھا: آپ ان کی چنگل میں کیسے پھنسے؟ اس نے جواب دیا: وہ مجھ سے کپل ورما کے نام سے ملا اصل میں میں اس کا نام ساحل عزیز تھا میں اسکے پیار میں پاگل ہوگئی، بغیر کچھ دیکھے جانے اس کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی، اس نے مجھ سے شادی کی اور اس طرح کے کام کرائے، آپ پہلے ہندو تھے؟ پوچھنے والا پوچھ رہا تھا، ہاں! مگر انہوں نے دھوکے سے شادی کی اور مجھے مسلمان بنایا․․․․مگر میرا استعمال کر کے چھوڑ دیا، اب میں پھر سے ہندو ہوگئی اور ان کے گھر سے بھاگ آئی ہوں․․․․ میری زندگی برباد ہوگئی ہائے ! میں کیا کرو، کہاں جاوٴں ، سماج میں کسی کو بھی منھ دکھانے کے قابل نہیں رہی، اتنا کہہ کر وہ ڈھونگی لڑکی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، ابھی یہ مکالمہ یہیں تک پہنچا کہ پس منظر سے دل خراش آواز آنے لگی، آپ نے دیکھا بھائیو! کس طرح کے گیم کھیلے جارہے ہیں ،ہمارے ہی گھر میں سیندھ لگائی جارہی ہے، بھارت ماتا اب ہم کہاں جائیں ہمارے گھر میں ہی دشمن ہمیں برباد کررہا ہے۔
یہ بکواس یہاں تک آکر ختم ہوگئی مگر دماغ تک خراب کر دیا بعد میں اس واقعے کی تحقیق کی گئی اور یوٹیوب انتظامیہ سے اس سلسلے میں ربط کیا گیا تو انہوں نے ایک چونکا دینے والی بات کہی، ایک عرصے سے شیو سینا، بجرنگ دل ، وشو ہندو پریشد اور منسے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہماری سائٹ کوہیک کر رکھا ہے مگر تعجب یہ ہے کہ وہ اتنی بات کہہ کر سائٹ کو آزاد کردیتے ہیں، ہمیں دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور ہمیں وارننگ بھی دی جاتی ہے، اگر ہم نے ان کا کہا نہ مانا تو ہم پر پابندی لگانے کی بات کی جاتی ہے، اب ہم کیا کریں حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ جیسا چاہیں گے اس ملک میں یہی ہوگا!
یوٹیوب انتظامیہ کی یہ بات ملک کے منصف مزاج لوگوں کے لیے لمحہٴ فکریہ سے کم نہیں ہے اورآخری الفاظ تو ہندوستان کی ہی سالمیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، یوٹیوب پر شرپسندی کے علاوہ کتابچوں، پمفلٹوں، پوسٹروں اور اسٹیکروں کے ذریعہ بھی یہ گندگی پھیلائی جارہی ہے، جسے بڑے پیمانے پر چوراہوں، فٹ پاتھوں، پارکوں اور اسکول کالجز میں انہیں تقسیم کیا جارہا ہے، چنانچہ ایک اسٹیگر میرے ہاتھ بھی لگا جو کسی اینٹی لو جہاد فرنٹ کی جانب سے شائع ہے، اس کا متن ہے: ہندو بھائیوں سے اپیل ،جاگو ہندو جاگو! لو جہاد سے سودھان، مسلم لڑکے ہندو نام رکھ کر ہاتھ میں کلاوا باندھ کر وٹیکا لگا کر ہندو لڑکیوں کو جال میں پھنساتے ہیں، ان کا دھرم پر ورتن (بدل) کر کے شادی کر کے بچے پیدا کرتے ہیں ایوم (نیز) شریرک ومانسک سوشن (جسمانی وذہنی استحصال) کر کے انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔“
جہاں تک اسلامی تعلیمات اور مزاج شریعت کا تعلق ہے تو وہ اس سلسلے میں بالکل واضح ہے، قرآن مجید صاف کہتا ہے، لا إکراہ في الدین (البقرة) دین میں جبر نہیں، تاریخ کے کسی بھی دور میں اسلام تلوار یا طاقت کے بل بوتے پر نہیں پھیلا، اگر اسلام کی اشاعت میں کسی جبر یا لالچ کا دخل ہوتا تو آج دنیا میں اسلام کے علاوہ کوئی مذہب باقی نہ رہتا، خود ہمارے ملک میں مسلمانوں کی حکمرانی صدیوں پر محیط رہی، اگر جبر کا سہارا لیا ہوتا تو یہاں دیگر اہلِ مذاہب کا دور دور تک نام ونشان نہ ہوتا، اس کے علاوہ کسی کو جبر کر کے دوسرا مذہب اپنانے پر کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے، عقیدے کا تعلق دل سے ہوتا ہے، محض زبان سے کسی چیز کا اقرارکرلینا کافی نہیں، کوئی شخص کسی کے کہنے پر اپنا عقیدہ نہیں بدلتا، الا یہ کہ اس پر کسی مذہب کی حقانیت آشکارا ہوجائے، اس وقت دنیا بھر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جس تیزی کے ساتھ اسلام قبول کررہے ہیں ،وہ در اصل اُن کے ضمیر کی آواز ہے، انہوں نے اپنے ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر اسلام کو برحق مذہب جانا ہے، سنگھ پریوار کی جانب سے لو جہاد کا جو ہوا کھڑا کیا جارہا ہے اس کی حقیقت تعصب وعناد کے علاوہ کچھ نہیں ہے، فرقہ پرست تنظیمیں جن واقعات کو بنیاد بنا کر اس وقت نفرت پھیلارہی ہیں، تحقیقات کے بعد اُن واقعات کی اصل حقیقت سامنے آچکی ہے، میرٹھ کی جس لڑکی کے تعلق سے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، حقائق سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں جبراًتبدیلی مذہب کا کوئی معاملہ نہیں پیش آیا، لڑکی نے خود بیان دیا کہ وہ اپنے عاشق کے ساتھ اپنی مرضی سے بھاگ گئی تھی، کیوں کہ ان دونوں کے والدین اُن کی شادی کے لئے رضا مند نہیں تھے، بی جے پی قائدین کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں ۲۰ سے زائدجبری تبدیلی مذہب کے واقعات پیش آئے ہیں، لیکن جب اُن سے ثبوت کا مطالبہ کیا گیا تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔
پھر غور کرنے کی بات ہے کہ جس طرح ہندو لڑکیاں مسلم لڑکوں کے عشق میں گرفتار ہوکر مذہب تبدیل کررہی ہیں اسی طرح بہت سی مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کے معاشقہ کا شکار ہوکر تبدیلی مذہب کررہی ہیں، ایسے میں صرف مسلمانوں ہی کے لئے لوجہاد کی اصطلاح کیوں گھڑ لی گئی ؟ اگر ہندو لڑکیوں کا عشق رچا کر نکاح کرنا لو جہاد ہے تو پھر مسلم لڑکیوں کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں، اُسے کیا نام دیا جائے گا؟ بات صرف کسی مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی نہیں ہے، اِس وقت مخلوط نظام تعلیم اور فحاشی وبے حیائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے نتیجہ میں پوری دنیا میں بین المذاہب شادیوں کے واقعات کثرت سے رونما ہورہے ہیں، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے رشتہٴ نکاح میں منسلک ہورہے ہیں، ایک سروے کے مطابق آندھراپردیش میں ہر سال ایک ہزار دلت ہندو لڑکیوں کا عیسائیوں سے نکاح ہوتا ہے، پھر ان واقعات کو لو جہاد سے کیوں موسوم نہیں کیا جاتا؟ بی جے پی قائدین جو لو جہاد کا ہوا کھڑا کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں خود بین مذہبی شادیوں کے مرتکب ہیں، شاہنوازحسین نے ایک ہندو خاتون رینو سے نکاح کیا، جو تا حال ہندو ہے، سکندر بخت اور مختار عباس نقوی کی بیویاں بھی ہندو ہیں، بی جے پی کے قد آور لیڈر مرلی منوہر جوشی نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک مسلم نوجوان سے کیا، اسی طرح وشو ہندو پریشد کے قائد اشوک سنگل نے اپنی بیٹی کی شادی ایک مسلم نوجوان سے کرائی، خود اڈوانی کی بھتیجی کا شوہر مسلم نوجوان ہے، اس شادی میں خود اڈوانی بنفس نفیس شریک رہے، بال ٹھاکرے کی پوتی نیہا ٹھاکرے کا نکاح بھی ایک مسلم لڑکے سے ہوا، سبرا منیم سوامی جو کٹر مسلم مخالف شخصیت ہے، اُن کی بیٹی سہانی سوامی نے ایک مسلم لڑکے ندیم حیدر سے شادی رچائی، فرقہ پرست تنظیموں کی نظر اِن واقعات پر کیوں نہیں جاتی؟ اور ان کے خلاف کیوں ہنگامہ برپا نہیں کیاجاتا؟ بات صرف ہندو لڑکیوں ہی کی نہیں ہے جو مسلم نوجوانوں کے عشق میں مبتلا ہو کر قبول اسلام کرہی ہیں بلکہ اس قسم کے واقعات مسلم سماج میں بھی پیش آرہے ہیں، جہاں بے دین مسلم خواتین نے ہندو مردوں سے نکاح کی خاطر ہندو مت قبول کرلیا، اس سلسلے میں دل نواز شیخ، فاطمہ رشید، بختیار مراد، خوشبو سندر، عائشہ اور روشن آراء کے نام پیش کئے جاسکتے ہیں، جنہوں نے بالترتیب سنجے دت، سنیل دت اور راجیو رائے سے نکاح کے لئے اپنا مذہب ترک کردیا۔
مسئلہ پر غور وفکر کا ایک اور پہلو ہے، جو بالعموم فرقہ پرستوں کے ذہنوں سے اوجھل رہتا ہے، وہ یہ کہ جو مذہب بے حیائی اور فحاشی پر سخت امتناع عائد کرتا ہو جس کے پیروکاروں کے لئے شادی کے بغیر اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط کی قطعی اجازت نہ ہو، اور جو اپنے ماننے والوں کو حجاب کا پابند بناتا ہو، نیز جس کے قوانین میں عشق ومعاشقہ سراسر معصیت ہو ایسا مذہب بین مذہبی شادیوں کی کیسے حوصلہ افزائی کرسکتا ہے، جس مسلم نوجوان لڑکی یا لڑکے میں تھوڑی بھی مذہبی حس ہوگی وہ غیر مذہب کے رشتے کو کسی طرح پسند نہ کرے گا، بین مذہب شادیوں کی کثرت در اصل مغربی تہذیب کے غلبہ کا نتیجہ ہے، اس وقت ساری دنیا مغرب کی مادہ پرست اور حیوانیت زدہ تہذیب کی آنکھ بند کر کے تقلید کررہی ہے، ہر مذہب کے پیروکاروں میں مغربی تہذیب سے جنون کی حد تک لگاوٴ رکھنے والوں کی بڑی تعداد ہے، جن کی نگاہ میں مذہبی اور انسانی قدروں کی کوئی وقعت نہیں ہے، بین مذہبی شادیوں کے لئے کسی خاص طبقے یا مذہب کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے نئی نسل کو مغربیت کے طوفان سے بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔
اخیر میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے جس لو جہاد کا ہوا کھڑا کیا جارہا ہے، مسلم معاشرہ میں اس قسم کی کسی تحریک کا وجود نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے، البتہ حالات ومشاہدات بتاتے ہیں کہ بعض فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے مسلمان لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر کے شہر پربھنی میں پیش آئے ایک واقعہ کی خبر اخبارات میں ان الفاظ کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔
”پربھنی شہر میں ایک ہندو نوجوان نے خو د کو مسلم (پرویز صدیقی) بتاتے ہوئے علاقے کے ساکن شیخ عثمان کی لڑکی سلطانہ کی شادی پرشانت دت راوٴ (پرویز صدیقی) کے ساتھ ہورہی تھی عین عقد کے وقت قاضی صاحب نے اُس سے کلمہٴ شہادت پڑھنے کو کہا لیکن اس کو کلمہٴ شہادت نہ آنے کی وجہ سے حاضرین کو اس کے تعلق سے شک ہوا جب اس کی تحقیقات کی گئی تو خود کو مسلمان بتلانے والا نوجوان دھیرممبئی کا ساکن در اصل ہندو فرقہ پرست تنظیم کا ورکر نکلا، وہاں موجود لوگوں نے اسے شدید زدو کوب کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے اُس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد اُسے پربھنی عدالت میں پیش کیا، عدالت نے اس کو پولیس تحویل میں رکھنے کے احکامات جاری کئے، دورانِ تحقیقات پولیس نے ملزم پرشانت دت راوٴ کے قبضہ سے ایک لیپ ٹاپ ضبط کرلیا، لیپ ٹاپ میں مرھٹواڑہ کی مسلم لڑکیوں کی کئی تصاویر اور اُن کی تفصیلات پولیس کو دستیاب ہوئیں، دورانِ تحقیق ملزم نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اُس نے جنتور کے ساکن شیخ سلیم کی دختر حنا کے ساتھ ایک ماہ خود کو مسلم بتا کر شادی رچائی تھی، اسی طرح ہنگولی میں بھی اس نے اسی طرح کا ایک اور کارنامہ انجام دیا“
اس خبر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں نہایت منظم طریقے سے مسلمانوں میں ارتدار کی مہم چلارہی ہیں، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے تعلق سے نہایت چوکنا رہیں۔

