آداب معاشرت: اسلام کا ایک فراموش کردہ باب

از: حفظ الرحمن قاسمی
مرکز المعارف، دہلی
{hifzurrahman297}
اسلام کے پانچ شعبے ہیں: عقائد(Belief)، عبادات(Worship)، معاملات(Dealings)، اصلاح باطن(Spirituality or Inner Reformation) اور آداب معاشرت(Civic Sense)۔ اسلام کی تکمیل اوراس کے ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کا دعوی اسی وقت مسلم الثبوت ہو پائے گا جب کہ ان تمام شعبوں کوعین دین سمجھ کر انھیں عملی زندگی کا حصہ بنالیا جائے۔ لیکن افسوس کی با ت یہ ہے کہ مسلمانوں میں عوام الناس نے تو صرف عقائد و عبادات کے باب کو ہی مکمل دین سمجھا ، جب کہ علماء ظاہر نے اپنے خیال اور دائرہ عمل کو مزید وسعت دیتے ہوئے معاملات کے حصہ کو بھی د امن مذہب میں پناہ دی۔ اس کے بعد ایک طبقہ ہے اہل تصوف کا جنھوں نے مزید کرم فرمایا اور اصلاح باطن کو بھی دین کا حصہ خیال کیا۔ لیکن پانچواں حصہ آداب معاشرت وہ ہے جس کو نظریاتی (Theoretically)اعتبار سے گرچہ کچھ لوگ ضروری اور دین کا حصہ شمار کرتے ہوں؛ لیکن عملی طور پر (Practically) تقریبا تمام مسلمانوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے ، حالانکہ بعض اعتبار سے یہ عبادات سے بھی اہم ہو جاتا ہے۔
آداب معاشرت کا مطلب وہ رہنما اصول اور طریقہائے کارہیں جنھیں معاشرہ میں زندگی گذارتے وقت ہر فرد کو مد نظررکھنا چاہیے تاکہ وہ معاشرہ صالح ،صحتمند اور خوشگوار ہو سکے۔ جب بھی کسی معاشرہ میں ان اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے وہاں بد عنوانی ، اضطراب، آپسی تنازع اور انفرادی اور اجتماعی کش مکش جیسے تباہ کن حالات جنم لیتے ہیں اور اس سماج میں جینے والے ہر فرد کو اپنے منفی اثرات کے حصار میں لیتے ہوئے زندگی کو موت سے زیادہ خطرناک بنا دیتے ہیں۔دوسری طرف اگر آداب معاشرت اور سماج کو خوشگوار بنانے والے ان سنہرے اصول کو مد نظر رکھ کر زندگی گذاری جائے تو اس سماج میں کسی کو کسی سے کوئی گلہ نہ ہوگا، چنانچہ وہاں آپسی تنازع اور جھگڑے لڑائی کے امکانات نہ کے برابر ہونگے۔وہاں محبت و الفت ہوگی،ہمدردی و غمخواری ہوگی، اخوت و برادرخوانگی ہوگی، مساوات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہوگی؛ خلاصہ کلام یہ کہ وہ سماج جنت نظیر ہو جائے گا۔
بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشد
کسے را با کسے کارے نہ باشد
کسی بھی سماج کو خوشگوار بنانے کے لئے اس میں بسنے والے انسانوں کا آداب معاشرت کے تئیں بیدار ہونا نہایت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے اسلام میں اس کو ایک مستقل شعبہ قرار دیاگیا اور اس کے ہرہر پہلو کو نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ۔ اصولی طور پر حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا ’المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ‘(سچا پکا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔) (صحیح بخاری حدیث نمبر6484 ) یہ حدیث اسلامی آداب معاشرت کی بنیاد ہے ۔ گو کہ اس میں کمال اسلام کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اس کے قولی اور فعلی شرور سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں، لیکن دیگر احادیث ایسی بھی ہیں جن میں مطلقا پڑوسیوں کی ایذا رسانی سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے ایک مرتبہ آپ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا’ خدا کی قسم وہ مومن کامل نہیں ہو سکتا۔‘ تو صحابہ نے دریافت کیا ’کون مومن نہیں ہو سکتا،اے اللہ کے رسول؟