تم جنگ چاہتے ہو تو پھر جنگ ہی سہی

تم جنگ چاہتے ہو تو پھر جنگ ہی سہی

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

غزہ پٹی کے خلاف جاری اسرائیلی کاروائی، "نسل کشی” (Genocide) اور "دہشت گردی” (Terrorism) کی واضح مثال ہے؛ حال آں کہ کچھ عقل و خرد سے عاری لوگ اس "نسل کشی” اور "دہشت گردی” کو دو پڑوسی ملکوں کے درمیان حملہ اور دفاع کا نام دیتے ہیں۔ اس دہشت گردانہ کاروائی کو بند کرانے کے لیے، مصری خونی صدر عبد الفتاح سیسی نے کاغذ کے چند ٹکڑوں پر اپنے آقا اسرائیل کی مرضی کے مطابق کچھ الفاظ تحریر کرکے اراکین حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) کو اسرائیل کے خلاف دفاعی کاروائی بند کرنے کی اپیل کی؛ تاکہ سیسی کو اسلام اور مسلمانوں کے حامی و مددگار ہونے کی سرٹیفیکیٹ (Certificate) مل جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس تجویز کو فورا قبول کرلیا اور کچھ گھنٹوں کے لیے دہشت گردی بند بھی کردی؛ لیکن "حماس” کے جیالوں نے اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ: "مصری حکومت کی جانب سے فائر بندی کی جو تجویز پیش کی گئی ہے وہ شکشت خورد اور بزدلانہ ذہنیت کی پیداوار ہے، جسے غیور فلسطینی عوام کسی صورت میں قبول نہیں کرسکتے۔”

ﺍﺳﺮﺍﺋﯿلی ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ "حماس” والوں کے مذکورہ جواب سے آگ بگولہ ہوکر، جمعرات، 17/جولائی، 2014 کو، ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ غزہ میں ﺯﻣﯿﻨﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮﺩﯾﺎ؛ چناں چہ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺩﻓﺎﻋﯽ ﻓﻮﺭﺳﺰ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ: "ﺩﺱ ﺭﻭﺯ ﺳﮯ ﺣﻤﺎﺱ ﮐﯽﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺧﺸﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﺍﮐﭧ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭت ﺤﺎﻝ ﮐو ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ، ﻏﺰﮦ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔” اب فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی حملے بھی ہورہے ہیں۔ ان حملوں میں، ظالموں نے مساجد و اسپتالوں اور اس میں بھرتی مریضوں کا بھی خیال نہیں کیا؛ بل کہ ہر جگہ بمباری کرتے رہے اور گولے دا‏غتے رہے۔ جمعہ کی پوری رات غزہ دھماکوں سے گونجتا رہا اور شہر کی فضا میں ہر طرف بموں کے شعلے ہی دکھائی دے رہے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل جس طرح جدید آلات حرب سے مسلح ہے کہ اس کے مقابلے میں "حماس” والے کچھ بھی نہیں ہیں؛ لیکن ــ الحمد للہ ــ یہ لوگ ایسے سچے پکے مسلمان ہیں کہ اللہ کے وعدوں پر یقین کرکے، پورے حوصلے اور قوت ایمانی کے ساتھ، اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں سے اپنے دفاع کے لیے، کفن بر دوش ہوکر میدان میں ہیں اور خود ساختہ راکٹ و ڈرون طیاروں سے بزدلوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہے۔ اب ان کے بلند حوصلے، راکٹ اور ڈرون طیارے سے پشیماں ہوکر، اسرائیل یہ بیان دے رہا ہے کہ "حماس” کے پاس جو ڈرون طیارے ہیں وہ ایران سے خریدے گئے ہیں، ان کے خود ساختہ نہیں ہیں؛ جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ حماس کے خارجہ امور کے ذمہ دار، اسامہ حمدان نے اسرائیل کے اس جھوٹ کی کو رد کرتے ہوئے، اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ: "تحریک حماس کے پاس جو راکٹ یا طیارے ہیں وہ صد فی صد غزہ کے تیار کئے ہوئے ہیں۔ ایران سے ان کا کوئی لین دین نہیں ہے۔”

بہرحال، اب وہ زمانہ گزر گیا، جب فلسطینی اسرائیل کے ٹینک اور جدید آلات حرب کے جواب میں، ‏غلیل اور پتّھر سے اپنا دفاع کرتے تھے۔ اب فلسطینی دماغ نے راکٹ اور ڈرون طیارے بھی بنانا شروع کردیا ہے؛ اس لیے حالیہ اسرائیلی دہشت گردی کے جواب میں راکٹ اور ڈرون طیارے سے بھی دفاع کیا جا رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فلسطینیوں نے اپنوں اور غیروں سے بہت ہی دھوکا کھایا ہے؛ لہذا کسی بھی ایرے غیرے کی تجویز پر دستخط کرکے، "فائر بندی” پر راضی نہیں ہوں گے؛ بلکہ اب کی بار اس وقت تک ــ ان شاء اللہ ــ دہشت گردوں کے خلاف لڑیں گے جب تک کے اسرائیل "حماس” کی کچھ "شرائط” کو تسلیم نہ کرلے۔ چناں چہ بروز: جمعرات 17/جولائی 2014 کو، ایک اردو اخبار "عزیز الھند” کی ویب سائٹ پر شائع ایک خبر کے مطابق: "ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺜﯿﺮﺍﻻﺷﺎﻋﺖ ﻋﺒﺮﺍﻧﯽ ﺍﺧﺒﺎﺭ "ﻣﻌﺎﺭﯾﻒ” ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﺣﻤﺎﺱ” ﻧﮯﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ، ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ، ﺩﺱ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖﻭﮦ ﺩﺱ ﺷﺮﺍﺋﻂ کچھ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ:

1 ۔ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻏﺰﮦ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﭘﺮﻣﺘﻌﯿﻦ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻨﮏ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﮮ۔