Love Jihad.pdf

غزہ اور اسرائیل جنگ بندی: غزہ کے لیے ایک بڑی فتح

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کے نہتے شہریوں پر زبردستی تھوپی گئی جنگ، جو 8/جولائی 2014 کو شروع ہوئی تھی،آخر کارپچاس دنوں کی لمبی مدت کے بعدمنگل(26/اگست 2014)کی شام کوحماس -فلسطینی اتھارٹی -اسلامی جہاداور اسرائیل کے درمیان باہمی گفت و شنید کے بعدبند ہو گئی۔ قطرو مصر کی ثالثی میں تیار کیے گئے طویل مدتی معاہدے پر فریقین نے متفق ہو کر جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ اس سے پہلے بھی مصر نے فائر بندی کے لیے ثالثی کا رول ادا کیا تھا ؛ لیکن اس وقت اسرائیل کے سامنے کچھ شرائط نہیں رکھی گئی تھی ؛ بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ پہلے "فائر بندی”، پھر شرائط پر غور و خوض کیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ”حماس” نےاس موقع سے مصر کی ثالثی اور فائر بندی کی پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ: "مصری حکومت کی جانب سے فائر بندی کی جو تجویز پیش کی گئی ہے وہ شکشت خورد اور بزدلانہ ذہنیت کی پیداوار ہے، جسے غیور فلسطینی عوام کسی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔” مگر اس بار معاہدہ پر اتفاق اس لیے ہوسکا کہ "حماس” کی پیش کردہ کچھ اہم شرائط کو اسرائیل نےقبول کیا، پھر جنگ بندی ہو سکی۔

حماس کی طرف پیش کردہ جن اہم شرائط کو اسرائیل نے فوری طور پرقبول کیا ہے ان میں "غزہ” کی تمام سرحدی چوکیوں کا کھولنااورغزہ کے ساحل پر فلسطینی ماہی گیروں کو مچھلیاں پگڑنے کی جگہوں میں 12 بحری میل تک توسیع شامل ہے۔ اس توسیع کے بعد، مچھلی پکڑنے کی جگہ پہلے کے مقابلے میں دو گنی سے بھی ‏زیادہ ہو گئی ہے۔ درمیان جون میں تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور ہلاکت کے بعد گرفتار کیے گئے پچا س فلسطینیوں کی رہائی اور غزہ میں طیران گاہ اور بندرگاہ کی تعمیرکے مطالبات پر، ایک مہینہ بعد ہونے والے مذاکرات میں گفتگو کی جائے گی۔ حماس والوں کی شرائط کی قبولیت کے ساتھ جنگ بندی کو فلسطینیوں نے عموما اور اہالیان غزہ نے خصوصا فتح شمار کیا اور خوشی میں پورے غزہ پٹی میں جشن کاماحول تھا۔ ہر طرف سے”تکبیر ” کی صدائیں بلند ہو رہی تھی۔

ٹائم کی رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کی خبر آتے ہی "حماس” کے ترجمان سمیع ابو زہری نے نیوز کانفرنس میں کہاکہ "ہم غزہ کے لوگوں کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اپنے گھروں، بچوں اور دولت کی قربانی پیش کی۔اپنے مقصد کے حصول کے بعد،اللہ کی مدد سے، آج ہم فتح کا اعلان کرتے ہیں۔ نیتن یاہو اہالیان غزہ کو خود سپردگی کروانے کی کوشش میں ناکام رہا۔ ہاں، ہم نے اسرائیل کو اپنے حوصلہ اور مقابلہ سے شکشت دیا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ہم انھیں نہیں چھوڑ سکتے۔”حماس کےایک دوسرے لیڈرمحمود الزہر نے غزہ میں ہزاروں کےمجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا : "اہالیان غزہ کے لیے اب ہم طیران گاہ اور بندرگاہ بھی بنانے جا رہے ہیں۔ اگر کسی نے ہمارے طیران گاہ اور بندرگاہ پر حملہ کیا تو ہم بھی اس کے طیران گاہ پر حملہ کریں گے۔”

حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں اسرائیل کا جتنا مالی نقصان ہوا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ "حماس” کے ساتھ مذاکرات کرے، جس کو وہ "دہشت گرد” سے تعبیر کرتےتھے اور اچھوت سمجھتے تھے اورساتھ ہی ساتھ ان کی طرف سے پیش کی گئی شرطوں کو قبول کرے۔چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ اسرائیل کو حماس کے نمائندہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے مجبور ہونا پرا۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو اہالیان غزہ کی ایمانی قوت صہیونیوں کو اس بار چین کی نیند میسر نہیں ہونے دیتے اور ان کومالی نقصان کے ساتھ ڈر و خوف کے سائے میں دن و رات گزارنا ہوتا؛ لہذا شکشت خوردگی اور ہزیمت کی صورت میں اسرائیل کو مجبور ہوکر جنگ بندی پر آمادہ ہونا پرا۔

جنگ بندی کی خبر پر اسرائیلی حکومت نے شروع میں شرمندگی سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ پھر بعد میں اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیونے "بی بی سی” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”یہ فائر بندی اسرائیل کابنیادی مقصد اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔یہ معاہدے حماس کوغزہ سے اسرائیل مخالف ساری سرگرمیوں کو ختم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اب اگر ایسا ہوتا ہےاور ہمیں امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا، تو یہ ہماری فتح ہے۔” دوسری طرف جنوبی اسرائیل کی مقامی کونسل کے ‎ہیڈ نے کہا کہ ہم اس جنگ بندی کے معاہدے کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اٹمار شیمونی نے اس معاہدہ کو "دہشت گردوں کے سامنے خود سپردگی "سے تعبیر کیا۔ اس نے مزید کہا کہ”ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ "حماس” والے ہمارے سامنے شکست خوردگی کی حالت میں زندگی کی بھیک مانگنے آئیں؛ لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل مذاکرات کی میز کی طرف دورتے ہوئےجنگ بندی کی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے کو ایک غنیمت سمجھ رہا ہے۔”

بہت سے لوگوں؛ بلکہ کچھ مسلمانوں کا بھی یہ کہنا تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں "حماس” کی کوئی حیثیت نہیں ہے؛ لہذا ان کو خاموشی سے جنگ بندی کی کسی طرح کی بھی پیش رفت کا استقبال کرتے ہوئے محاذ سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سچا پکا مسلمان ہتھیاروں اور فوج کی تعداد پراعتماد نہیں کرتا؛ بل کہ اس پاک پروردگار پر یقین کرتا ہے جس نے اپنے گھر: کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے، ابرہہ کے بہت سے لشکر اور ہاتھی کو سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی ٹکڑیوں کو، چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں ڈال کر برباد و ہلاک کیا تھا۔ پھروہ لوگ یہ کسے بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے غزوہ بدر میں 313 ہوکر بھی 950 مشرکین سے فتح حاصل کی، غزوہ احد میں 700 ہوکر مشرکین کے 3000 کے لشکر کو للکارا، غزوہ خندق صرف 3000 رہ کر بھی 10000 دشمنوں ناکام و نامراد کردیا،غزوہ خیبر میں 1600 کی تعداد میں ہوکر 14000مخالفین کو شکشت دی اور غزوہ موتہ میں 3000 ہوکر بھی ایک لاکھ دشمنوں سے مقابلہ کیا۔ یہ مبارک سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا؛ بلکہ غزوہ حنین، غزوہ یرموک، فتح مکّہ مکرمہ و‏غیرہ کی بھی تاریخ پڑھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ : "اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤاور تم غالب رہوگے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔” (سورہ آل عمران، آیت: 139)

بدقسمتی یہ ہے کہ عالم اسلام کے حکمراں "قضیہ اقصی وفلسطین” کی حساسیت کو سمجھنے کے باوجود بھی اسےسنجیدگی سے نہیں لے رہے، نہیں تو ان ناپاک صہیونیوں کی کیا مجال تھی کہ مسجد اقصی کو ہتھیانے کی ناجائز کوشش کرتا اور فلسطینیوں کے لیے ان کے گھروں کو ہی جیل بنا کر ، ان کی زندگی سے کھلوار کرتا۔ اگر وہ حکمراں ان مسائل کو سنجیدگی سے لیتے تو اس کو حل کرنے کے لیے سالوں سال کی ضرورت نہیں تھی ؛ بل کہ مہینوں اور دنوں میں حل ہوگیا ہوجاتا۔ اللہ ان حکمرانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے!

حماس والوں کا اعتماد و یقین اللہ پر ہے؛ لہذا "حماس” نے اس جنگ میں اسرائیل کے خلاف اپنے حوصلے کا مظاہرہ اس طرح کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی عرب افواج نہیں کرسکی۔ اسرائیل کے چوسٹھ فوجیوں اور چھ شہریوں کو واصل جہنم کرنے میں، حماس کامیاب رہا۔جب کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جسے صہیونیت زدہ میڈیا نے کبھی رپورٹ نہیں کیا۔ مزید یہ کہ غزہ کی سرحد سے متصل غصب شدہ زمینوں پرزبردستی بسنے والے سیکڑوں اسرائیلیوں کو گھر چھوڑ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

اس جنگ میں صہیونی غاصب ریاست اسرائیل نے ہزاروں انسان کا ناحق خون بہایا اور دوسرے ہزاروں لوگوں کو زخمی کرکے ان کی بچی کھچی زندگی کو ایک بوجھ بنا دیا۔ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں مکان و دوکان ، مساجد و مدارس، اسکولس، کالجز اور یونیورسیٹیوں اور درجنوں سے زیادہ بلند و بالا عمارتوں کو زمین بوس کیا ہے۔ کوئی بھی انصاف پسند مورخ جب ہمارے اس دور کی تاریخ رقم کریگا؛ تو بنجامن نیتن یاہو، ایہود اولمرٹ، ایریل شیرون جیسے اسرائیلی حکمرانوں کو انسانیت دشمن ہٹلر، ہلاکو اور چنگیز کےسچے پکے جانشینوں میں شمار کرے گا۔

مڈل ایسٹ مونیٹر (Middle East Monitor) کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردی اورنسل کشی میں اسرائیلی درندوں نے 2145 انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، جس میں 578 بچے، 261 عورتیں اور 102 نہایت ہی معمر اور ضعیف لوگ تھے ؛ جب کہ گیارہ ہزار لوگوں کو زخمی کیا ہے۔اسی طرح اسرائیلی سفاکوں نے زمینی اور فضائی حملوں میں تقریبا 15670 گھروں کو نقصان پہونچایا ہے ، جس میں 2276 گھر مکمل طور پرختم ہوگئے ہیں۔ 190 مسجدوں پر حملہ کیا گیا ہے، جن میں سے 70 مساجد کلی طور پر شہید ہو چکی ہیں۔ 140 اسکولوں پر حملہ ہوا ، جن میں سے 24 اسکولس زمین بوس ہو چکا ہے۔ مکانوں کی تباہی و بربادی کی وجہ سے تقریبا پانچ لاکھ شہری خانہ بدوشوں کی سی زندگی کزارنے پر مجبور ہیں۔ مختصر لفظوں "غزہ” پورے طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ مگر اس تباہی و بربادی کے ساتھ ایک بہت بڑی کامیابی یہ ملی ہے کہ 2007 سے جو "غزہ پٹی” دنیا کا سب سے بڑا جیل بنا ہوا تھا اور اس کے مکیں جو کہ قیدی بنے تھے اب تقریبا مکمل طور پر آزاد ی کی زندگی گزار سکیں گے؛ اس لیے یہ ایک بہت بڑی فتح ہے۔

دارالعلوم دیوبند تجدیدِ دین کی عالم گیر تحریک

 

 

 

از: مولانا محمد اللہ قاسمی

             انیسویں صدی عیسوی میں یوروپی استعمار کی چیرہ دستیوں اور پوری دنیا خصوصاً عالمِ اسلام پر تصرف اور قبضہ سے ایک عالمگیر سیاسی، سماجی اور دینی بحران پیدا ہوچکا تھا۔ یوروپی استعمار اپنے ساتھ عیسائیت اور الحاد وبے دینی کا ایک سیلاب بلا خیز بھی ساتھ لا رہا تھا۔ پورے عالمِ اسلام کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں کی قوتِ فکر و عمل مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور انڈونیشیا سے مراکش تک کے طول وعرض میں کوئی قابلِ ذکر تحریک موجود نہ تھی، جو اس نازک صورتِ حال میں مغربی استعمال اور الحاد کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوجاتی۔ ایسے نازک دور اور عالمگیر سناٹے میں پہلی آواز دیوبند سے اٹھی جو اگرچہ ابتدا میں ہلکی اورنحیف تھی؛ لیکن آہستہ آہستہ وہ الحاد و بے دینی اور ظلم وبربریت کے سناٹے کو چیرتی چلی گئی اور نصف صدی کے اندر اندر پوری دنیا میں اس کا ڈنکا بجنے لگا:

تا ابد گوشِ جہاں زمزمہ زا خواہد بود

زیں نواہا کہ دریں گنبدگردوں زدہ ایم

عالمِ اسلام کی موٴثر ترین دینی تحریک

             یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی حیاتِ اجتماعی کی نشاةِ ثانیہ کی تاریخ میں دارالعلوم کی مسلسل تعلیمی اور تبلیغی جد و جہد کا بڑا حصہ ہے۔ دارالعلوم کی طویل زندگی میں حوادث کے کتنے ہی طوفان الٹے او رحالات و سیاسیات میں کتنے ہی انقلاب آئے؛ مگر یہ ادارہ جن مقاصد کو لے کر عالمِ وجود میں آیا تھا، انتہائی استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ ان کی تکمیل میں سرگرم عمل رہا۔ فکر و خیال کے ان ہنگاموں اور فتنہٴ مغرب میں ڈوبی ہوئی تحریکوں کے دور میں اگر بالعموم مدارس عربیہ اور بالخصوص دارالعلوم جیسے ادارے کا وجود نہ ہوتا تو نہیں کہا جاسکتا کہ آج مسلمان جمود وبے حسی کے کس گردابِ عظیم میں پھنسے ہوئے ہوتے۔ ارشاد و تلقین، تبلیغ و تذکیر، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ خلق کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں دارالعلوم کے فضلامصروفِ عمل نہ ہوں اور ملتِ اسلامیہ کی اصلاح و تربیت میں انھوں نے اہم کردار ادانہ کیا ہو، دعوت و ارشاد اور وعظ و تبلیغ کے بڑے بڑے جلسوں کی رونق اس وقت بر صغیر میں دارالعلوم ہی کے گرامی قدر علماء کے دم سے قائم ہے۔ بڑے بڑے مدارس اسلامیہ کی مسند تدریس کی زینت آج یہی اصحاب ہیں۔