‘ تو نبی کریم ﷺ نے جواب دیا’ وہ شخص جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘(صحیح بخاری حدیث نمبر 6016)اس حدیث میں مطلقا پڑوسی کو محفوظ رہنے کی بات کی گئی ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی شرط نہیں ۔ اسی بنا پر محدثین اول الذکر حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس میں مسلمون کا لفظ محض مسلمانوں کی اشرفیت کی بنا پر استعمال کیا گیا ہے ، ورنہ کسی غیر مسلم کو بھی بلا وجہ ایذا دینا شرعا جائز نہیں۔ چنانچہ ایمان اور اسلام کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ بندہ کے کسی بھی عمل سے اس کے کسی ساتھ کو کوئی تکلیف نہ پہونچے۔تو اسلامی آداب معاشرت کا بنیادی اصول یہ قرار پاتا ہے کہ انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں بھی کوئی ایسا عمل انجام نہ دینا چاہیے جو دوسروں کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی کا باعث بن جائے۔
آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے پورے ذخیرہ میں آداب معاشرت کے تعلق سے جو بھی تعلیم دی گئی ہے وہ اسی اصول کی فرع اور اجمال کی تفصیل ہے۔ ذیل میں اس کی کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
انسان فطری طور پر سماجی زندگی گذارنے کا خوگر ہے۔ سماج میں زندگی گذارتے وقت اسے ایک دوسرے سے مختلف قسم کی ضروریات پیش آتی ہے جن کی تکمیل لئے وہ دوسروں سے ملنے پر مجبور ہوتا ہے؛ لیکن کسی سے ملتے وقت بھی انسان کو اس کی راحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ کوئی ایسا طریقہ ہر گز اختیا نہ کیا جائے جس سے سامنے والے فرد کو ایذا پہونچے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس کا طریقہ یہ بتا یا کہ اگر کسی کے یہاں جاؤ تو سیدھے اس کے گھر میں بے دھڑک داخل مت ہو جاؤ بلکہ باہر سے سلام کرو پھر داخلے کی اجازت طلب کرو۔ اگر اجازت مل جائے تو جاؤ ،ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔(سورہ النور: 27-28 ) اگر اہل خانہ کسی وجہ سے اجازت نہ دیں تو اس سے بد دل نہ ہونا چایئے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں زندگی گذارتے وقت ایک انسان کو اپنے دوسرے ساتھیوں کی راحت کا کس قدر خیال رکھنا چاہیے۔ یہ تعلیم اس لئے دی گئی ہے کہ ہم بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہوجائیں اورمبادااس کی وجہ سے انھیں کوئی تکلیف لاحق ہوجائے، اس لئے کہ اس سے اس کی ذاتیات (Privacy ) میں وقوع خلل کا اندیشہ ہے۔ لیکن اس تعلیم کے بر خلاف ہمارا عمل یہ ہے کہ اولا تو ہمیں اجازت لینا گوارہ نہیں، اگر لے بھی لی توہم اہل خانہ کی طرف سے مثبت جواب کے اس قدر شدیدخواہاں ہوتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ انھوں نے نفی میں جواب دیا تو پھر ہم ان پر ہمیشہ کے لئے بد اخلاقی و ملعونیت کالیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔
مذہب اسلام کی شان یہ ہے کہ اس میں چھوٹی چھوٹی باتوں کے تعلق سے بھی اطمینان بخش ہدایات ملتی ہیں۔چنانچہ ایک حدیث میں ملاقات کے تعلق سے ہمیں ایسی تعلیم ملت ہے جس کی نظیر دوسری جگہوں پر شاید مشکل سے مل سکتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت جابرؓ نبی کریم ﷺ کے در دولت پر حاضر ہوئے اور دستک دی۔ اندر آواز آئی’ کون؟‘ حضرت جابر نے جواب دیا’ میں ہوں‘ آپ ﷺ نے نا گواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’میں ہوں! میں ہوں!‘ (صحیح بخاری حدیث نمبر 6250 )مقصد یہ تھا کی انسان جب بھی کہیں جائے تو اپنا تعارف مہمل الفاظ میں نہ کرائے۔ اس سے اس کی شخصیت سامنے والے پر بالکل واضح نہیں ہوپاتی اور اس کے نتیجہ میں سامنے والے کے ساتھ ساتھ خود اس شخص کو بھی پریشانی ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسلام نے اپنے ماننے والوں میں راہنمائی کی ہے۔