2 ۔ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻂ ﺟﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﺮﺍﺳﺮﺍﺭ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻻﭘﺘﺎ ﺗﯿﻦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺎﺭ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺮﺍﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﮔﯿﮯ ﺗﻤﺎﻡﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﮨﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔

3 ۔ ﻏﺰﮦ ﮐﯽ ﭘﭩﯽ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺍﮦ ﺩﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺮﺳﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺁﻣﺪﻭ ﺭﻓﺖﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔

4 ۔ ﻏﺰﮦ ﮐﯽ ﭘﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮐﯽﺯﯾﺮ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺍﮈﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﺭﮔﺎﮦ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔

5 ۔ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﻣﺎﮨﯽ ﮔﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻣﯿﮟ 10 ﻧﺎﭨﯿﮑﻞ ﻣﯿﻞ ﺗﮏ ﻣﺎﮨﯽ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼﺟﺎﺋﮯ۔

6 ۔ ﻣﺼﺮ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﺭﻓﺢ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﭘﺮﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺏ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔

7 ۔ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﭘﺮﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﻣﻦ ﻓﻮﺟﯽ ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔

8 ۔ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻗﺼﯽٰ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞﮐﻮ ﺑﻼ ﺍﺳﺘﺜﻨﯽٰ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔

9 ۔ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﯽ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺍﻭﺭﻗﻮﻣﯽ ﻣﻔﺎﮨﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔

-10 ﻏﺰﮦ ﮐﯽ ﭘﭩﯽ ﻣﯿﮟﺻﻨﻌﺘﯽ ﺳﯿﮑﭩﺮ ﮐﯽ ﺑﺤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻭ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔

ایسے 18/جولائی، 2014 کی شام تک ﻏﺰﮦ ﭘﺮ 1960 ﻓﻀﺎﺋﯽ ﺣﻤﻠﮯ کیے جاچکے ہیں؛ ﺟب کہ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﻏﺰﮦﺳﮯ 1380 ﺭﺍﮐﭧ ﺩﺍﻏﮯ ﮔﺌﮯ ہیں۔ ان اسرائیلی حملوں میں مرنے والے اہالیان غزہ کی تعداد 285 تک پہنچ گئی ہے؛ جب کہ 2000 سے زیادہ لوگ ‍زخمی ہیں۔ ان مہلوکین اور زخمیوں میں اکثریت معصوم بچے، بے گناہ عورتیں اور نہتے عوام کی ہے۔ ﺍﻗﻮﺍﻡِ ﻣﺘﺤﺪﮦ کی رپورٹ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﺣﻤﻠﻮﮞ میں ﻏﺰﮦ ﻣﯿﮟ 1370 ﮔﮭﺮﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 18000 ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﮔﮭﺮ ﮨﻮ چکے ﮨﯿﮟ۔ زمینی حملہ میں دو اسرائیلی فوجیوں کے بھی جھنم رسید ہونے کی خبر ہے۔