             دارالعلوم دیوبند صرف ایک تعلیم گاہ ہی نہیں؛ بلکہ درحقیقت ایک مستقل تحریک اور تجدید دین کا مرکز ہے جس سے ہندو پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ پورے ایشیا، مشرقی و جنوبی افریقہ اور یورپ و امریکہ کے کروڑہا کروڑ مسلمان وابستہ ہیں اور اسے اپنا علمی و فکری مرکز سمجھتے ہیں۔ الحمدللہ دارلعلوم دیوبند کا علمی و فکری فیض ایشیا سے گزر کر افریقہ، یورپ اور امریکہ تک پہنچ چکا ہے۔ان علاقوں میں دارالعلوم کے فیض یافتہ افراد دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور مرکزی شہروں میں دارالعلوم کے طرز پر اسلامی درس گاہیں کھل چکی ہیں۔

برصغیر میں احیائے اسلام کا مرکز

             دارالعلوم دیوبند نے برصغیر کے مسلمانوں کی دینی زندگی میں ان کو ایک ممتاز مقام پر پہنچانے کا بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، یہ نہ صرف ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارہ ہے؛ بلکہ ذہنی نشو و نما، تہذیبی ارتقا اور ملّی حوصلہ مندیوں کا ایک ایسا مرکز بھی ہے جس کے صحیح علم، بلند کردار اور نیک نیتی پر مسلمانوں کو ہمیشہ بھروسہ اور فخر رہا ہے۔ جس طرح عربوں نے ایک زمانے میں یونانیوں کے علوم کو ضائع ہونے سے بچایا تھا ٹھیک اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے اس زمانے میں علومِ اسلامیہ اور بالخصوص علم حدیث کی جو گراں قدر خدمت انجام دی ہے وہ اسلام کی علمی تاریخ میں ایک زریں کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان میں نہ صرف دینی علوم اور اسلامی قدروں کی بقا و تحفظ کے زبردست اسباب فراہم کیے ہیں؛ بلکہ اس نے تیرہویں صدی ہجری کے اواخر اور چودہویں صدی کی معاشرتی اور سیاسی زندگی پر بھی بہت دوررس اور نتیجہ خیز اثرات ڈالے ہیں۔

             ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جب انگریزوں نے اپنے سیاسی مصالح کے پیش نظر اسلامی علوم و فنون کی قدیم درسگاہوں کو یکسر ختم کردیا تھا، اس وقت ضرورت تھی کہ نہ صرف اسلامی علوم و فنون اور اسلامی تہذیب کی بقا کے لیے؛ بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ایک تحریک شروع کی جائے جو مسلمانوں کو الحاد و بے دینی کے فتنہٴ عظیم سے محفوظ رکھ سکے۔ اس وقت اسلام کے تحفظ کی تمام ذمہ داری علمائے کرام کے کاندھوں پر تھی؛ کیوں کہ اسلامی حکومت کا شیرازہ بکھر چکا تھا ۔ خدا کا شکر ہے کہ علمائے کرام نے اپنا فرض انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور مسلمانوں کی تمام توقعات دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ بدرجہٴ اتم پوری ہوئیں۔

             دارالعلوم دیوبند سے جو افراد فارغ ہوئے انھوں نے تعلیم و تبلیغ، تزکیہٴ اخلاق، تصنیف و تالیف، فقہ و فتاویٰ، مناظرہ وخطابت ، صحافت و تذکیر اور حکمت و طب وغیرہ میں جو بیش بہا خدمات انجام دی ہیں، وہ کسی مخصوص خطے میں محدود نہیں ہیں؛ بلکہ ہندو پاک کے ہرہر خطہ کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی پھیل چکی ہیں۔ دارالعلوم نے اپنے یومِ قیام سے اب تک برصغیر کے کونے کونے اور دنیا بھر کے مرکزی اور بڑے شہروں میں اپنے فرزندانِ رشید کو پہنچادیا ہے جو پورے خطے میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمک رہے ہیں اور مخلوقِ خدا کو ظلمت و جہل سے نکال کر نورِ علم سے مالامال کررہے ہیں۔

             دارالعلوم دیوبند نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے صحیح الفکر علماء و فضلاء پیدا کیے، وہیں مدارسِ اسلامیہ کے وسیع نظام کے ساتھ دین و اسلام کی اشاعت کا سامان بھی پیدا کیا۔ برصغیر کی پچھلی ڈیڑھ سو سالہ دینی و سماجی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی میں سب سے زیادہ مثبت اثر دارالعلوم کی تحریک سے پیدا ہوا ہے اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ حصہ علمائے دیوبند کی علمی و دینی کوششوں کا ہے۔

عالمی دینی تعلیمی تحریک کا مرکز

             ہندوستان میں برطانوی نظامِ تعلیم کے جاری ہونے کے بعد جب یہاں ایک نئی تہذیب اور نئے دور کا آغاز ہورہا تھا تو اس نازک وقت میں دارالعلوم کے اکابر نے دینی تعلیم اور مدارسِ اسلامیہ کے قیام کی تحریک شروع کردی، خدا کے فضل و کرم سے ان کی تحریک مسلمانوں میں مقبول ہوئی؛ چنانچہ برصغیر میں جگہ جگہ دینی مدارس جاری ہوگئے اور ایک وسیع جال کی شکل میں روز بروز وسعت پذیر رہے۔بہت ہی قلیل مدت میں دارالعلوم کی شہرت بامِ عروج کو پہنچ گئی اور بہت جلد دارالعلوم نہ صرف ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش؛ بلکہ افغانستان، وسط ایشیا، انڈونیشیا، ملیشیا، برما، تبت، سیلون اور مشرقی و جنوبی افریقہ، یورپ ، امریکہ و آسٹریلیا کے ممالک کے مسلمانوں کے لیے ایک بین الاقوامی دینی تعلیم کی تحریک کا مرکز بن گیا۔

             اس وقت سے لے کر اب تک برصغیر کے طول و عرض میں بحمداللہ بے شمار دینی مدارس جاری ہوچکے ہیں، اور روز بروز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حتی کہ جو مدرسے دارالعلوم کے مزاج و مذاق سے ہٹے ہوئے ہیں یا دارالعلوم کے نصابِ تعلیم کی اتباع نہیں کرتے ہیں، ان کا نظام بھی دارالعلوم کے وضع کردہ بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج برصغیر میں جس قدر بھی دینی مدارس نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر وہی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے نقشِ قدم پر یا اس کے قائم کردہ اثرات سے جاری ہوئے ہیں؛ اس طرح دارالعلوم دیوبند کا وجود اسلام کی جدید تاریخ میں ایک عہد آفریں حیثیت رکھتا ہے، اور یہیں سے اس وقت پورے برصغیر میں دینی تعلیم گاہوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ہندوستان میں موجود مدارس کا کوئی حتمی اعدا و شمار موجود نہیں؛ تاہم چھوٹے بڑے مدارس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد ہے۔ یہ تعداد ان لاکھوں مکاتب کے علاوہ ہے جو تقریباً ہر مسجد اور مسلم محلہ میں قائم ہوتے ہیں۔

             ہندوستان کے علاوہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے چپے چپے میں بھی اسی نہج پر ہزاروں مدرسے قائم ہیں، جن کے بڑے مدرسوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔پاکستان میں وفاق المدارس کے تحت دس ہزار کے قریب مدراس کا متحدہ پلیٹ فارم بھی قائم ہے جن میں اکثریت دیوبندی مدارس کی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی دینی مدارس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ہند و پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ برصغیر کے قریب دیگر ملکوں جیسے مشرق میں برما، شمال میں نیپال، مغرب میں افغانستان و ایران اور جنوب میں سری لنکاوغیرہ میں بھی کافی مدارس دارالعلوم کے طرز پر قائم ہیں۔ ان مدارس سے ہزاروں علماء ہر سال فارغ ہوکر معاشرہ میں علم کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ براعظم افریقہ کے جنوبی ملکوں خصوصاً ساؤتھ افریقہ میں دارالعلوم کے طرز کے سیکڑوں چھوٹے بڑے مدارس قائم ہیں۔ اسی طرح بر اعظم یورپ میں خصوصاً برطانیہ میں متعدد بڑے دارالعلوم اور مدارس قائم ہیں ۔ بحر انٹلانٹک کے اس پار ریاستہائے متحدہ امریکہ ، کناڈا اور ویسٹ انڈیز میں بھی دارالعلوم قائم ہوچکے ہیں اور دارالعلوم کے نہج پر علوم دینیہ کی تدریس و اشاعت میں مشغول ہیں۔ دوسری طرف مشرق میں آسٹریلیا،فیجی، نیوزی لینڈوغیرہ میں بھی الحمد للہ دارالعلوم دیوبند کے نہج پر مدارس قائم ہیں۔

دفاعِ اسلام کا مضبوط قلعہ

             دین اسلام کے بنیادی عقائد کی حفاظت ، اسلامی افکار و روایات کی پاسداری اور تمام فرقِ باطلہ اور افکارِ فاسدہ سے اسلام کا دفاع دارالعلوم دیوبند کے اکابر اور فضلاء کا طغرائے امتیاز رہا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی استعمار کی نحوست سے مسلمانوں کو نت نئے فتنوں سے واسطہ پڑا، اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کے لیے باطل افکار و فرق کو خوب خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت زوالِ اقتدار کے ساتھ دینی و اخلاقی زوال سے دو چار تھیں ۔ مسلمانوں کے عقائد و افکار میں تزلزل اور اضطراب پیدا ہوچکا تھا۔ اس نازک دور میں جب مسلمان سیاسی جنگ ہار چکا تھا، ایک طرف عیسائیت پوری قوت کے ساتھ حملہ آور تھی، آریہ سماج اور ہندوؤں کی یلغار تھی، تو دوسری طرف خود مسلمانوں کی صفوں سے ایسے افراد اور جماعتیں جنم لے رہی تھیں جو مختلف زاویوں سے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگی تھیں۔

             دارالعلوم دیوبند اپنے روزِ قیام سے اب تک اسلام کے دفاع میں تمام فرقِ باطلہ و افکار فاسدہ کے خلاف سدِ سکندری کی طرح ڈٹا رہا اور حدیث مبارک: یَحْمِلُ ہَذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلْفٍ عَدُوْلُہ یَنْفَوْنَ عَنْہُمْ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِیْنَ وَ تَأوِیْلَ الْجَاہِلِیْنَ، طبرانی (ہر آئندہ نسل میں سے اس علم کے حامل ایسے عادل لوگ ہوتے رہیں گے جو اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کے غلط انتساب اور جاہلوں کی تاویل کو دور کرتے رہیں گے) کے مطابق دینی عقائد و تعلیمات کا بھرپور دفاع کیا اور قرآن وحدیث اور صحابہ و سلف سے آنے والے متوارث دین کو اس کی اصلی حالت میں نئی نسلوں تک پہنچایا۔ علمائے دیوبند کو اس فرض کی انجام دہی میں مختلف محاذوں پر بیک وقت لڑنا پڑا۔

             عیسائیت کا مقابلہ: ہندوستان پر انگریزی تسلط کے بعد عیسائی مشنری برصغیر میں اس زعم سے داخل ہوئی کہ وہ ایک فاتح قوم ہیں، مفتوح قومیں فاتح قوم کی تہذیب کو آسانی سے قبول کرلیتی ہیں۔ انھوں نے پوری کوشش کی کہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے اسلام کے تہذیبی نقوش مٹادیں یا کم از کم انھیں ہلکا کردیں؛ تاکہ بعد میں انھیں اپنے اندر ضم کیا جاسکے اور اگر وہ عیسائی نہ بن سکیں تو اتنا تو ہو کہ وہ مسلمان بھی نہ رہ جائیں۔اس محاذ پر دارالعلوم اور اکابرِ دیوبند نے عیسائی مشنری اور مسیحی مبلغین سے پوری علمی قوت سے ٹکر لی اورنہ صرف علم و استدلال سے ان کے حملے پسپا کردیے؛ بلکہ عیسائی تہذیب اور ان کے مذہبی ماخذ پر کھلی تنقید کی، اس سلسلے میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی خدمات سے علمی دنیا اچھی طرح واقف ہے۔

             ہندو احیاء پرستی کا مقابلہ: غیر منقسم ہندوستان کی غالب اکثریت ایسے مسلمانوں کی ہے جن کے آباء واجداد کسی زمانے میں ہندو تھے۔ انگریزوں نے سیاسی اقتدار پر تسلط جما لینے کے بعد یہاں کے ہندوؤں کو اکسایا کہ یہ مسلمان جو کسی زمانہ میں تمہاری ہی قوم کے ایک حصہ تھے؛ اس لیے اپنی عددی قوت کو بڑھانے کے لیے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی کوشش کرو؛ چناں چہ انگریزوں کی خفیہ سرپرستی میں ”آریہ سماج“ کے ذریعہ مسلمانوں کو مرتد کرنے کی تحریک پوری قوت سے شروع ہوگئی۔اسلام کے خلاف اس فکری محاذ پر حالات سے ادنیٰ مرعوبیت کے بغیر اکابر دارالعلوم نے اسلام کا کامیاب دفاع کیا۔ تقریر و تحریر، بحث و مناظرہ اور علمی و دینی اثر و نفوذ سے اس ارتدادی تحریک کو آگے بڑھنے سے روک دیا؛ بالخصوص علمائے دیوبند کے سرخیل اور قائد و امام حضرت حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اس سلسلے میں نہایت اہم و موٴثر خدمات انجام دیں، برصغیر کی مذہبی و سماجی تاریخ کا ہر معمولی طالب علم حضرت موصوف کی ان خدماتِ جلیلہ سے پوری طرح واقف ہے۔تقسیمِ ہند کے قیامت خیز حالات میں جب کہ برصغیر کا اکثر حصہ خون کے دریا میں ڈوب گیا تھا، اس ہولناک دور میں بھی شدھی و سنگٹھن کے نام سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی ایمان سوز تحریک برپا کی گئی۔ اس موقع پر بھی علمائے دیوبند وقت کے خونی منظر سے بے پروا ہوکر میدان میں کودپڑے اور خدائے رب العزت کی مدد و نصرت سے ارتداد کے اس سیلاب سے مسلمانوں کو بحفاظت نکال لے گئے۔