سماج میں زندگی گذارتے ہوئے انسان کو دوسروں کے لئے آسانی یا پریشانی پیدا کرنے کے سلسلے میں کس قدر محتاط رہنا چاہیے اس کا اندازہ اسلام کی اس تعلیم سے لگتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صریح حدیث میں لوگوں کو خام پیاز اور لہسن کھاکر مسجد میں جانے سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم حدیث نمبر564) اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کی بدبو سے فرشتوں اور دوسرے انسانوں کو تکلیف پہونچتی ہے۔ اس حدیث کی رو سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں بھی صفائی، پاکیزگی اور نفاست کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسلام کی تعلیم ہے ’صفائی ایمان کا حصہ ہے۔‘ (صحیح مسلم حدیث نمبر 223 )لیکن خاص طور سے ہمارے مسلم سماج میں صفائی کا جو حال ہے وہ ہر شخص پر ظاہرو باہر ہے۔ ہم عام طور پر اس گندگی کے لئے حکام اور اعیان حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی نہ کسی حد تک اعیان حکومت مسلم مسائل سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ صفائی بحال کرنے کے لئے ہماری جانب سے جس قدر کوشش ہونی چاہئے اتنی ہم کرتے نہیں۔ نتیجتا نہ صرف یہ کہ ہمارے سماج میں طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں اور ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے، بلکہ جب ہمارے علاقہ میں کوئی غیر مسلم آتا ہے تو وہ صرف ہمارے تعلق سے ہی نہیں بلکہ اس پاک مذہب کے تعلق سے بھی غلط اثر لے کر جاتا ہے جس کی تعلیمات کا ایک ایک حصہ صفائی و پاکیزگی کا مظہر ہے۔
ایک دوسرا مقام جہاں ہم عام طور پر دوسروں کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں یہ ہے کہ ہم اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کے خرچ کرنے میں حد درجہ اسراف اور تبذیر (Extravagance)سے کام لیتے ہیں۔ ایسے موقع سے ہمارے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حلال کی کمائی ہوئی دولت کو ہم جائز مقامات پر خرچ کرتے ہیں تو اس سے بھلا کس کا کیا نقصان؟ لیکن غور کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ اگر ہم بلاضرورت اپنی دولت کو بڑی گاڑیوں کے خریدنے پر خرچ کریں تو اس سے ٹریفک کا نظام معطل ہوتا ہے جو کہیں نہ کہیں ہمارے سماج میں زندگی گذارنے والے دوسرے افراد کے لئے پریشانیوں کا باعث ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے اسراف سے اگر ہماری معاشی صورتحال (Economic Condition)بگڑتی ہے تو اس کا اثر کسی نہ کسی حد تک پوری جماعت اور سوسائٹی کے معاشیات (Economy)پر پڑتا ہے، کیوں کہ ہم ایک ایسے سماج میں جیتے ہیں جس کے ہر فرد کا عمل پوری جماعت پر نتیجہ مرتب کرتا ہے۔ اور رہاسرمایہ (Capital ) اوروسائل (Resources ) کا سوال تو فطری قانون کے مطابق دنیا میں بسنے والے ہر انسان کا اس پر مساوی حق ہے۔ اگر کوئی انسان جائز طریقے سے ان چیزوں میں تصرف کا متولی ہو گیا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان وسائل میں اسی طرح تصرف کرے جس سے دوسرے انسان کے لئے خسارہ کا امکان پیدا نہ ہو۔اسی لئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا’کھاؤ پیو اور فضول خرچی مت کرو۔ اللہ فضول خرچی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ اعراف: 31 ) دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فضول خرچی کرنے والے لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ (سورہ اسراء: 62 (