٭ مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے خصوصی فضائل

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے خصوصی فضائل
محمد اللہ خلیلی قاسمی، دیوبند
اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں توحید، نماز ، زکاة اور حج کے ساتھ ماہ رمضان کے روزوں کا بھی شمار ہے ۔ ماہ رمضان بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اہل ایمان کی طرف اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث و آثار میں رمضان شریف کے بڑے فضائل اور برکات مذکور ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان کے تین عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور ہر ایک پر خصوصی رنگ غالب ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کاہے، دوسرا عشرہ مغفرت کااور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا۔ (صحیح ابن خزیمة ، حدیث 1780، بیہقی شعب الایمان)
یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔ احادیث میں ذکرہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنی کوشش کیا کرتے تھے جتنی دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے ۔( صحیح مسلم، حدیث 2009 ) سنن ابن ماجہ ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں بھی اسی مفہوم کی احادیث مروی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جاتے تھے۔
دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔ (صحیح بخاری ، حدیث :1884، صحیح مسلم، حدیث :2008)شعب الایمان بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے بستر پر نہیں آتے تھے۔ (حدیث:3471)
راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کا معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہمیشہ ہی تھا، لیکن رمضان میں آپ کمر کس کر عبادت کے لیے تیار ہوجاتے اور پوری پوری رات عبادت میں گزارتے۔ یہ مضمون حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک دوسری روایت سے اور زیادہ واضح ہوتا ہے ، وہ بیان فرماتی ہیں: مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک عبادت ہی کرتے رہے ہوں ، یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن نسائی ،حدیث : 1336)
دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکرحدیث میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ کو رات میں عبادت کے لیے جگانا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کو سارا سال ہی جگایا کرتے تھے ، لہٰذا رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھروالوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے ۔
اعتکاف: مسجد میں بہ نیت عبادت قیام
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری، حدیث: 1885 ) صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ۔ (بخاری، حدیث : 1886)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان شریف میں دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری، حدیث: 1903 )
آخری عشرہ کا اعتکاف (یعنی مسجد میں عبادت کی نیت سے قیام)سنت علی الکفایہ ہے۔ اعتکاف مسجد کا حق ہے اور پورے محلہ والوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کا کوئی فرد مسجد میں ان دنوں اعتکاف کرے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ طاعات میں مشغول رہے اور کسی شدید طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے۔ اعتکاف کی حقیقت خالق ارض و سماء اور مالک الملک کے دربار عالی میں پڑجانے کا نام ہے۔ اعتکاف، عاجزی و مسکنت اور تضرع و عبادت سے اللہ کی رضا و خوشنوی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار اور اللہ کی کبریائی اور اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلة القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلة القدر کو تلاش کرو۔(صحیح بخاری ،حدیث : 1880 )
حضرت ا بوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں تفصیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اورہم نے بھی کیا۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو میرے ساتھ اعتکاف کررہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے۔ مجھے شب قدر دکھائی گئی جسے بعد میں بھلادیا گیا۔یاد رکھو لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 771 )
لیلة القدر: ہزار مہینوں سے بہتر رات
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، ارشاد ہوا: ”ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔“ (سورة القدر97:1-5 )
ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے: ” قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔ (سورة الدخان 44:2 )
چناں چہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم و بیش تراسی سال ) کی عبادت سے زیادہ ہے۔ نیز، اسی رات اللہ تعالی نے قرآن مجید کو یکبارگی لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی۲۳سالہ مدت میں حسب ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔ انھیں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو ملائکہ نزول کرتے ہیں اور اللہ تعالی سال بھر کے تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرمادیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول بھی رحمت و برکت کا سبب ہوتا ہے۔
لیلة القدر کامطلب ہے قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے۔ یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا ۔ تواللہ تعالی نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام لیلة القدر رکھا کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمارآیات و احادیث سے ثابت ہے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1768 )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا ، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔ “ (سنن ابن ماجہ، حدیث : 1634، معجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 1500)
مسلمانوں کو عبادت کرنے میں ترغیب و تاکید ہے کہ وہ اس رات کو اللہ تعالی کی عبادت کریں، رات کو دعا و عبادت اور ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مبارک رات کی تلاش کے لیے اعتکاف فرماتے تھے اور رمضان کے آخری عشرہ میں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی ذات گرامی سید الرسل اور محبوب رب العالمین تھی ، وہ اللہ کے نزدیک مقبول اور بخشے بخشائے تھے، لیکن پھر بھی اللہ کی رضا کی تلاش میں آپ اتنی کوشش فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے ہم بہت زیادہ محتاج ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔
اس رات کو رمضان اورخاص کراس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1880 ) اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ،باقی نو رہ جائیں تو ان میں، باقی سات رہ جائیں توان میں ، باقی پانچ رہ جائیں تو ان میں۔ ( صحیح بخاری، حدیث : 1881) پھر احادیث کی روشنی میں شب قدر کا آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1878 ) جب کہ بعض احادیث میں ستائیسویں رات کو شب قدر ہونے کی بات بھی وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ ( سنن ابوداود ، حدیث : 1178، مسند احمد وغیرہ)
حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عني ) اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کردے ) (سنن ترمذی ، حدیث : 3435، مسند احمد ، سنن ابن ماجہ وغیرہ)
حضرات محدثین و علماء فرماتے ہیں کہ شب قدر سے متعلق روایات کثرت سے مروی ہیں اور ان کے مجموعہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شب قدر ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے، اور طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ ستائیسویں رات میں اور زیادہ۔ اللہ تعالی نے اپنی بے پایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے ۔اس کو مخفی رکھنے میں شاید ہماری طلب اور ذوق جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص خلوص نیت اورصدق دل سے کوشش کرے ، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو ،تو ان شاء اللہ وہ محروم نہیں رہے گا۔ اہل ذوق کے یہاں تو سارا معاملہ ذوق طلب اور شوق جستجو ہی کا ہے، بقول وحشت کلکتوی:
نشان منزل جاناں ملے ملے، نہ ملے # مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا

ماہ رمضان اور قرآن

ماہ رمضان اور قرآن
محمد اللہ قاسمی ، دیوبند
khaliliqasmi@gmail.com
اللہ تعالی کی خاص رحمت و مغفرت کا مبارک مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ ماہ رمضان اللہ تعالی کی خصوصی الطاف و عنایات کا رازدار اور نیکیوں کی فصل بہار ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کی آمد سے دوماہ قبل ہی سے یہ دعا فرمانا شراع کردیتے تھے: ”اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کا انتظار فرماتے اور پوری تیاری کے ساتھ اس کا استقبال فرماتے۔ رمضان المبارک میں آپ کے شب و روز کے معمولات بڑھ جاتے۔ قیام لیل فرماتے ، تہجد میں خود بھی اٹھتے اور دوسروں کو بھی تاکید فرماتے۔ باد بارش خیز سے بڑھ کر سخی و فیاض ہوتے اور صدقات و عطیات کی کثرت فرماتے۔ رمضان کے اخیر عشرہ میں ان تمام امور میں مزید اہتمام کے پیش نظر مسجد میں اعتکاف کی نیت سے قیام فرماتے۔
ماہ رمضان یوں تو روزہ کے علاوہ نماز و عبادت، قیام لیل و تہجد، تقوی و طہارت اور زکاة و صدقات کا خصوصی مہینہ ہے، لیکن ماہ رمضان کی قرآن کریم سے بڑی خاص مناسبت ہے۔ قرآن و حدیث سے دونوں کے مابین گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے مطابق ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اللہ تعالی کا اشاد ہے: ”رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اورجس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جوحق وباطل کو الگ الگ کرنے والا ہے۔ ” (سورة البقرة2:185 )
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مصحف ابراہیمی اور تورات اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوا ہے اور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں تاریخ میں نازل ہوا۔ لیکن نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب و صحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ وہ جس پیغمبر پر اتریں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ اتریں لیکن قرآن کریم لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا ۔ قرآن کے اسی نزول کا مختلف مقامات پر کیا گیا ہے: (١) ”ہم نے قرآن کو لیلة القدر کو نازل کیا ”۔ سورة القدر97:1 (٢) ”ہم نے قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا”۔ سورة الدخان 44:2 ۔ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم ایک ساتھ آسمان اول پر رمضان المبارک کے مہینے میں لیلتہ القدر کو نازل ہوا اور اسی کو لیلہ مبارکہ بھی کہا گیا ہے ۔ قران کریم کو لیلتہ القدر میں لوح محفوظ سے پہلے آسمان کی طرف اتار کر بیت العزة میں رکھا گیا پھر حسب ضرورت واقعات تھوڑا تھوڑا اترتا رہا اور دو عشروں پر محیط زمانے میں مکمل ہوا۔
احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا س وقت تک جتنا قرآن نازل ہوچکا ہوتا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ، اُس سال آپ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (ابن ماجہ ، حدیث 1759)
رمضان المبارک کے قرآن مجید کے ساتھ خاص ربط کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ نماز تراویح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اس کو ترک فرمادیا کہ کہیں امت پر واجب نہ ہوجائے تو امت کو اس کو نبھانے میں پریشانی لاحق ہوسکتی ہے، چناں حضرات صحابہ انفرادی طور پر تراویح ادا فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد جب یہ خدشہ دور ہوگیا،تو خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرات صحابہ کے مشورہ اور اجماع سے دوبارہ مساجد میں بیس رکعت باجماعت تراویح کا اہتمام فرمایا۔ اس وقت سے اب تک پورے عالم اسلام میں جمہور امت کا اسی پر عمل ہے اور تمام ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔حرمین شریفین میں بھی آج تک بیس رکعت کا معمول چلا آرہا ہے۔ نماز تراویح سنت مؤکدہ ہے اور تراویح میں پورے قرآن کریم کا ایک بار ختم سنت ہے۔ اس طرح رمضان میں نماز تراویح کی برکت سے عام خواندہ و ناخواندہ مسلمان کم از کم ایک بار قرآن کریم سن لیتا ہے اور پورے قرآن کریم کی حلاوت آمیز تلاوت سے کام و دہن معطر ہوتے اور مسلم بستیوں میں لاہوتی پیغام کی گونج سنائی دیتی ہے۔
ان سب آیاد و احادیث کی روشنی میں ماہ رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی خصوصی مناسبت اور تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی بے بہا دولت اور ایمان و یقین کا خزانہ ہمیں ماہ رمضان میں ملا۔ رمضان کا مہینہ اس نعمت کی سالانہ یادگار کا مہینہ ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ یادگار جشن کی صورت میں نہیں منائی جاتی بلکہ تقویٰ اور شکر گزاری کے ماحول میں منائی جاتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں اور خود کو قرآنی احکام و ہدایات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ رمضان کا مہینہ قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا مہینہ ہے۔ قرآن جیسے ہدایت نامہ کا نزول دنیائے انسانیت کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے کیونکہ وہ انسان کو عظیم ترین کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی کو گزارے کہ آنے والی اخروی زندگی میں ابدی کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔ یہ مہینہ اس مقصد کے لیے خاص ہے کہ اس میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا جائے۔