             قادیانیت کا مقابلہ: الحمدللہ علمائے دیوبند کو یہ فخر حاصل ہے کہ جب ختمِ نبوت کے اس عظیم بنیادی عقیدہ پر یلغار کی گئی اور انگریز کی خانہ ساز نبوت مسلمانوں کوارتداد کی دعوت دینے لگی تو علمائے دیوبند سب سے پہلے پوری قوت کے ساتھ میدان میں آئے اور مسلمانوں کو اس ارتدادی فتنہ سے خبردار کیا۔ اکابر دارالعلوم اور اساطین علمائے دیوبند میدان میں نکلے اور اپنی گراں قدر علمی تصانیف، موثر تقاریر اور لاجواب مناظروں سے انگریزی نبوت کے دجل و فریب کا اس طرح پردہ چاک کیا اور ہر محاذ پر ایسا کامیاب تعاقب کیا کہ اسے اپنے مولد منشاء لندن میں محصور ہوجانا پڑا۔ علمائے دیوبند کے علمی و فکری مرکز دارالعلوم دیوبندکی زیر نگرانی حریمِ ختم نبوت کی پاسبانی کی یہ مبارک خدمت پوری توانائیوں کے ساتھ آج بھی جاری و ساری ہے۔

             شیعیت کا مقابلہ: دارالعلوم ایک ایسے وقت میں قائم ہوا؛ جب کہ انگریزوں نے لکھنوٴ کی شیعی حکومت کا ۱۸۵۷ء میں الحاق کرکے اس کا وجود مٹادیا تھا؛ لیکن اودھ کی شیعی حکومت اورسلطنتِ مغلیہ میں ان کے گہرے اثرات کی وجہ ان کے مذہبی عقائد کی چھاپ پورے ہندوستان پر پڑ گئی تھی۔ پورے ہندوستان میں شیعی عقائد اور ان کے مشرکانہ رسوم غیر شیعہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں اس قدر رچ بس گئے تھے کہ اگر ان کو صحیح طور پر کلمہٴ شہادت بھی ادا کرنا نہ آتا ہو؛ مگر وہ تعزیہ داری اور اس کے ساتھ عقیدت مندی کا والہانہ جذبہ سینوں میں موج زن رکھتے تھے اور اس کو اپنے مسلمان ہونے کی سند سمجھتے تھے۔ حیرت ناک بات یہ تھی کہ شیعہ اتنے بڑے ملک میں سنیوں کے مقابل میں مٹھی بھر تھے؛ لیکن کروڑوں اہل السنة والجماعة مسلمانوں کے دلوں میں شیعوں نے اپنے سارے عقائد و مراسم، جذبات و خیالات کی چھاپ ڈال دی تھی اور پورے ہندوستان کو شیعیت کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ علمائے دیوبند کا یہ قابلِ فخر کارنامہ ہے کہ انھوں نے برصغیر کو شیعوں کے ہمہ گیر اثرات سے پاک کیا اور اہل السنة والجماعة کے عقائد و افکار کی حفاظت و اشاعت کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ علمائے دیوبند نے کتابوں، فتاوی اور بیانات کے ذریعہ امتِ مسلمہ کی بھر پور رہ نمائی فرمائی۔

             شرک و بدعت کا مقابلہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام جب ہندوستان پہنچا تو یہاں کی قدیم تہذیب و تمدن، رسم و رواج، طور و طریق، ذہن و مزاج اور مذہبی تعلیمات و روایات پر اس نے زبردست اثر ڈالا؛ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہندو تہذیب نے بھی مسلم تہذیب کو کم متاثر نہیں کیا ہے۔ یہ اثرات مسلم سماج میں اس طرح پیوست ہوکر رہ گئے کہ آج یہ احساس بھی مٹ گیا کہ یہ رسم و رواج اور طور و طریق اسلامی معاشرہ میں غیر مسلموں سے آئے ہیں۔ یہی نہیں؛بلکہ علمائے سو نے دنیا کمانے کے لیے شرک و بدعت کی تائید میں سامنے آگئے اور انھوں نے مستقل فرقہ کی شکل اختیار کرلی۔ علمائے دیوبند نے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فرض پوری دیانت داری سے ادا کرتے ہوئے پورے ملک میں اہلِ بدعت کا مقابلہ کیا، ان سے مناظرے کیے اور عوام پر حق واضح کیا۔اس سلسلہ میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری، حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ نے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں اور ان کے اخلاف کے ذریعہ اصلاحِ عقائد و اعمال کا یہ مبارک سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

             غیر مقلدیت کا مقابلہ: تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کی تقریباً تمام اہم مسلم حکومتوں نے مذہبِ حنفی کا اتباع کیا اور فقہِ حنفی ہی تمام قوانین و ضوابط کی بنیاد بنا رہا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت مذہبِ حنفی کی پابند تھی۔ پوری مسلم تاریخ میں تقلید سے انحراف، اسلامی روایات سے بغاوت اور سلفِ صالحین سے نفرت و کدورت کا کوئی قابلِ ذکر ثبوت نہیں ملتا؛ لیکن آخری زمانے میں جب سلطنتِ مغلیہ رو بہ زوال تھی اور ہندوستان میں انگریزوں کے ناپاک قدم پڑ چکے تھے، اس وقت نت نئی جماعتوں نے جنم لینا شروع کیا۔ عدمِ تقلید کا فتنہ بھی اسی تاریک زمانے کی پیداوار تھا ۔ اس فرقہ نے بالکل خارجیوں جیسا طریقہٴ کار اپناکر نصوص فہمی کے سلسلہ میں سلفِ صالحین کے مسلَّمہ علمی منہاج کو پسِ پشت ڈال کر اپنے علم و فہم کو حق کا معیار قرار دے کر اجتہادی مختلف فیہ مسائل کو حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درجہ میں پہنچادیا، اور فرد و طبقہ جو اُن کی اس غلط فکر سے ہم آہنگ نہیں تھا، اس کو وہ ہدایت سے عاری، مبتدع، ضال و مضل، فرقہٴ ناجیہ؛ بلکہ دینِ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا۔علمائے دیوبند نے عمل بالحدیث کے نام سے اباحیت، ذہنی آزاد ی اور ہویٰ پرستی کے اس فتنہ کا بھرپور مقابلہ کیا اور غیر مقلدین کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل پر ان حضرات نے عظیم الشان تحقیقی مواد یکجا کردیا۔پچھلی دہائیوں میں عالم عرب خصوصاً سعودی عرب میں تیل کی دولت کے ظہور کے بعد جب اس فتنے نے دوبارہ نہایت شد و مد کے ساتھ بال و پر نکالنے شروع کیے اور عرب کی سلفی و وہابی تحریک سے ہم آہنگ ہو کر اور وہاں سے مالی امداد پا کر ہندوستان میں دوبارہ افتراق بین الامت کی کوششیں شروع کیں تو پھر علمائے دیوبند میدان میں آگئے اور انھوں نے علم و تحقیق کی سطح پر غیر مقلدین کی ہفوات کا جواب دینے کے ساتھ پورے ملک میں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ عوام کو اس فتنہ سے باخبر کیا۔

             نیچریت اور غیر اسلامی افکار و خیالات کا مقابلہ: اٹھارہویں صدی میں یورپ سے اٹھنے والے اقتصادی اور سائنسی انقلاب میں جہاں سماجی و سیاسی اور تجارتی و اقتصادی سطح پر بہت ساری مثبت تبدیلیاں وجود میں ا ٓئیں، وہیں مذہبی دنیا میں اس نے کہرام بپا کر دیا۔ یورپ کا سائنسی انقلاب در اصل مذہب یعنی عیسائیت سے بغاوت ہی کے بعد وجود میں آیا تھا؛ کیوں کہ عیسائیت علم و سائنس کی ترقیات کے راستے میں رکاوٹ تھی۔ یورپ کے مذہب بیزار انقلابیوں نے بالآخر مذہب کو فعال اور معاشرتی زندگی سے نکال کر، اسے چرچوں اور انفرادی زندگیوں تک محدود کردیا۔ مذہب کو ناکارہ، فرسودہ اور از کاررفتہ سمجھ کر زندگی کے ہر گوشے کو سیکولزم (لامذہبیت یا مذہب بیزاری) اور تعقل کے پہلو سے دیکھنے اور پرکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسلمانوں میں پیدا ہونے والے اس عقل پرست نے جہاں ایک طرف جدید معتزلہ اور نیچری پیدا کیے، وہیں اسی فکر کے پیٹ سے انکار حدیث کے فتنہ نے جنم لیا۔ اخیر زمانے میں تجدید پسندی اور مودودیت بھی اسی فکر کا شاخسانہ تھے۔ علمائے دیوبند نے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور اسلامی حدود کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ان باطل افکار و خیالات سے بھی ٹکر لی۔ انھوں نے دین کے صحیح فہم، اسلامی اصطلاحات و روایات کی سلیم تعبیر اور ہر دور میں اسلامی تعلیمات کی ابدی حقانیت و معنویت کو ثابت کیا۔

             ان تمام تحریکات کے علاوہ جب بھی کسی فرد یا جماعت نے ما انا علیہ واصحابی کے جادہٴ مستقیم سے انحراف کیا اور ملتِ اسلامیہ کے اندر غلط افکار و نظریات کے سرایت کر جانے کا اندیشہ ہوا تو دارالعلوم کی جانب سے ہمیشہ ان پر نکیر کی گئی۔ غلط عقائد کا سدِ باب کیا گیا اور اس کی جگہ صحیح و متوارث اسلام پیش کرنے کی خدمات انجام دی گئیں۔ علمائے دیوبند کی انھیں مبارک کوششوں سے الحمد للہ! آج ہندوستان میں دینِ اسلام اپنی پوری صحیح شکل میں نہ صرف موجود ہے؛ بلکہ مدارسِ اسلامیہ، جماعتِ تبلیغ اور دینی اداروں کی برکت سے آج ہندوستان عالم اسلام کے اندر مستند دینی تعلیمات اور صحیح اسلامی روایات کے تحفظ و اشاعت میں سب سے ممتاز نظر آتا ہے۔

مرکزِ تجدید و احیائے دین

             انیسویں صدی کے استعماری دور میں اکابرِ دیوبند نے اپنی علمی و دینی بصیرت سے اس حقیقت کا پورا ادراک کرلیا کہ سماجی و اقتصادی تبدیلیاں جب اقتدار کے زیر سایہ پروان چڑھتی ہیں تو دینی و روحانی قدروں کی زمین بھی ہل جاتی ہے، اس باب میں عثمانی ترکوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترک قوم مغربی تہذیب کے طوفان میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی اور مصطفی کمال کی قیادت میں اپنے ماضی سے کٹ گئی جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ ترک اسلامی تہذیب، مغربیت میں فنا ہوگئی اور ایک عظیم اسلامی سلطنت کا صفحہٴ ہستی سے وجود ختم ہوگیا۔الغرض! تہذیبِ اسلام کے لیے یہ نہایت نازک وقت تھا۔ تاریخ کے اس انتہائی خطرناک موڑ پر اکابرِ دیوبند کے سامنے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ اسلامی تہذیب کو مغربیت کے اس سیلاب سے محفوظ رکھا جائے اور مسلمانوں کے دین و مذہب کا تحفظ کرکے انھیں ارتداد سے بچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے پوری بیدار مغزی و ژرف نگاہی سے ہر اس محاذ کو متعین کیا، جہاں سے مسلمانوں پر فکری و عملی یلغار ہوسکتی تھی اور پھر اپنی بساط کی حد تک حکمت و تدبر کے ساتھ ہر محاذ پر دفاعی خدمات انجام دیں۔

             اپنی ایک ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں دارالعلوم نے ہندوستانی مسلمانوں کو جہاں ایک طرف سماجی زندگی کا ترقی یافتہ شعور دیا ہے، تو دوسری طرف انھیں فکر و عمل کا توازن بخشا ہے، آج مسلمانوں کا جو طبقہ اسلامی نظریات کی معقول تعبیر ، اسلامی افکارکی اطمینان بخش توجیہ اور صحیح اسلامی زندگی اختیار کیے ہوئے ہے، وہ دارالعلوم کی زائد از سوسالہ علمی و عملی جد و جہد کا نتیجہ ہے۔عام روایات کے برخلاف یہاں کا مذہبی رجحان کبھی رجعت پسند نہیں رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دارالعلوم ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جو قدیم و جدید کے حسین سنگم پر قائم ہے اور جس کی اپنی شان دار روایت اس کے تابناک ماضی کی نقیب اور اس کے عظیم مستقبل کی پیامبر ہے۔

             حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے دارالعلوم دیوبند کی ہمہ جہت خدمات کو ’تجدیدِ دین‘ کا عنوان دیتے ہوئے لکھا : ”تجدید و احیائے دین کی جو تحریک گیارہویں صدی سے ہندوستان کو منتقل ہوئی تھی اور اپنے اپنے دور میں مجدد الفِ ثانی، (شاہ ولی اللہ )محدث دہلوی اور شہید بالا کوٹ (سید احمد شہید) جس امانت کے حامل تھے، دارالعلوم دیوبند اسی وراثت وامانت کا حامل تھا۔ لوگ دارالعلوم کو مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں؛ کوئی اسے علومِ اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے، کوئی اسے جہادِ حریت کے مجاہدین کی تربیت گاہ قرار دیتا ہے، کوئی اسے دعوت و عزیمت اور سلوک و تصوف کا مرکز سمجھتا ہے؛ لیکن میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کے لفظوں میں اس کو ”بقائے اسلام اور تحفظ دین کا ذریعہ“ سمجھتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجددینِ امت کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا، دارالعلوم دیوبند اپنے دور کے لیے مجددینِ امت کی تربیت گاہ تھی۔ یہیں سے مجددِ اسلام حکیم الامت حضرت تھانوی نکلے۔ اسی سے دعوت و تبلیغ کی تجدیدی تحریک ابھری جس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہیں سے تحریکِ حریت کے داعی تیار ہوئے، یہیں سے فرقِ باطلہ کا توڑ کیا گیا۔ یہیں سے محدثین، مفسرین، فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی۔ مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہٴ روزگار شخصیات تیار کیں؛ بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید و احیائے کے لیے عظیم الشان اداروں کو جنم دیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند کو اگر تجدید و احیائے دین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہو گا۔ (ماہنامہ الرشید ساہیوال پاکستان ، دارالعلوم دیوبند نمبر ، 1976، ص 667 )