رمضان اور قرآن کے خاص ربط کا راز یہ ہے کہ اللہ تعالی نے روزہ کا مقصد تقوی کا حصول قرار دیا ہے ، ارشاد ہے: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ ۔ (سورة البقرة 2:183) اب انسان کو تقوی حاصل کیسے ہو اور اس سلسلے میں وہ رہنمائی کس سے حاصل کرے ، اس کو سورة البقرة ہی کی دوسری آیت میں بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہے: یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کوئی شک نہیں، یہ رہ نما ہے تقوی والوں کے لیے۔ لہٰذا رمضان کے اصل مقصد کو حاصل کرنے میں سب سے زیادہ معاون قرآن ہے ، جو تقوی حاصل کرنے والوں کے لیے رہ نما اور گائڈ ہے ۔ پورے قرآن میں شروع سے آخر تک اسی کا ذکر ہے کہ انسان کس طرح تقوی اور اللہ کی رضا حاصل کرکے آخرت کی سرمدی زندگی میں کامیاب و کامران ہوسکتا ہے۔
اس لیے روایات سے معلوم ہوتا ہے ہمارے سلف صالحین صحابہ و تابعین اور اکابرین دین رمضان میں قرآن مجید کے ساتھ خصوصی شغف فرماتے تھے۔ بعض بزرگان دین کے سلسلے میں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تلاوت قرآن کے علاو ہ ان کا کوئی اور شغل ہی نہیں ہوتاتھا۔ بہر حال وہ اپنے اوقات کا اکثر حصہ اسی عظیم عبادت میں صرف کرتے تھے۔ حضرات صحابہ ، تابعین اور بزرگان دین کے بارے میں منقول ہے کہ بعض حضرات روزآنہ متعدد دفعہ قرآن ختم کرتے تھے۔ بعض حضرات ایک ہی رات میں نمازوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے۔ امام نووی رحمة اللہ نے اپنی کتاب التبیان فی آداب حملة القرآن میں لکھتے ہیں کہ ایک رکعت میں قرآن ختم کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ ختم قرآن سے متعلق سلف صالحین کے مجاہدات و واقعات اتنے کثیر ہیں کہ جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ فضائل رمضان اور فضائل قرآن سے متعلق کتابوں کی ان کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں ایک وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ عجمیوں اور عربی ناخواندہ لوگوں کے لیے قرآن کریم کی تلاوت اور قرآن فہمی دونوں امور مساوی طور پر اہم ہیں۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قرآن کی صرف تلاوت کو نظر انداز کرتے ہیں اور قرآن کا ترجمہ پڑھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ تلاوت قرآن کی فضیلت سے لاعلمی کی بنیادپر ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت خود ایک مستقل عبادت ہے خواہ تلاوت کرنے والا اس کا مفہوم سمجھے یا نہ سمجھے۔ ہاں اگر تلاوت کے ساتھ معنی و مفہوم بھی سمجھ رہاہے تو نور علی نور۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ایک حرف کی تلاوت پر دس ثواب ملتا ہے۔ حتی کہ یہ بھی ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص ٹھیک طرح سے پڑھنا نہیں جانتا اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہے تو اس کو اس مشقت کی وجہ سے دوہرا اجر ملتا ہے۔
ہمارے لیے غور کا مقام ہے کہ ہم رمضان المبارک میں قرآن کریم کی کتنی تلاوت کررہے ہیں اور کتنا اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں۔ کیا ہم نے رمضان کے لیے کوئی معمول سوچا ہے کہ رمضان میں قرآن کے کتنے ختم کرنے ہیں اور اپنی مصروفیات کو کم کرکے کس طرح رمضان گزارنا ہے ؟ اس لیے بہتر ہے ہم اپنی مصروفیات اور معمولات میں قرآن کے خاص طور سے وقت نکالیں اور قرآن پاک کی تلاوت سے اپنے ایمان کو تازہ کریں۔ نیز، اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ رمضان المبارک کے نورانی ماحول میں قرآن کریم کا معتبر ترجمہ کسی عالم کی نگرانی میں پڑھنا شروع کردیں اور جہاں کہیں کچھ اشکال یا پریشانی ہو تو ان سے رجوع کرلیں۔
قرآن کریم کی تلاوت کے سلسلے میں بھی کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے تاکہ تلاوت اللہ تعالی کے یہاں مقبول ہو اور ثواب کا باعث ہو۔ تلاوت ایک عبادت ہے اور عبادت کے لیے سب سے بنیادی شرط اخلاص وللہیت ہے۔ لہٰذا تلاوت کا مقصد اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہو۔ تلاوت قرآن کے وقت قرآن کا پوراادب و احترام ملحوظ رکھے ۔ تلاوت پاکی اور طہارت کی حالت میں باوضو کرنی چاہیے؛ کیوں کہ باوضو ہو کر قرآن کی تلاوت کرنے میں اللہ کے کلام کی تعظیم اور احترام ہے۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تلاوت کرنے کی کوشش کرے۔ پڑھتے وقت ہر حرف کی ادائیگی کا لحاظ رکھے اور تجوید کے قواعد کے مطابق پڑھے۔ اسی طرح اگر معنی و مفہوم سمجھتا ہے تو رحمت کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے رحمت طلب کرے اور عذاب کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے اس کی پناہ مانگنا چاہیے۔ تلاوت کے وقت آیتوںکے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرے ، غور وفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے ، قرآن پڑھنا اللہ سے ہم کلام ہونے کے مترادف ہے۔ تلاوت قرآن سے بندہ اور اللہ کے درمیان نورانی اتصال قائم ہوتا ہے۔ قرآن میں وہ ان سعید روحوں کی بابت پڑھتا ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں ربانی زندگی گزاری تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا! تو مجھ کو بھی اپنے ان پسندیدہ بندوں میں شامل فرما۔ قرآن مین وہ جنت اور جہنم کا تذکرہ پڑھتا ہے، اس وقت اس کی روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا! مجھے جہنم سے بچا لے اور جنت میں داخل کر دے۔اس طرح قرآن بندہ کے لیے ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس کے توسط سے وہ اپنے خالق سے سرگوشیاں کرتا ہے اور اس کی تلاوت کی لذت و حلاوت سے مستفید ہوتا ہے۔
قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف ۔ روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو شکر گزاری کے قابل بناتا ہے۔ روزہ کے عمل سے گزر کر وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق دنیا میں تقوی کی زندگی گزارے اور رشک ملائکہ بن جائے۔

علمائے دیوبند کی قرآن و علوم قرآن کی خدمات

علمائے دیوبند کی قرآن و علوم قرآن کی خدمات
مولانا محمد اللہ قاسمی
دارالعلوم دیوبند

علمائے دیوبند نے درس و تدریس، وعظ و نصیحت اور دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں جو عظیم الشان کارنامے انجام دیئے ہیں وہ نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بلکہ دنیائے اسلام کے لیے بھی ایک قابل فخر سرمایہ ہے۔ علوم دینیہ میں سے متعلق کوئی علم وفن ایسا نہیں ہے جس میں ان کی تصنیفات و تالیفات موجود نہ ہوں، ان میں بڑی بڑی ضخیم کتابیں بھی ہیں اور چھوٹے چھوٹے رسالے اور کتابچے بھی ہیں، یہ کتابیں زیادہ تر تو اردو اور عربی و فارسی زبانوں میں ہیں مگر ان کے علاوہ دیگر علاقائی اور بین الااقوامی زبانوں میں بھی ان کی کتابیں ہیں۔تصنیف و تالیف کے میدان میں فضلائے دارالعلوم نے جو قابل قدر خدمات انجام دی ہیں وہ برصغیر کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں ۔
قرآن کریم اسلام کی بنیاد اور شریعت کی اساس ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ سب سے زیادہ لائق توجہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبند نے قرآن کریم و علوم القرآن پر ایک عظیم الشان ذخیرہ چھوڑا ہے۔ یہ وراثت انھیں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے خانوادہ سے حاصل ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب نے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی اور ملکی و عالمی حالات کے پیش نظر ضروری محسوس کیا کہ قرآن کریم کا متداول زبانوں میں ترجمہ کیا جائے اور اس کے علوم و معارف کو امت کے سامنے پیش کیا جائے، چناں چہ انھوں نے خود قرآن کریم کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا جو اس وقت کے ہندوستان کی علمی زبان تھی۔ دوسری طرف آپ نے اصول تفسیر میں الفوز الکبیر جیسی محققانہ کتاب تصنیف فرمائی۔ آپ کے بعد آپ کے فرزندوں میں حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی نے فارسی زبان میں تفسیر عزیزی تالیف فرمائی ۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے دیگر دو صاحب زادوں حضرت مولانا عبد القادر صاحب اور شاہ رفیع الدین صاحب نے اس زمانے کی عوامی زبان اردو میں قرآن کریم کا بالترتیب با محاورہ اور تحت اللفظ ترجمہ کیا جو بعد کے اردو زبان کے تمام ترجموں کی بنیاد بنا۔
علمائے دیوبند نے بھی اس وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن اور قرآنی علوم پر جو بیش بہا مواد اکٹھاکیا اس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے مقابلہ میں برصغیر کی کوئی جماعت ان کی خدمات کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین یوسف (پاکستان) کی تحقیق کے مطابق ١٩٩٠ء تک تقریباً تین سو علمائے دیوبند نے قرآن کریم کو اپنا موضوع بنایا اور ٢١ زبانوں میں قرآن کی خدمات انجام دیں۔ مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے ٨٤ تراجم کیے گئے ہیں اور تقریباً دو سو مکمل اور نامکمل مطبوعہ تفسیریں لکھی گئی ہیں ۔ علوم القرآن کے حوالہ سے علمائے دیوبند نے ٣٤ موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں جس میں ٢٠احکام القرآن پر، ٣٣ اصول تفسیر و تراجم پر، ٦ اعجاز القرآن پر، ١٠ فصاحت و بلاغت پر، ١٥ تاریخ قرآن پر ، ٣ ارض القرآن پر، ٤٤ قصص القرآن پر، ٢٩ لغات القرآن پر، ٨ فضائل قرآن پر، ١٥ تاریخ تجوید پر، ١٢٠ تجوید و قرأت پر، ١٥ اسباب نزول قرآن پر، ١٤ قرآنی ادعیہ پر، ٧ اسمائے حسنیٰ پر،١٩ گمراہ فرقوں کی تفسیری آراء کے رد میں، ٥ قرآنی انڈیکس پر، ٥ فلسفۂ قرآن پر اور تقریباً سو کتابیں متفرق قرآنی موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔ (پندرہ روزہ نجات پشاور، ڈیڑھ سو سالہ خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس نمبر، ص ٤٣٨) ١٩٩٠ء کے بعد علمائے دیوبند کی جو تصنیفات وجود میں آئی ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔
ترجمۂ قرآن ، تفسیر اور علوم قرآنی پرعلمائے دیوبند کی تصنیفات
علمائے دیوبند کی تمام قرآنی خدمات کا احاطہ تو نہیں کیا جاسکتا ، تاہم ذیل کے صفحات میں کچھ اہم تراجم قرآن (اردو اور دیگر زبانوں کے ) ، نیز تفسیر، علوم القرآن اور متعلقات قرآن سے متعلق مشہور کتب کی فہرست پیش خدمت ہے:
تراجم قرآن:
(١) ترجمۂ قرآن مجید، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٢) ترجمہ و تفسیر ، حضرت مولانا عاشق الہٰی میرٹھی
(٣) ترجمۂ قرآن مجید، حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی
(٤) ترجمۂ قرآن، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی
(٥) توضیح القرآن، مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب
(٦) ترجمۂ قرآن مجید (کشمیری)، مولانا محمد یوسف شاہ کشمیری
(٧) ترجمۂ شیخ الہند (ہندی)، مولانا سید ارشد مدنی صاحب و جناب محمد سلیمان صاحب
(٨) ترجمۂ شیخ الہند(گجراتی)، مولانا غلام محمد صادق راندیری
(٨) ترجمۂ شیخ الہند ( فارسی) باہتمام حکومت افغانستان شائع شدہ ١٩٤٠ء
(٩) ترجمۂ شیخ الہند و تفسیر عثمانی (پشتو)
(١٠) ترجمۂ قرآن بنگالی، مولانا محمد طاہر صاحب
(١٢) ملخص معارف القرآن بنگالی(حضرت مفتی محمد شفیع صاحب) ترجمہ: مولانا محی الدین خان
(١٣) ترجمہ قرآن آسامی، مولانا شیخ عبد الحق آسامی
(١٤) ترجمہ و تفسیر قرآن تیلگو، مولانا عبد الغفورکرنولی فاضل دیوبند
(١٥) ترجمہ قرآن کنڑ(حضرت تھانوی) ، دارالاشاعت بنگلور ١٩٦٦ء
(١٦) انگلش ٹرانسلیشن آف دی قرآن، مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب
(٢٠) انوارالقرآن (پشتو زبان )، مولانا سید انوارالحق صاحب کاکاخیل
(٢١) ترجمۂ قرآن (گوجری کشمیری زبان) ، مولانا فیض الوحید صاحب
تفاسیر قرآن :
(١) تفسیر بیان القرآن، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٢) تفسیر عثمانی (موضح الفرقان حاشیہ ترجمہ شیخ الہند)، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی
(٣) تفسیر معارف القرآن، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
(٤) تفسیر معارف القرآن، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی