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 7‏، جلد: 98 ‏، رمضان المبارك 1435 ہجری مطابق جولائی 2014ء

فتاوی ندوة العلماء …. ايک تعارف

منورسلطان ندوي

(رفيق دارالافتاء،دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو)
عام طور پر دارالعلوم ندوة العلماءکا اصل امتيازاورشناخت سيرت وتذکرہ،عربی زبان وادب،اور مستشرقين کا رد سمجھاجاتاہے،بلکہ علمی حلقوں ميں بھی انہی موضوعات ميں ندوہ کا تفوق تسليم کياجاتاہے،اس کا مطلب يہ نہيں ہے کہ ديگرموضوعات سے ندوہ اوراہل ندوہ کا تعلق کمزوررہاہے، قرآن ،حديث،فقہ وفتاوی،علم کلام اورديگرتمام دينی علوم سے ہردينی ادارہ کا تعلق فطری اورلازمی ہے،اس سے انکار دراصل حقيقت سے آنکھيں چرانا ہے ، قرآنيات،حديثيات،فقہ وفتاوی کے موضوع پرابناءندوہ کی علمی خدمات بڑی گراں قدرہيں،بطورخاص فقہ کے موضوع پرندوہ کی خدمات نہ صرف يہ کہ بہت اہم ہيں بلکہ کئی لحاظ سے ديگر اداروں کی فقہی خدمات پرانہيں تفوق بھی حاصل ہے۔

فقہ وفتاوی کے ميدان ميں ندوہ کا تفوق وامتياز

راقم اپنے محدودمطالعہ کی روشنی ميں يہ کہہ سکتاہے کہ فقہ کے حوالہ سے ندوہ کی چند ايسی عظيم خدمات ہيں کہ جن کے بغيرہندوستان ميں فقہ کی تاريخ نامکمل سمجھی جائے گی۔
فقہ کے حوالہ سے ندوة العلماءکی سب سے بڑی خدمت يہ ہے کہ جديد مسائل ميں غوروفکرکی دعوت کی صدا پورے برصغير ہندوپاک ميں سب سے پہلے اسی ادارہ سے بلند کی گئی،يہ فکر مفکر اسلام حضرت مولاناؒ نے اس وقت عالم اسلام کے سامنے پيش فرمائی جب مصر کے سواکہيں بھی اس سلسلہ ميں سوچا نہيں جارہا تھا،تاريخ کے اوراق کوذراپلٹئے:جامع ازہر مصرميں سب سے پہلے جديد مسائل کواجتماعی طورپرحل کرنے کی طرف توجہ ہوئی اور1961ءميں ا س مقصد کے لئے جامع ازہر میں مجمع البحوث الاسلاميہ کا قيام عمل ميں آيا،اس کے بعد اسی ادارہ ميں1963ءميں مفکراسلام حضرت مولاناؒ کے ايما پرآپ کی سرپرستی ميں مجلس تحقيقات شرعيہ قائم ہوئی جس ميں ہندوستان کے چوٹی کے اہل علم واصحاب فکر شامل تھے۔ اس کے بعد 1970ءميں ادارہ مباحث فقہيہ ،جمعیت علمائے ہند،1979ءميں مکہ مکرمہ کی فقہ اکيڈمی’ مجمع الفقہ الاسلامی ‘1984ءميں بين الاقوامی فقہ اکيڈمی ’المجمع الفقہی الاسلامی جدہ‘ اور پھر 1988ءميں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی محنت وتوجہ سے ’اسلامک فقہ اکيڈمی انڈيا‘کا قيام عمل ميں آيا،اس طرح نئے پيش آمدہ مسائل کے اجتماعی حل کی صدا لگانے اوراس کا نقش اول قائم کرنے ميں بھی ندوة العلماءکو فوقيت حاصل ہے،اورندوة العلماءبجا طور پراس پرفخرکر سکتاہے۔
ندوة العلماءکی فقہی خدمات کی دوسری جہت يہاں کا دارالافتاء ہے،جو سوسے زائد بہاريں ديکھ چکاہے،يہ ہندوستان کے چند قديم ترين دارالافتاءميں سے ايک ہے،ہندوستان ميں فتاوی کی تاريخ بہت قديم ہے،بيسويں صدی عيسويں ميں برصغيرميں فتاوی نويسی کی طرف بڑی توجہ ہوئی،شخصی فتاوی کے ساتھ يہاں کے مرکزی تعليمی اداروں ميں بھی فتاوی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ چنانچہ1304 ھ ميں دارالعلوم ديوبند ميں دارالافتاءقائم ہوا،اس کے بعد ہی 1313ھ ميں يعنی قيامِ ندوہ کے دوسرے سال يہاں دارالافتاء کا قيام عمل میں آیا۔ مظاہر علوم سہارنپورميں دارالافتاء کا باضابطہ قيام 1338ھ ميں ہوا،اور1921ءميں امارت شرعيہ بہارکاقيام عمل ميں آيا،جس کے شعبہ جات ميں دارالافتاءبھی تھا۔ فتاوی کومحفوظ کرنے کی طرف توجہ سب سے پہلے مظاہرعلوم ميں ہوئی،1327ھ سے يہاں کاريکارڈمحفوظ ہے،جبکہ دارالعلوم ديوبند ميں نقل رکھنے کاآغاز1329ھ میں شروع ہوا،اورامارت شرعيہ ميں روز اول سے اہتمام ملتا ہے(علماءمظاہرعلوم اوران کی علمی وتصنيفی خدمات جلد اول ص:۵۳۳)اس طرح ندوة العلماءکا دارالافتاءتاريخی اعتبارسے ديوبند کے بعد سب سے قديم ہے۔ سنہ قيام1313ھ سے موجودہ ہجری سنه1433ھ کے درميان ايک سوبيس سال ہوتے ہيں،اتنی طويل مدت تک فتوی نويسی کی خدمت انجام دينا خودايک تاريخی ريکارڈ ہے۔
تيسراامتيازی وصف يہ ہے کہ برصغير ہندوپاک بلکہ شايدايشياميں فقہی موضوع پرتحقيقی کام کی وجہ سے فيصل ايوارڈ پانے کا سہرااسی ادارہ کے فرزندارجمند جناب ڈاکٹرعلی احمدندوی کے سرہے ،آپ کو2004ءميں مشترکہ طورپرفيصل ايوارڈ سے نوازا گيا۔

دارالافتاءندوة العلماءکا قيام

1892ءمطابق 1310ھ کومدرسہ فيض عام کانپورکی چٹائی پرندوہ العلماءکی تشکيل عمل ميں آئی ،اس کے پہلے ناظم مولانالطف اللہ علی گڑھی کے مايہ ناز شاگرد مولانا محمدعلی مونگيری منتخب ہوئے، 1894ءمطابق1311ھ کوکانپورميں ندوة العلماءکا پہلا اجلاس منعقد ہوا،اس کے دوسرے اجلاس ميں ہی مولانا سيد محمد علی مونگيری نے دارالافتاءکے قيام کی تجويز پيش کی ، پھر1313ه کی مجلس انتظاميہ ميں دارالافتاءکی اہميت وضرورت پرايک موثر تقرير فرمائی،آپ کی يه تجويز منظورہوئی اور دارالافتاءکا قيام عمل ميں آيا۔
ندوة العلماءکے پانچويں اجلاس ميں ناظم ندوة العلماءمولانا سید محمد علی مونگیریؒ نے جو رپورٹ پيش کی اس سے ندوہ کے دارالافتاءکی مرجعيت اورفعاليت کا اندازہ ہوتا ہے،آپ نے فرمايا”امسال 1565استفاءات کے جواب دےئے گئے جن ميں ۷۴فتوی نہايت مشکل اورپيچيدہ تھے،ان کے علاوہ ۲۲مسئلوں کی بطورخاص تحقيق کی گئی (تاريخ ندوة العلماءجلد اول ص: 204

ندوة العلماءکے مفتيان کرام

تاريخ ندوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ندوہ ميں فتاوی نويسی کا کام مولانا لطف اللہ علی گڑھی کی سرپرستی ميں شروع ہوا ، اس کے ايک سال بعد ہی يہ ذمہ داری آپ کے آخری شاگردمولانا مفتی عبداللطيف سنبھلی رحمانی کے حوالہ کی گئی،ان کے بعد مولانا شبلی فقيہ جيراجپوری اس عہدہ پر فائز ہوئے،ان کے بعد مفتی سعيد ندوی 1955ء تک اس خدمت کوانجام ديتے رہے،آپ کے انتقال کے بعد مفتی محمد ظہورندوی دامت برکاتہم فتوی نويسی کی اس اہم اور نازک ترين ذمہ داری کوانجام دے رہي ہيں۔
استاذ حديث مولانا ناصرعلی ندوی اسی سلسلہ کی ايک اہم کڑی تھے،طويل عرصہ تک تدريس کے ساتھ دارالافتاءکواپنی علمی فقہی ذوق اوربصيرت سے مستفيد کرتے رہے،يہاں تصويب کے ساتھ فتاوی نويسی اوردارالافتاءکی نگرانی ان تمام فرائض انجام کوانجام ديتے رہے،معاون مفتيان کرام کے فتاوی کی نظرثانی کا کام بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کرتے تھے،اس سلسلہ ميں آپ کی تربيت اوراصلاح کا انداز نرالا تھا،آپ کی ذات سے دارالافتاءکی رونق تھی،دارالعلوم کے طلبہ ميں فقہی ذوق پيدا کرنے اوريہاں کے ماحول ميں فقہ کا عمومی مزاج بنانے ميں آپ کی خاموش کوششوں کوہميشہ ياد رکھاجائے گا۔
ابتدائی دورکے مفتيان کرام کی فقہی مہارت اورفقہ وحديث سے اشتغال کی گواہی ندوة العلماءکے سابق ناظم حضرت مولانا عبدالحی حسنیؒ نے دی ہے،جس کی صراحت نزہة الخواطر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

دارالافتاءکی تنظيم نو

جيساکہ اوپربيان ہوا کہ ندوہ العلماءکا دارالافتاء1313ھ ميں قائم ہوا ،اور ابتداء ہی سے اس کومسلمانوں کی طرف سے اعتماد اورمرجعيت حاصل رہا ، اوراس وقت سے اب تک يہ شعبہ مسلمانوں کی دينی وشرعی رہنمائی کی خاموش خدمت انجام دے رہا ہے،ليکن اس فعاليت کے ساتھ يہاں سے صادر ہونے والے فتاوی کو محفوظ رکھنے کی طرف خاطرخواہ توجہ نہيں ہوسکی ۔ بعض فتاوی محفوظ بھی کئے گئے ،مگر اس کا پورا اہتمام نہيں ہو سکا ، مولانا خطيب ندوی بنگش اور مولانا اقبال احمد قاسمی بھيروی نے سن 1960ء کے قريب فتاوی کومحفوظ کرنے کی کوششيں کيں،مگريہ سلسلہ بھی جاری نہ رہ سکا ۔
1412ھ ميں جب المہعدالعالی للقضاءوالافتاءکا قيام عمل ميں آيا،اس وقت مفکراسلام حضرت مولانا سيدابوالحسن ندویؒ کے مشورہ سے مولانا سلمان الحسينی ندوی نے اپنی فکررسان اورعمل پيہم سے اس شعبہ کوبڑامتحرک وفعال اورمنظم کيا،لکھنو ميں دارالقضاءکا قيام اورپھر چندسالوں بعد دارالقضاءکی شہرسے احاطہ دارلعلوم ميں منتقلی مولاناسلمان الحسينی ندوی کی جدوجہد کا ثمرہ ہے،دارالعلوم کے فقہی شعبوں بطورخاص دارالافتاء،دار القضاء،تدريب افتاءکوالمہعدالعالی کے تحت رکھا گيا،جس کے صدر مفتی ندوة العلماءمفتی محمد ظہور ندوی اورسکريٹری مولانا سلمان حسينی ندوی مقرر ہوئے،ان حضرات کے ساتھ اساتذہ کی ايک ٹيم شامل تھی،جن ميں مولانا ناصرعلی ندویؒ،مولانا محمد طارق ندویؒ، مولانا محمد ظفر عالم ندوی اورمولانا محمد مستقيم ندوی خاص طورپرقابل ذکرہيں،بعدميں دارالافتاءاوردارالقضاءکے عملہ ميں مزيد افراد کا اضافہ ہوا۔

فتاوی کا ريکارڈ

ندوة العلماء کا دارالافتاءاپنے قيام کے پہلے دن سے ہنوز اب تک مسلمانوں کی دينی وشرعی رہنمائی کی خاموش خدمت انجام دے رہا،تاہم بعض اسباب کی بناءپر يہاں سے جاری ہونے والے فتاوی کے محفوظ رکھنے پر زيادہ توجہ نہيں ہوسکی،جس کی وجہ سے فتاوی کا بہت بڑا سرمايہ محفوظ نہيں رہ سکتا ، المعہد العالی للقصاءوالافتاءکے قيام کے بعد اس طرف خاطر خواہ توجہ دی گئی،اور اس طرح 1411ھ سے تک اب تک کے سارے فتاوی کے نقول دارالافتاءکے ريکارڈ ميں محفوظ ہيں، ريکارڈ کے مطابق 1411ھ سے امسال1432ھ تک کل بائيس سالوں ميں 30ہزار سے زائد فتاوے جاری ہوچکے ہيں،اس سے اندازہ لگاياجاسکتا ہے کہ اگرشروع سے ہی ريکارڈ محفوظ کرنے کی توجہ ہوتی تواب تک بلا مبالغہ يہ تعدادلاکھوں ميں ہوتی۔