(٥) شرح تفسیر بیضاوی، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی
(٦) تفسیر ثنائی (اردو)، مولانا ثناء اللہ امرتسری
(٧) تفسیر احمدی ، مولانا احمد علی لاہوری
(٨) ہدایت القرآن (٩پارے)، مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی
(٩) ہدایت القرآن تکملہ، مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری مدظلہ
(١٠) درسِ قرآن، مفتی ظفیر الدین صاحب مفتاحی
(ا١) تفسیر القرآن، مولانا شائق احمد عثمانی
(١٢) بیان القرآن (اول، دوم)، مولانا احمد حسن صاحب
(١٣) احسن التفاسیر، مولانا سید حسن دہلوی
(١٤) تفسیر کلام الرحمن، مولانا غلام محمد صاحب
(١٥) تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی)، مولانا ثناء اللہ امرتسری
(١٦) تفسیر درس قرآن، مولانا عبدالحی فاروقی
(١٧) تقریر القرآن، مولانا محمد طاہر صاحب دیوبندی
(١٨) تفسیر حبیبی، مولانا حبیب الرحمن صاحب مروانی
(١٩) مفتاح القرآن، مولانا شبیر ازہر میرٹھی
(٢٠) تفسیر قرآن ، مولانا سرفراز خان صفدر صاحب
(٢١) مستند موضح فرقان، موانا اخلاق حسن قاسمی دہلوی
(٢١) تفسیر تقریر القرآن، مولانا عزیز الرحمن صاحب بجنوری
(٢٢) تفسیر تعلیم القرآن، مولانا قاضی زاہد الحسینی صاحب
(٢٣) معالم العرفان فی دروس القرآن، مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
(٢٤) جواہر التفاسیر، مولانا عبدالحکیم لکھنوی
(٢٥) درسِ قرآن، قاری اخلاق احمد صاحب دیوبندی
(٢٦) تفسیر بیان السبحان، مولانا عبدالدائم الجلالی
(٢٧) انوار القرآن، مولانا محمد نعیم صاحب دیوبندی
(٢٨) حاشیہ تفسیر بیضاوی (عربی)، حضرت مولانا عبدالرحمن امروہوی
(٢٩) ترجمہ تفسیر جلالین، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب
(٣٠) حاشیہ تفسیر جلالین ، مولانا حبیب الرحمن دیوبندی
(٣١) حاشیہ جلالین عربی ، مولانا احتشام الحق کاندھلوی
(٣٢) ترجمہ تفسیر ابن عباس، مولانا عبدالرحمن کاندھلوی
(٣٣) ترجمہ تفسیر مدارک، مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیری
(٣٤) ترجمہ ابن کثیر، مولانا انظر شاہ مسعودی کشمیری
(٣٥) معالم التنزیل، مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی
(٣٦) حواشی قرآن مجید مترجمہ شا ہ عبدالقادر، حضرت مولانا احمد لاہوری
(٣٧) کمالین ترجمہ جلالین، حضرت مولانا محمد نعیم صاحب دیوبندی
(٣٨) جمالین شرح جلالین، مولانا محمد جمال میرٹھی
(٣٩) تفسیر الحاوی (تقریر بیضاوی)، مولانا جمیل احمد،مفتی شکیل احمد
(٤٠) تفسیر سورۂ حجرات، علامہ شبیر احمد عثمانی
(٤١) تفسیر سورۂ بقرہ، مولانا عبدالعزیز صاحب ہزاروی
(٤٢) الدرر المکنون فی تفسیر سورة الماعون، پروفیسر حکیم عبدالصمد صارم صاحب
(٤٣) تفسیر سورۂ فاتحہ، یونس، یوسف، کہف، مولانا احمد سعید صاحب دہلوی
(٤٤) احسن البیان فی ما یتعلق بالقرآن ، مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی
(٤٥) مرآة التفسیر، مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی
(٤٦) مقدمہ علی تفسیر البیضاوی، مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی
(٤٧) فیض الکریم تفسیر قرآن عظیم، مولانا صبغت اللہ صاحب
(٤٨) کشف القرآن، مولانا محمد یعقوب صاحب شرودی
متعلقات قرآن:
(١) اسرار قرآنی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی
(٢) مشکلات القرآن (عربی)، حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری
(٣) سبق الغایات فی نسق الآیات، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٤) آداب القرآن، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٥) یتیمة البیان، مولانا محمد یوسف بنوری
(٦) علوم القرآن، مفتی تقی عثمانی صاحب
(٧) علوم القرآن، مولانا عبیداللہ اسعدی قاسمی
(٨) علوم القرآن، مولانا شمس الحق افغانی صاحب
(٩) احکام القرآن، مولانا شمس الحق افغانی صاحب
(١٠) مفردات القرآن ، مولانا شمس الحق افغانی صاحب
(١١) مشکلات القرآن ، مولانا شمس الحق افغانی صاحب
(١٢) حکمت النون، مولانا محمد طاہر صاحب دیوبندی
(١٣) تلاوة القرآن، مولانا وصی اللہ صاحب الہ آبادی
(١٤) فیض الرحمن، مولانا یعقوب الرحمن عثمانی
(١٥) حل القرآن، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی
(١٦) ہدیة المہدیین فی آیة خاتم النّبیین، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب دیوبندی
(١٧) لغات القرآن، مولانا قاضی زاہد الحسینی صاحب
(١٨) تذکرة المفسرین، مولانا قاضی زاہد الحسینی صاحب
(١٩) ضرورة القرآن، مولانا قاضی زاہد الحسینی صاحب
(٢٠) بیان القرآن علی علم البیان، مولانا ثناء اللہ امرتسری
(٢١) روح القرآن، علامہ شبیر احمد عثمانی
(٢٢) اعجاز القرآن، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی
(٢٣) التحریر فی اصول التفسیر، مولانا محمد مالک کاندھلوی
(٢٤) منازل العرفان فی علوم القرآن، مولانا محمد مالک کاندھلوی
(٢٥) العون الکبیر شرح الفوز الکبیر، حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری
(٢٦) الفوز العظیم شرح اردو الفوز الکبیر، مولانا خورشید انور صاحب فیض آبادی
(٢٧) الروض النضیر شرح اردو الفوز الکبیر، مولانا حنیف گنگوہی
(٢٨) الخیر الکثیر شرح اردو الفوز الکبیر، مفتی امین صاحب پالنپوری
(٢٩) السراج المنیر ترجمہ تفسیر کبیر اول،مولانا شیخ عبدالرحمن صاحب
(٣٠) التنقید السدید علی التفسیر الجدید، ابوالمآثر مولانا حبیب الرحمن اعظمی
(٣١) تدوین قرآن، حضرت مولانا مناظر حسن گیلانی
(٣٢) تاریخ تدوین القرآن ، مولانا مصطفی اعظمی
(٣٣) تاریخ قرآن ، مولانا عبد الصمد صارم
(٣٤) التعوذ فی الاسلام، حضرت مولانا طاہر قاسمی
(٣٥) دینی دعوت کے قرآنی اصول، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب
(٣٦) فہم قرآن، حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی
(٣٧) قصص القرآن، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی
(٣٨) منحة الجلیل، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی
(٣٩) وحی الٰہی، حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی
(٤٠) قرآن پاک آپ سے کہا کہتا ہے؟، حضرت مولانا منظور احمد نعمانی
(٤١) ذخیرة الجنان فی فہم القرآن، مولانا سرفراز خان صفدر صاحب
(٤٢) تفسیروں میں اسرائیلی روایات، مولانا نظام الدین اسیر ادروی
(٤٣) لغات القرآن، مولانا عبدالرشید نعمانی
(٤٤) منتخب لغات القرآن، مولانا نسیم احمد بارہ بنکوی
(٤٥) جائزہ تراجم قرآنی، مولانا محمد سالم قاسمی وغیرہ
(٤٦) قرآن اور اس کے حقوق، مفتی حبیب الرحمن خیرآبادی
(٤٧) قرآن محکم، مولانا عبد الصمد رحمانی
(٤٨) قرآن پاک اور سائنس، مولانا خلیل احمد صاحب
(٤٩) قرآن مجید اور انجیل مقدس، مولانا محمد عثمان فارقلیط
(٥٠) تذکیر بسورة الکہف، مولانا مناظر حسن گیلانی
تجوید و قرأت
دارالعلوم دیوبند نے فن تجوید و قرأت کی طرف بھی خصوصی توجہ کی اور ١٣٢١ھ /١٩٠٣ء میں باقاعدہ طور پر ایک مستقل شعبۂ تجوید قائم ہوا۔ تدریس کے لیے نظر انتخاب ممتاز ماہر فن حضرت قاری عبد الوحید خان الہ آبادی (م ١٣٦٥ھ) پر پڑی ۔ آپ استاذ الاساتذہ حضرت قاری عبد الرحمن مکی کے تلمیذ ارشد تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند میں کم و بیش ٤٥ سال تک خدمتِ قرآن کی مسند پر فائز رہے اور دارالعلوم کے سیکڑوں علماء نے آپ سے استفادہ کیا۔ آپ کے بعد حضرت قاری عبد الرحمن مکی کے دوسرے باکمال اور نامور ترین شاگرد حضرت قاری حفظ الرحمن پرتاپ گڈھی دارالعلوم کے شعبۂ تجوید کی مسند صدارت پر فائز کیے گئے۔ آپ کے زمانہ میں ملک و بیرون ملک سے فن تجوید و قرأت کے شائق طلبہ جوق در جوق آنے شروع ہوئے اور اس دور میں اس شعبہ کا فیض ملک سے باہر دور دراز تک پہنچ گیا۔آپ کو اس وقت کے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و صدر المدرسین حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی سرپرستی اور ان کا خصوصی تعاون حاصل تھا۔ قرآن پاک کی تصحیح طالب علم کے لیے لازم قرار دی گئی اور بغیر مشقی و کتابی تعلیم کے سند نہ دیے جانے کا ضابطہ بنایا گیا۔
دوسری طرف حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے تجوید قرآن پر گراں قدر کتب و رسائل تحریر فرمائے ۔ آپ کا رسالہ جمال القرآن آج برصغیر کے تمام اداروں میں نصاب تجوید میں داخل ہے۔ اس آخری دور میں مولانا قاری ابوالحسن صاحب اعظمی نے علم تجوید و قرأ ت مختلف موضوعات چھوٹی بڑی درجنوں کتابیں لکھیں اور تجوید و قرأ ت کے مختلف گوشوں پر تحقیقی مواد اکٹھا کر دیا ہے۔
دارالعلوم نے اس فن میں صرف عظیم الشان رجال کار ہی پیدا نہیں کیے بلکہ اسی کے ساتھ فن کی علمی، تصنیفی اور طباعتی خدمات کا نہایت شاندار سلسلہ قائم کیا۔ آج فن تجوید میں جو چھوٹی بڑی کتابیں اور رسائل و شروح نظر آتی ہیںاور جو کتابیں بیشتر مدارس میں داخل نصاب ہیں، وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ دارالعلوم دیوبند ہی کے فیض یافتگان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
(١) جمال القرآن ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٢) تجوید القرآن (منظوم) ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٣) حق القرآن (منظوم) ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٤) تنشیط الطبع فی اجراء السبع، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٥) وجوہ المثانی، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
(٦) ہدیة الوحید، حضرت قاری عبد الوحید خان صاحب الہ آبادی
(٧) عنایات رحمانی شرح قصیدۂ شاطبیہ لامیہ (تین جلدیں)، مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی
(٨) اسہل الموارد شرح رائیہ للشاطبی، مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی
(٩) کاشف العسر شرح ناظمة الزھر للشاطبی، مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی
(١٠) مفتاح الکمال شرح تحفة الاطفال للجزری، مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی
(١١) تسہیل القواعد، مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی
(١٢) تنویر شرح التیسیر فی السبعہ ، قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی
(١٣) الوجوہ المفسرہ (اردو ترجمہ)، قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی
(١٤) تکمیل الاجر فی القراء ات العشر ، قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی
(١٥) علم قرأت اور قرائے سبعہ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(١٦) النفحة العنبریة شرح المقدمة الجزریة، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(١٧) النفحات القاسمیة شرح متن الشاطبیة ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(١٨) التحفة الجمیلة شرح رائیہ للشاطبی، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(١٩) التبشیر شرح التیسیر، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٠) الفوائد الدریة ترجمة المقدمة الجزریة، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢١) قواعد التجوید، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٢) قراء ات عشرہ کا حامل قرآن مجید، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٣) تیسیرالقراء ات فی السبع المتواترات، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٤) قرآنی املاء اور رسم الخط، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٥) رسم المصحف اور اس کے مصادر، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٦) کاتبین وحی، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٧) دربار رسالت کے نو قراء ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٨) نعم الورود فی احکام المدود ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٢٩) حسن الاقتداء فی الوقف والابتدائ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٣٠) تحصیل الاجر فی القراء ات العشر، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٣١) حسن المحاضرات فی رجال القرا ء ات، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٣٢) مشکلات القراء ات، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی
(٣٣) اللولؤ المکنون فی روایة قالون، قاری عبد الرؤف بلندشہری
(٣٤) معین الطلبہ فی اجراء قرء أت السبعة ، قاری عبد الرؤف بلندشہری
(٣٥) دارالعلوم دیوبند اور خدمات تجوید و قرأت ، قاری ابوالحسن صاحب اعظمی