ترتيب و تحقيق

2004ءميں فتاوی کی ترتيب کی کوشش شروع ہوئی،اورابتدائی طورپريہ ذمہ داری اس وقت کے تدريب افتاءکے طلبہ کے سپرد کی گئی،2005ءميں باضابطہ طورپرفتاوی کی ترتيب وتحقيق کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی۔ جو محض حضرت ناظم صاحب دامت برکاتہم کی شفقت وعنایت اور ایک حقیر وکوتاہ علم طالب علم کی حوصلہ افزائی اور اس کی تربیت کا مظہر ہے۔راقم نے فتاوی کی عام ترتيب کے مطابق ابواب اورمسائل کی فہرست بنائی اورکام شروع کيا،سب سے پہلے عقائد اورايمانيات اور بدعات کے ابواب کی ترتيب ہوئی،اس کے بعد علم ،طہارت ، اور صلاة پرکام شروع ہوا،فتاوي كي موجوده جلد مين علم ،طہارت اور کتاب الصلاة کے دوابواب :اوقات صلاة اوراذان واقات ہيں، اس ميں فتاوی کی کل تعداد575ہے،اس طرح اندازہ ہوتاہے کہ مکرارات حذف کرکے بھی فتاوی کا انتخاب دس سے زائد جلدوں ميں آسکے گا،جوانشاءاللہ اردو فتاوی کے سرمايہ ميں قابل قدراضافہ ہوگا،اورجس سے ندوة العلماءکی فقہی خدمت کی ايک نئی جہت بھی سامنے آسکے گی۔
ترتيب ميں اس بات کا خيال رکھا گياہے کہ سوالات ميں تکرار نہ ہو،چنانچہ ايک موضوع پرايک سے زائد فتاوی کو حذف کردياگيا،اگرايک مسئلہ پرالگ الگ مفتيان کرام کے فتاوی ہيں توانہيں باقی رکھا گيا ہے،اورسوال مثل بالا سے اس کی صراحت کی گئی ہے،اصل فتاوی ميں جوعبارتيں آئی ہيں ،انہيں اصل کتابوں سے ملايا گيا ہے،تاکہ عبارتوں کی تصحيح ہوجائے ، اور جو فتاوی حوالوں سے خالی تھے ان ميں حوالوں کااضافہ حاشيہ ميں کيا گيا ہے،اگر مسئلہ سے متعلق حديث ميں رہنمائی ملتی ہے توحاشيہ ميں سب سے پہلے حديث کوجگہ دی گئی ہے،اس کے بعد فقہ کی عبارتيں پيش کی ہيں، اس پورے فتاوی اورحوالہ جات کی نظرثانی مولانا مفتی ظہورندوی دامت برکاتہم نے فرمائی ہے۔
دارالافتاءميں جو سوالات آتے ہيں،ان کے جوابات اسی وقت مطلوب ہوتے ہيں ، مفتےان کرام کے سامنے فی الفورشريعت کی روشنی ميں رہنمائی مد نظرہوتی ہے،اورچونکہ عموماسوالات عام لوگوں کی طرف سے ہوتے ہيں اس لئے فتوی ميں مسئلہ کے حل پراصل توجہ ہوتی ہے،دلائل اوراحاديث وفقہی کتب کی عبارتيں پيش کرنے سے گريز ہی کیا جاتا ہے،ہمارے سامنے اسی طرح کے جوابات تھے،جوعمومااختصاراورايجاز کا پہلولئے ہوئے تھے، بطورخاص حضرت مفتی صاحب کے جواب انتہائی مختصرمگر فقہی بصیرت کے حامل ہوتے ہيں،انہی جوابات کومرتب اورقدرے مدلل اندازميں پيش کرنے کی ےہ ايک جستجوہے۔
فتاوی کی ترتيب ناظم ندوة العلماءحضرت مولانا سيدمحمدرابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کی رہين منت ہے،کہ آپ نے ہی اس کی طرف توجہ فرمائی ،آپ کے اورمعتمد تعليمات حضرت مولانا سيد محمد واضح رشيد حسنی ندوی کے مشورہ وايماءپرناظرعام مولانا حمزہ حسنی ندوی دامت برکاتہم نے فتاوی کی ترتيب وتحقيق اوراس کی اشاعت سے پوری دلچسی لی،اگران حضرات کی توجہ اوردلچسپی نہ ہوتی تويہ خواب شرمندہ تعبيرنہ ہوتا

فتاوی کے امتيازات

ان فتاوی کی قدروقيمت تواس فن کے ماہرين بتائيں گے،تاہم اس حقيقت کے اظہارميں کوئی حرج نہيں کہ ندوة العلماءکے فتاوی کئی لحاظ سے ممتاز ہيں،جن ميں سب سے اہم فکر اور اظہار رائے میں اعتدال اور میانہ روی ہے، جو تحریک ندوہ کا امتیاز رہا ہے۔ چنانچہ یہ رنگ ان فتاوی ميں پوری طرح نماياں نظر آتا ہے،عقائد کا باب توشايداس سلسلہ کا شاہکار ہے ، دوسرے مکاتب فکر پرحکم لگانے ميں اس قدراحتياط کم ہی فتاوی ميں ملے گی، جن لوگوں کی تکفيروتفسيق پرعموما اہل فتاوی متفق ہيں وہاں بھی دارالافتاء ندوة العلماءسے يہی لکھا جاتا ہے کہ اگران کے عقائد اس اس طرح کے ہوں تووہ دين سے خارج ہيں،يا ايسے لوگ دين کے بنيادی اصول کے منکرہوں گے۔
اس اعتدال کی ايک جھلک امامت سے متعلق فتاوی ميں بھی نظرآتی ہے،مصليان اگرامام صاحب سے ناراض ہوں توامام کی ہرچھوٹی بڑی بات کوموضوع بناتے ہيں اوراس کے بارے ميں فتوی طلب کرتے ہيں،ايسے مسائل ميں يہاں بہت احتياط برتی جاتی ہے،ساتھ امام کی حيثيت نماياں کی جاتی ہے ،جديد مسائل پررائے قائم کرنے ميں بھی احتياط کياجاتاہے،اور پورے غور و فکر کے بعد ہی جواب دياجاتاہے۔
دعا ہے کہ فقہ وفتاویٰ کا یہ کارواں ترقی کی طرف گامزن رہے اور سالار کارواں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کا سایہ عاطفت تادیرملت اسلامیہ ہند پر قائم رہے۔

دُعا موٴمن کا عظیم ہتھیار

محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض
(www.najeebqasmi.com)

دعا کی حقیقت:
دُعا کے لغوی معنی ہیں پکارنا اور بلانا، شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے حضور التجا اور درخواست کرنے کو دعا کہتے ہیں۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہُ مُنِیْباً اِلَیْہِ (سورة الزمر: ۸) جب انسان کوتکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کوپکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺنے دعا کو عبادت کی روح قرار دیا ہے: الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ (ترمذی ۔ باب ماجاء فی فضل الدُعاء) یعنی دُعا عبادت کی روح اور اس کا مغز ہے۔ نیز حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: الدُّعَاءُ ہُوَ الْعِبَادَةُ (ترمذی۔ باب ماجاء فی فضل الدُعاء) دُعا عین عبادت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام وصالحین کی دعاوٴں کا ذکر اپنے پاک کلام (قرآن کریم) میں متعدد مرتبہ فرمایا ہے۔

دُعا کی ضرورت:
ہر شخص محتاج ہے اور زمین وآسمان کے سارے خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہیں، وہی سائلوں کوعطا کرتا ہے، ارشاد باری ہے: وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ (سورة محمد:۳۸) اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو۔ انسان کی محتاجی اور فقیری کا تقاضہ یہی ہے کہ بندہ اپنے مولیٰ سے اپنی حاجت وضرورت کو مانگے اور اپنے کسی بھی عمل کے ذریعہ اللہ سے بے نیازی کا شائبہ بھی نہ ہونے دے کیونکہ یہ مقام عبدیت اور دعا کے منافی ہے۔

دُعا کی اہمیت:
دعا کی اہمیت کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہٴ فاتحہ میں اپنے بندوں کو نہ صرف دُعا مانگنے کی تعلیم دی ہے بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ نیز ارشاد باری ہے: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ، اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ، فَلْیَسْتَجِیْبُوا لِیْ وَلْیُوْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ۔ (سورة البقرة: ۱۸۶) (اے پیغمبر) جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں تو (فرمادیجئے کہ) میں قریب ہی ہوں، جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ غرضیکہ دعا قبول کرنے والا خود ضمانت دے رہا ہے کہ دعا قبول کی جاتی ہے، اس سے بڑھ کر دعا کی اہمیت کیا ہوسکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے بندوں کوحکم دیتے ہوئے فرمایا: وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ (سورة الموٴمن: ۶۰) تمہارے پروردگار نے کہا کہ تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

حضور اکرم ﷺنے بھی نہ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، بلکہ اس کے فضائل اور آداب بھی بیان فرمائے ہیں، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: لَیْسَ شَیْءٌ اَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَاءِ (ابن ماجہ ۔ باب فضَل الدُعاء) اللہ کے یہاں دعا سے زیادہ کوئی عمل عزیز نہیں ہے۔ یعنی انسانوں کے اعمال میں دُعا ہی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت وعنایت کوکھینچنے کی سب سے زیادہ طاقت ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: مَنْ فُتِحَ لَہُ مِنْکُم بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَہُ اَبْوَابُ الرَّحْمَةِ۔۔۔۔۔۔ (ترمذی) تم میں سے جس کے لئے دُعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندہ اس سے عافیت کی دُعا کرے۔

حضور اکرم ﷺنے دُعا کوموٴمن کا خاص ہتھیار یعنی اس کی طاقت بتایا ہے، (الدُّعَاءُ سِلاحُ الْمُوْمِنِ) (رواہ ابویعلی وغیرہ)۔ دُعا کو ہتھیار سے تشبیہ دینے کی خاص حکمت یہی ہوسکتی ہے کہ جس طرح ہتھیار دشمن کے حملہ وغیرہ سے بچاوٴ کا ذریعہ ہے، اسی طرح دعا بھی آفات سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پروردگار میں بدرجہ غایت حیا اور کرم کی صفت ہے، جب بندہ اس کے آگے مانگنے کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے تواس کوحیا آتی ہے کہ ان کوخالی ہاتھ واپس کردے، یعنی کچھ نہ کچھ عطا فرمانے کا فیصلہ ضرور فرماتا ہے۔ (سنن ابی داوٴد) حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد درحقیقت سائل کے لئے اُمید کی کرن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے جومانگنے والوں کوکبھی محروم نہیں کرتا اور بندہ کی مصلحت کے مطابق ضرور عطا کرتا ہے۔

قرآن وحدیث سے جہاں دُعا کی اہمیت وفضیلت اور پسندیدگی معلوم ہوتی ہے، وہیں احادیث میں دُعا نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی بھی وعید آئی ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مَنْ لَمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضِبْ عَلَیْہِ (ترمذی۔باب ماجاء فی فضل الدعاء) جوبندہ اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی نہیں ہے جو سوال نہ کرنے سے ناراض ہوتا ہو، حتی کہ والدین بھی اولاد کے ہروقت مانگنے اور سوال کرنے سے چڑھ جاتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ جوبندہ اس سے نہ مانگے وہ اس سے ناراض ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دُعا نہ کرنا تکبر کی علامت ہے اور مانگنے پر اسے پیار آتا ہے۔

دُعا کے چند اہم آداب:
دعا چونکہ ایک اہم عبادت ہے، اس لئے اس کے آداب بھی قابل لحاظ ہیں۔ حضور اکرم ﷺنے دُعا کے بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں، دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ان کا خیال رکھے۔احادیث میں دعا کے لئے مندرجہ ذیل آداب کی تعلیم فرمائی گئی ہے، جن کو ملحوظ رکھ کر دُعا کرنا بلاشبہ قبولیت کی علامت ہے، لیکن اگرکوئی شخص کسی وقت بعض آداب کو جمع نہ کرسکے توایسا نہ کرے کہ دُعا ہی کوچھوڑ دے، دعا ان شاء اللہ ہرحال میں مفید ہے۔ آداب دعا میں بعض کورکن یا شرط یا واجب کا درجہ حاصل ہے، جبکہ کچھ چیزیں مستحبات دعا کے زمرہ میں آتی ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن سے دعا کے موقع پر منع کیا گیا ہے، جومنہیات ومکروہات دُعا کہلاتی ہیں، جو حسب ذیل ہیں:

دعا کے چند اہم ارکان، شرائط اور واجبات :
۱) اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ دُعا کرنا، یعنی یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری ضرورتوں کوپوری کرنے والا ہے، ارشاد باری ہے: فَادْعُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (سورة الموٴمن:۱۴) تم لوگ اللہ کو خالص اعتقاد کرکے پکارو ۔
۲) دعا کے قبول ہونے کی پوری اُمید رکھنا اور یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ بلاشبہ قبول کرے گا، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ادْعُوا اللّٰہَ وَاَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالْاِجَابَةِ (ترمذی) اللہ سے اس طرح دُعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو ۔
۳) دعا کے وقت دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف حاضر اور متوجہ رکھنا کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰہَ لَایَسْتَجِیْبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ (ترمذی) بے شک اللہ تعالیٰ اس بندہ کی دُعا قبول نہیں کرتا جو صرف اوپری دل سے اور توجہ کے بغیر دُعا کرتا ہے ۔ غرضیکہ دُعا کے وقت جس قدر ممکن ہو حضور قلب کی کوشش کرے اور خشوع وخضوع اور سکون قلب ورقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو ۔
۴) دعا کرنے والے کی غذا اور لباس حلال کمائی سے ہونا۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جوشخص دور دراز کا سفر کرے اور نہایت پریشانی وپراگندگی کے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر یارب یارب کہتے ہوئے دُعا کرے جب کہ اس کی غذا اور لباس سب حرام سے ہو اور حرام کمائی ہی استعمال کرتا ہو تواس کی دُعا کیسے قبول ہوسکتی ہے؟ (صحیح مسلم)
۵)دُعا کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنا اور رسول اللہ ﷺپردرود بھیجنا۔ حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی دُعا مانگے توپہلے اللہ تعالیٰ کی بزرگی وثنا سے دُعا کا آغاز کرے پھر مجھ پردرود بھیجے، پھر جو چاہے مانگے۔ (ترمذی) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دعا آسمان وزمین کے درمیان معلق رہتی ہے یعنی درجہٴ قبولیت کو نہیں پہنچتی جب تک کہ رسول اللہ ﷺپر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی)
۶) دعا کے وقت گناہ کا اقرار کرنا، یعنی پہلے گناہ سے باہر نکلنا، اس پر ندامت کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔
۷)دعا آہستہ اور پست آواز سے کرنا یعنی دعا میں آواز بلند نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً (سورة الاعراف: ۵۵) تم لوگ اپنے پروردگار سے دُعا کیا کرو گڑ گڑا کر اور آہستہ۔ ( البتہ اجتماعی دعا تھوڑی آواز کے ساتھ کریں)۔
دعا کے چند اہم مستحبات: وہ اُمور جن کا دُعا کے وقت اہتمام کرنا اولیٰ وبہتر ہے:
۱)دعا سے پہلے کوئی نیک کام مثلاً نماز، روزہ اور صدقہ وغیرہ کا اہتمام کرنا۔
۲)قبلہ کی طرف رُخ کرکے دوزانو ہوکر بیٹھنا اوردونوں ہاتھوں کا مونڈھوں تک اس طرح اُٹھانا کہ ہاتھ ملے رہیں اور انگلیاں بھی ملی ہوں اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوں۔
۳) اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ ذکر کرکے دعا کرنا۔
۴) اس بات کی کوشش کرنا کہ دُعا دل سے نکلے۔
۵) دُعا میں اپنے خالق ومالک کے سامنے گڑ گڑانا، یعنی رو رو کر دعائیں مانگنا یا کم از کم رونے کی صورت بنانا۔
۶) دعا کو تین تین مرتبہ مانگنا۔
۷)دُعا کے وہ الفاظ اختیار کرنا جوقرآن کریم میں آئے ہیں یاجو حضور اکرم ﷺ سے منقول ہیں کیونکہ جودُعائیں قرآن کریم میں آئی ہیں ان کے الفاظ خود قبولیت کی دلیل ہیں اور احادیث میں بھی ان کی فضیلت مذکور ہے اور جودُعائیں حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہیں وہ ضرور اللہ تعالیٰ کوپیاری ہونگی۔
۸)تمام چھوٹی اور بڑی حاجتیں سب اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا۔
۹) نماز کے بعد اور بالخصوص فرض نماز کے بعد دُعا مانگنا۔
۱۰)دعا کرانے والا اور ساتھ میں دعا کرنے والے کا دعا کے بعد آمین کہنا ،اور اخیر میں دونوں ہاتھ اپنے چہرہ پرپھیرلینا ۔
منہیاتِ ومکروہاتِ دعا: وہ اُمور جن کا دعا کے وقت کرنا ممنوع یامکروہ ہے:
۱) دعا کے وقت اسباب کی طرف نظر نہ ہو بلکہ اسباب وتدابیر سے قطع تعلق ہوکر مسبب الاسباب کی ذات پریقین رکھنا۔
۲) دعا میں حد سے تجاوز کرنا غلط ہے، یعنی کسی ایسے امر کی دعا نہ کرنا جوشرعاً یاعادةً محال ہو یاجوبات پہلے ہی طے ہوچکی ہو مثلاً یوں نہ کہے کہ فلاں مردہ کوزندہ کردے یاعورت یہ دُعا کرے کہ مجھے مرد بنادے، ایسی دعا ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔
۳) دعا میں کسی قسم کا تکلف یاقافیہ بندی نہ کرے کیونکہ یہ امر حضور قلب سے باز رکھتا ہے اور اگر خود بخود بمقتضائے طبیعت قافیہ بندی ہوجائے تومضائقہ نہیں۔
۴) اپنی جان مال اور اولاد کے لئے بددعا نہ کرے، ممکن ہے کہ قبولیت کی ساعت میں یہ بددعا نکلے اور بعد قبولیت پشیمانی اٹھانی پڑے۔
۵) دعا کی عدم قبولیت پرمایوس ہوکر دعا کرنا نہ چھوڑنا بلکہ حتی الامکان پرامید رہنا اور دعا قبول ہو یانہ ہو اپنے مالک کے روبرو ہاتھ پھیلاتے رہنا، عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو رحم آجائے اور دعا قبول ہوجائے۔

قبولیت دعا کے بعض اوقات وحالات:
یوں تودعا ہروقت قبول ہوسکتی ہے ، مگر کچھ اوقات وحالات ایسے ہیں جن میں دعا کے قبول ہونے کی توقع زیادہ ہے، اس لئے ان اوقات وحالات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے:
۱)شب قدر یعنی رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کی راتیں ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
۲)ماہ رمضان المبارک کے تمام دن ورات ، اور عید الفطر کی رات۔
۳) عرفہ کا دن (۹ ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک)۔ (ترمذی)
۴) مزدلفہ میں۱۰ ذی الحجہ کو فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سے طلوعِ آفتاب سے پہلے تک۔
۵) جمعہ کی رات اور دن۔ (ترمذی، نسائی)
۶)آدھی رات کے بعد سے صبح صادق تک ۔
۷)ساعت جمعہ۔ احادیث میں ہے کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں جودعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ (بخاری ومسلم) مگراس گھڑی کی تعیین میں روایات اور علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ روایات اور اقوال صحابہ وتابعین سے دو وقتوں کی ترجیح ثابت ہے، اوّل امام کے خطبہ کے لئے ممبرپر جانے سے لے کر نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک (مسلم)، خاص کر دونوں خطبوں کے درمیان کا وقت۔ خطبہ کے درمیان زبان سے دعا نہ کریں، البتہ دل میں دعا مانگیں، اسی طرح خطیب خطبہ میں جودعائیں کرتا ہے ان پر بھی دل ہی دل میں آمین کہہ لیں۔ قبولیت دعا کا دوسرا وقت جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے۔ (ترمذی)
۸) اذان واقامت کے درمیان۔ (ترمذی)
۹) فرض نماز کے بعد۔ (نسائی)
۱۰) سجدہ کی حالت میں ۔ (مسلم)
۱۱)تلاوت قرآن کے بعد۔ (ترمذی)
۱۲)آب زم زم پینے کے بعد۔ (مستدرک حاکم )
۱۳) جہاد میں عین لڑائی کے وقت۔ (ابوداوٴد)
۱۴) مسلمانوں کے اجتماع کے وقت۔ (صحاح ستہ)
۱۵) بارش کے وقت۔ (ابوداوٴد)
۱۶) بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑتے وقت۔ (ترمذی)

دعا قبول ہونے کے چند اہم مقامات:
یوں تودُعا ہرجگہ قبول ہوسکتی ہے ، مگر کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں دعا کے قبول ہونے کی توقع زیادہ ہے۔
۱) طواف کرتے وقت ۔
۲) ملتزم پرچمٹ کر۔ (ملتزم اس جگہ کو کہتے ہیں جو حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازہ کے درمیان ہے، ملتزم عربی میں چمٹنے کی جگہ کوکہا جاتا ہے؛ چونکہ اس جگہ چمٹ کر دُعا کی جاتی ہے اس لئے اس کوملتزم کہتے ہیں)۔
۳) حطیم میں خاص کر میزاب رحمت کے نیچے ۔
۴) بیت اللہ شریف کے اندر۔
۵) صفا ومروہ پر ، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے وقت ۔
۶) مقام ابراہیم کے پیچھے ۔
۷) مشاعر مقدسہ (عرفات، مزدلفہ ا ور منی) میں ۔
۸)جمرہٴ اولیٰ اور جمرہٴ وسطیٰ کی رمی کرنے کے بعد وہاں سے ذرا دائیں یا بائیں جانب ہٹ کر۔
مستجاب الدعوات بندے:
وہ حضرات جن کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور احادیث میں جن کی دُعاوٴں کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے:
۱)مظلوم کی دعا یعنی ایسا شخص جس پر کسی طرح کا ظلم ہوا ہو ۔ (بخاری ومسلم)
۲)مضطر یعنی مصیبت زدہ کی دعا۔ (بخاری ومسلم)
۳) والدین کی دُعائیں اولاد کے حق میں تیزی کے ساتھ اثر کرتی ہے،لہذا ہمیشہ ان کی دُعائیں لیتے رہنا چاہئے اور اُن کی بددعا سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔ (مسلم)
۴) اسی طرح وہ اولاد جووالدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور دل وجان سے ان کی خدمت کرے ان کی دُعاوٴں میں بھی شانِ قبولیت پیدا ہوجاتی ہے ۔
۵)مسافر یعنی جو اپنے گھر بار اہل وعیال سے دور ہو، مسافر چونکہ اپنے مقام سے دور ہوتا ہے، آرام نہ ملنے کی وجہ سے مجبور اور پریشان ہوتا ہے، جب اپنی مجبوری اور حاجت مندی کی وجہ سے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا اخلاص سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور صدق دل سے نکلنے کی وجہ سے قبول ہوتی ہے۔ (ابوداوٴد)
۶) افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کیونکہ یہ وقت لمبی بھوک پیاس کے بعد کھانے پینے کے لئے نفس کے شدید تقاضے کا ہوتا ہے، چونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ایک فریضہ کو انجام دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے بھوک پیاس برداشت کی ہے اس لئے روزہ کے اختتام پربندہ کو یہ مقام دیا جاتا ہے کہ اگروہ اس وقت دُعا کرے توضرور قبول کی جائے۔ (ترمذی)
۷) ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لئے غائبانہ دعا بھی مقبول ہے، اپنے لئے توسب دعا کرتے ہیں مگراس کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی خصوصی اور عمومی دعا کرنی چاہئے، خواہ کوئی دعا کے لئے کہے یانہ کہے، دوسروں کے لئے دعا کرتے رہیں کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ سب دعاوٴں سے بڑھ کر جلداز جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جوغائب کی غائب کے لئے ہو۔ (ترمذی) کیونکہ یہ دعا ریاکاری سے پاک ہوتی ہے، محض خلوص اور محبت کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور اس میں اخلاص بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کی غیرحاضری میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے اور اس کے سرکے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب وہ اپنے بھائی کے لئے دُعا کرتا ہے توفرشتہ آمین کہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ (بھائی کے حق میں تونے جودعا کی ہے) تیرے لئے بھی اس جیسی نعمت ودولت کی خوشخبری ہے۔ (مسلم)
۸)حجاج ومعتمرین کی دُعا، جوشخص حج یاعمرہ کے سفر پر نکلا ہواس کی دعا قبول ہونے کا وعدہ حدیث میں ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ کے مسافر بارگاہ الہی کے خصوصی مہمان ہیں اگر یہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں توقبول فرمائے اور اگر اس سے مغفرت طلب کریں توان کی بخشش فرمادے۔ (ابن ماجہ ونسائی)
۹)مریض اور مجاہد فی سبیل اللہ کی دعا، احادیث سے ثابت ہے کہ مریض جب تک شفایاب نہ ہو اور مجاہد جب تک واپس نہ ہو ان کی دُعا بھی قبول ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب تم بیمار کے پاس جاوٴ تواس سے دعا کے لئے کہو۔ (ابن ماجہ) مجاہد فی سبیل اللہ، اللہ کے راستہ میں اپنی جان ومال کی قربانی دینے کے لئے نکل کھڑا ہوا توجب مجاہد دعا کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔

دُعا قبول ہونے کی علامت:
دعا قبول ہونے کی علامت یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت اپنے گناہوں کویاد کرنا، اللہ کا خوف طاری ہونا، بے اختیار رونا آجانا، بدن کے روئیں کھڑے ہوجانا، اس کے بعد اطمینان قلب اور ایک قسم کی فرحت محسوس ہونا، بدن ہلکا معلوم ہونے لگنا، گویا کندھوں پر سے کسی نے بوجھ اُتار لیا ہو۔ جب ایسی حالت پیدا ہو تو اللہ کی طرف خشوع قلب کے ساتھ متوجہ ہوکر اس کی خوب حمد وثنا اور درودکے بعد اپنے لئے، اپنے والدین، رشتہ داروں، اساتذہ اور مسلمانوں کے لئے گڑگڑا کر دُعا کریں۔ انشاء اللہ اس کیفیت کے ساتھ کی جانے والی دعا ضرور قبول ہوگی۔ دعا کی قبولیت میں جلدی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دعا کی قبولیت کا وقت معین ہے اور نااُمید بھی نہیں ہونا چاہئے اور یوں نہیں کہنا چاہئے کہ میں نے دعا کی تھی مگر قبول نہ ہوئی، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناامید ہونا مسلمان کا شیوہ نہیں۔ دعا کی قبولیت میں اللہ تعالیٰ کبھی کبھی مطلوب سے بہتر کوئی دوسری شیء انسان کو عطا فرماتا ہے، یا کوئی آنے والی مصیبت دور کردیتا ہے۔

خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ دعا مظہر عبدیت اور ایک اہم عبادت ہے۔ دعا مضطرب قلوب کے لئے سامان سکون، گمراہوں کے لئے ذریعہٴ ہدایت، متقیوں کے لئے قرب الٰہی کا وسیلہ اور گناہگاروں کے لئے اللہ کی بخشش ومغفرت کی بادِ بہار ہے۔ اس لئے ہمیں دُعا میں ہرگز کاہلی وسستی نہیں کرنی چاہئے، یہ بڑی محرومی کی بات ہے کہ ہم دشمنوں سے نجات اور طرح طرح کی مصیبتوں کے دور ہونے کے لئے بہت سی تدبیریں کرتے ہیں مگر وہ نہیں کرتے جوہرتدبیر سے آسان اور ہرتدبیر سے بڑھ کر مفید ہے (یعنی دعا)، اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس اہم اور مہتم بالشان عبادت کے ارکان وشرائط وواجبات ومستحبات کے ساتھ اور منہیات ومکروہات سے بچتے ہوئے اپنے خالق ومالک کے سامنے وقتاً فوقتاً خوب دعائیں کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنی میں اپنے سے مانگنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اسلام کے پانچویں رکن یعنی حج کی اہمیت و فضیلت

مولانا محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

اشہر حج یعنی حج کے ایام شروع ہوچکے ہیں، دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں عازمین حج ‘ حج کا ترانہ یعنی لبیک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں، کچھ راستے میں ہیں اور کچھ جانے کے لئے تیار ہیں۔ جلدی ہی لاکھوں حجاج کرام اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائیگی کے لئے دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑکر اللہ جل شانہ کے ساتھ والہانہ محبت میں مشاعر مقدسہ (منی، عرفات اور مزدلفہ) پہنچ جائیں گے اور وہاں حضور اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑیں گے۔ حج کو اسی لئے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلووٴں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔
حج کی فرضیت کے بعد ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے:
اس اہم عبادت کی حضوصی تاکید احادیث نبویہ میں وارد ہوئی ہے اور اُن لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجہ سے بلاشرعی مجبوری کے حج ادا نہیں کرتے، سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

  1. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فریضہٴ حج ادا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔ (مسند احمد)
  2. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی جس پر حج فرض ہوگیا ہے) اس کو جلدی کرنی چاہئے۔ (ابو داؤد)
  3. حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا شدید مرض نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (الدارمی) (یعنی یہ شخص یہود ونصاری کے مشابہ ہے)۔
  4. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو شہر بھیج کر تحقیق کراوٴں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انھوں نے حج نہیں کیا ،تاکہ ان پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جس نے قدرت کے باوجود حج نہیں کیا، اس کے لئے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔ (سعید نے اپنی سنن میں روایت کیا)

حج کی اہمیت وفضیلت:
احادیث نبویہ میں حج بیت اللہ کی خاص اہمیت اور متعدد فضائل احادیث نبویہ میں وارد ہوئے ہیں ، چند احادیث حسب ذیل ہیں:

  1. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حج مقبول۔ (بخاری ومسلم)
  2. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بیہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تو وہ (پاک ہوکر) ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز (پاک تھا)۔ (بخاری ومسلم)
  3. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ (بخاری ومسلم)
  4. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پے درپے حج وعمرے کیا کرو۔ بے شک یہ دونوں (حج وعمرہ) فقر یعنی غریبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ (ابن ماجہ)
  5. حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ ﷺ سے بیعت کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا، عمرو کیا ہوا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کیا شرط رکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا ( گزشتہ) گناہوں کی مغفرت کی۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام (میں داخل ہونا) گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے، ہجرت گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (مسلم)
  6. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو حاجی سوار ہوکر حج کرتا ہے اس کی سواری کے ہر قدم پر ستّر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو حج پیدل کرتا ہے اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے لکھی جاتی ہیں۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حرم کی نیکیاں کتنی ہوتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ (بزاز، کبیر، اوسط)

عورتوں کے لئے عمدہ ترین جہاد حج مبرور:

  1. ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں معلوم ہے کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں (عورتوں کے لئے) عمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (بخاری)
  2. ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں خوں ریزی نہیں ہے اور وہ حج مبرور ہے۔ (ابن ماجہ)

حجاج کرام اللّہ کے مہمان ہیں اور ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں:

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں تو وہ قبول فرمائے، اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے۔ (ابن ماجہ)
  2. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اُس کے اپنے گھر میں پہونچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے اپنی مغفرت کی دعا کے لئے کہوکیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت ہوچکی ہے۔ (مسند احمد)

حج کی نیکی‘ لوگوں کو کھانا کھلانا، نرم گفتگو کرنا اور سلام کرنا:

  1. حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔ (رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط وابن خزیمة فی صحیحہ)۔ مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ کھانا کھلانا اور لوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے ۔

حج وعمرہ میں خرچ کرنا اجروثواب کا باعث:

  1. حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی طرح ہے، یعنی حج میں خرچ کرنے کاثواب سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ (مسند احمد)
  2. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے عمرے کا ثواب تیرے خرچ کے بقدر ہے یعنی جتنا زیادہ اس پر خرچ کیا جائے گا اتنا ہی ثواب ہوگا۔ (الحاکم)

حج کا ترانہ لبیک:

  1. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے)۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

بیت اللہ کا طواف:

  1. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ جل شانہ کی ایک سو بیس (۱۲۰) رحمتیں روزانہ اِس گھر (خانہ کعبہ) پر نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس خانہ کعبہ کو دیکھنے والوں پر ۔ (طبرانی)
  2. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور دو رکعت اداکیں گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ۔ (ابن ماجہ)

حجر اسود، مقام ابراہیم اور رکن یمانی:

  1. حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حجر اسود اور مقام ابراہیم قیمتی پتھروں میں سے دو پتھر ہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں پتھروں کی روشنی ختم کردی ہے، اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا تو یہ دونوں پتھر مشرق اور مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کردیتے۔ (ابن خزیمہ)
  2. حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حجر اسود جنت سے اترا ہوا پتھر ہے جو کہ دودھ سے زیادہ سفید تھا لیکن لوگوں کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے ۔ (ترمذی)
  3. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حجر اسود کو اللہ جل شانہ قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھائیں گے کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جن سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اُس شخص کے حق میں جس نے اُس کا حق کے ساتھ بوسہ لیا ہو۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)
  4. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ان دونوں پتھروں (حجر اسود اور رکن یمانی) کو چھونا گناہوں کو مٹاتا ہے۔ (ترمذی)
  5. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رکن یمانی پر ستّر فرشتے مقرر ہیں، جو شخص وہاں جاکر یہ دعا پڑھے: (اللّٰھُمّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالْاخِرَةِ رَبّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وّفِی الْاخِرَةِ حَسَنَةً وّقِنَا عَذَابَ النّارِ) تو وہ سب فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ (یعنی یا اللہ! اس شخص کی دعا قبول فرما) (ابن ماجہ)

حطیم‘ بیت اللّٰہ کا ہی حصہ:

  1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کعبہ شریف میں داخل ہوکر نمازپڑھنا چاہتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑکر حطیم میں لے گئے اور فرمایا: جب تم بیت اللہ (کعبہ) کے اندر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں (حطیم میں) کھڑے ہوکر نماز پڑھ لو۔ یہ بھی بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ تیری قوم نے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کے وقت (حلال کمائی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ) اسے (چھت کے بغیر) تھوڑا سا تعمیر کرادیا تھا۔ (نسائی)

آب زمزم:

  1. حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ اس سے حاصل ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ)
  2. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روئے زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم ہے جو بھوکے کے لئے کھانا اور بیمار کے لئے شفا ہے۔ (طبرانی)
  3. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ) لے جایا کرتی تھیں اور فرماتیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی لے جایا کرتے تھے۔ (ترمذی)

عرفہ کا دن:

  1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کثرت سے بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، اس دن اللہ تعالیٰ (اپنے بندوں کے) بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتے ہیں اور فرشتوں سے پوچھتے ہیں (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ۔ (مسلم)
  2. حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: غزوہٴ بدر کا دن تو مستثنیٰ ہے اسکو چھوڑکر کوئی دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں جس میں شیطان بہت ذلیل ہورہا ہو، بہت راندہ پھر رہاہو، بہت حقیر ہورہا ہو، بہت زیادہ غصہ میں پھر رہا ہو، یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ وہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا کثرت سے نازل ہونا اور بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کا معاف ہونا دیکھتا ہے۔(مشکوة)

حج یا عمرہ کے سفر میں انتقال:

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کو جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو شخص عمرہ کے لئے جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے تو اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔ (ابن ماجہ)

اللہ تبارک وتعالیٰ تمام عازمین حج کے حج کو مقبول ومبرور بنائے، آمین۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)

مجاہد آزادی وشیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سنبھلی

مولانا محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

سنبھل صو بہ اترپردیش کا ایک تاریخی شہرہے جو اپنی تعلیمی اور ثقافتی روایات کی بناء پر تاریخی ریاست روہیل کھنڈ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ شیخ حاتم جیسی عظیم شخصیت نے وہاں علم کی قندیل روشن کی اور ملا عبد القادر بدایونی ، ابو الفضل اور دارالعلوم دیوبند کے مشہور استاذ علامہ محمد حسین بہاری رحمة اللہ علیہ جیسی مایہ ناز ہستیوں نے حصول علم کی غرض سے وہاں کے لئے رخت سفر باندھا۔

سنبھل کی تاریخ میں انگریز حکومت کے خلاف علم بغاوت بلندکرنے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے ۔ مولانا اسمٰعیل سنبھلی کے چھوٹے بھائی مولاناعبد القیوم، لالہ پریم پال، قاری عبد الحق ، مولانا مقصود ترکی ، چودھری ریاست علی ، لالہ چندو لال، لالہ روپ کشور، مولوی نور الحسن، شیخ عبد الرحیم، چیتن سواروپ، رادھے لال پودار ،منشی معین الدین، مولوی سلطان احمد، مولوی عبدالوحید ، مولانا منصور انصاری اور مولانا اسمٰعیل سنبھلی  کا نام ان میں سر فہرست ہے۔

مولانا کا تعلق اترپردیش کے مردم خیز علاقہ اور مشہورو معروف شہر سنبھل سے تھا۔ ان کی صحیح تاریخ پیدائش کا علم تو کسی کو نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق وہ ۱۸۹۹ ئمیں محلہ دیپا سرائے میں پیدا ہوئے۔ اور ترک برادری کے سرور والے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد منشی کفایت اللہ کا شمار علاقہ کے تعلیم یافتہ حضرات میں ہوتا تھا اور وہ اپنی کنیت منشی جی سے مشہور تھے۔ آپ کے دادا کا نام سرور حسین تھا جو امروہہ میں منڈھا گاؤں کے رہنے والے تھے اور بعد میں سنبھل منتقل ہو گئے۔ یہی آپ کے خاندان کے نام( سرور والے خاندان) کی وجہ تسمیہ تھی۔ آپ مدرسہ دار العلوم المحمدیہ سنبھل میں ابتدائی تعلیم حاصل کر ہی رہے تھے کہ والدمحترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا،اور آپ کو آپ کے بڑے بھائی کے یہاں بہاولپورپہنچا دیا گیا جہاں آپ نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے خلیفہ اور مولانا منصور انصاری کے رشتہ دارو جامعہ عثمانیہ کے صدر وشیخ الحدیث مولانا فاروق احمدسے تعلیم حاصل کی۔بہاولپور میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ اپنے مادر وطن سنبھل تشریف لائے اور مدرسہ سراج العلوم میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران جلیان والا باغ کا وہ عظیم سانحہ پیش آیا جس نے پورے ہندوستان میں ایک آگ لگا دی۔ چنانچہ سنبھل کے گل چھتر باغ میں ایک بہت بڑا اجتماع ہوا جس میں مولانا اسمٰعیل سنبھلی نے ایک انتہائی دل انگیز اور ولولہ خیز تقریر کی اور اس تقریر نے عوام کو بہت زیادہ متاثر کیا۔یہیں سے ان کی سماجی اور سیاسی زندگی شروع ہوئی اور ان کو رئیس المقررین کا خطاب دیا گیا۔

برطانیہ کے ذریعہ ترکی کے شکست کھانے کے بعد مسلمان بہت زیادہ متاثر ہوئے چنانچہ ۲۲ نومبر ۱۹۱۹ ء کو خلافت کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی اور دہلی میں جمعیت علماء ہند کا قیام عمل میں آیا۔ پورے ملک میں خلافت کی تحریک چلائی گئی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی وفات کے چند ماہ بعد مولانا اسمٰعیل سنبھلی  نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا جہاں ان کے خیالات میں مزید پختگی پیدا ہوئی اور پورے جوش و خروش کے ساتھ قومی و ملی مسائل میں حصہ لینا شروع کر دیا چنانچہ زمانہٴ طالب علمی میں ہی ۲۲ فروری ۱۹۲۱ ئکو انکی شعلہ بار تقریروں کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیاگیااور دو تین دن بعد ان کے کیس کو مرادآباد جیل میں منتقل کر انہیں دو سال کی قید با مشقت کی سخت سزا سنا ئی گئی۔ پھر تمام سیاسی لوگوں کو سخت سے سخت صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا اور ان کے ساتھیوں کو ہر طرح کے پر تشدد واقعات برداشت کرنے پڑے، غلامی کی زندگی گذارنی پڑی، جیل بھیجے گئے، ان کو خاموش کرنے کی حد درجہ کوششیں کی گئیں گویا ہر طرح سے انہیں تختہ مشق بنایا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ بالآخر جیل کی مدت پوری ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیاگیااور گھر واپس آنے کے بعداپنی پوری توجہ تعلیم مکمل کرنے پر مرکوز کردی اور مدرسة الشرع کٹرہ موسیٰ خان میں داخلہ لیاجہاں مولانا عبد المجید، مولانا کریم بخش اور مولانامحمد ابراہیم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر شریعت کے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی  اور دیگر اساتذئہ کرام سے کسب فیض کے لئے ایک بار پھر دیوبند کا سفر کیا۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ۱۹۲۴ء میں مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد میں بحیثیت مدرس ان کا تقرر کر لیا گیا۔ ۱۹۳۰ئمیں ملک میں ایک عظیم تبدیلی رو نما ہوئی اور کانگریس نے مکمل آزادی کا اعلان کر دیا چنانچہ ۲۶ جنوری ۱۹۳۰ء کو پورے ملک میں یوم آزادی کا جشن منایا گیا۔ ۱۳ مارچ ۱۹۳۰ء کو مہاتما گاندھی نے اپنی تحریک نمک ستیہ گرہ کی پامالی کے خلاف ڈانڈی مارچ تحریک شروع کی اور سول نافرمانی تحریک بھی چلائی گئی۔ اس سے ناراض ہوکر انگریز حکومت نے لوگوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے شروع کر دئے۔ ان کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ مارا گیا، گولیوں کا نشانہ بنایا گیااور جیل بھیجا گیا۔ جمعیت علماء ہند نے وقت کی ضرورت کو محسوس کیااور سول نافرمانی تحریک میں کانگریس کے تعاون کے لئے عزم مصمم کر لیا۔چنانچہ مفتی کفایت اللہ، مولانااحمد سعید، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی  اور مولانا مبارک حسین سنبھلی کو جمعیت علماء ہند کے ڈکٹیٹر کے طور پر یکے بعد دیگرے جیل بھیج دیا گیا۔ اس سزا میں مولانا اسمٰعیل سنبھلی کا ساتواں نمبر تھا چنانچہ ۶ مہینے کے لئے وہ بھی قید کر دئے گئے۔ ابتداء میں ان کو دہلی کے B Class جیل میں رکھا گی