خلاصہ کلام یہ کہ اسلام ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہر فرد کے لئے چاہے وہ اسلام کا ماننے والا ہو یا نہ ہو خوشحالی، آرام، آسائش، راحت اور سکون کو یقینی بنایا گیا ہے اوراس کے لئے مستقل ایک شعبہ تشکیل دیا جس کو ہم آداب معاشرت کے نام سے جانتے ہیں۔ اس دین کی مکملیت اسی وقت دنیا کے سامنے آشکارا ہوگی جب اس کے تمام شعبوں کے ساتھ باب معاشرت کو بھی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار دارالعلوم دیوبند

عبدالباری سمستی پوری ،دیوبند(یوپی)

دہلی کے ایک مؤقر روزنامہ کے تین اپریل کے شمارہ میں ’’آج کا خط‘‘ کے عنوان سے محمد خالد خوریجی کے نام سے ایک مراسلہ شائع ہوا جس میں انہوں نے دارالعلوم کے سلسلہ میں چھپی ایک خبر ’’غیر مسلم سے محبت کی اجازت نہیں: دارالعلوم‘‘ کی سرخی کو سامنے رکھ کر لکھا، مراسلہ پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ موصوف لکھنے اورچھپنے کے بہت خوگر ہیں؛ لیکن تاریخی حقائق سے کورے، ان حقائق پر مطلع ہونا ان کا شعار نہیں ہے؛ ورنہ وہ ایسا نفرت بھرا جملہ ’’یقینی طور پر ایسے نظریات کا حامل ادارہ تعریف وتوصیف کے قابل نہیں ہو سکتا‘‘ بالکل نہیں لکھتے۔
میں اس مؤقر اخبار کے ذریعہ سے موصوف کو گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے اکابرین نے ہندو مسلم اتحاد ویگانگت کا جو عملی نمونہ پیش کیا ہے وہ کسی ادارے نے نہیں کیا، گاندھی جی کو مہاتما کا خطاب دینے والے مولانا محمود الحسن دیوبندی المعروف بہ شیخ الہند ہیں گاندھی جی کے پاس ملک کا دورہ کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے تو ہمارے اکابرین نے تحریک خلافت کا پیسہ نکال کر گاندھی جی کو دیا تاکہ ہندو ومسلم دونوں اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے شرکت کر سکیں اور ملک جلد از جلد آزاد ہو۔
دوسری مثال: حضرت شیخ الہند نے اپنے آزاد ہندوستان کے منصوبے کو بر روئے کار لانے کے لیے جو تحریک ریشمی رومال چلائی تھی اس آزاد ہند کا راجہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک فرد مہندر کو بنایا تھا حالانکہ ان سے زیادہ قابل اور فعالی علمائے کرام موجود تھے۔
اسی طرح آزادی ہند کے موقعہ پر اور اس کے بعد دارالعلوم نے تقسیم ہند کی مکمل مخالفت کی اور پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان کی جمہوری حکومت کی تائید کی اور اسے پسند کیا جب کہ اس کے اکثر لیڈر غیر مسلم تھے یہ تو ابتدائی زمانے کی بات ہے آج کل بھی دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سید ارشد مدنی صاحب ہند ومسلم اتحاد کا نمونہ پیش کرایا اور ہندو مسلم دوستی کا بین نمونہ پیش کیا اس کے علاوہ حیدرآباد ، آسام، دھولیہ، مالیگاؤں اڑیسہ وغیرہ مختلف صوبوں اور اضلاع میں جمیعۃ علماء ہند کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں غیر مسلموں کی امداد کی، کیا یہ غیر مسلم دوستی کا ثبوت نہیں؟
رہا مسئلہ اخبار بیان کا تو دارالعلوم کسی طرح کا بھی کبھی بھی کوئی بیان نہیں دیتا ہے میڈیا کے متعصب حضرات کوئی فتویٰ کہیں سے اٹھا لیتے ہیں اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ ادارہ کو بدنام کیا جا سکے؛ لیکن پوری دنیا اس بات سے بہ خوبی واقف ہے، اس طرح کی حرکت آفتاب پر تھوکنے کے مانند ہے۔
شاید کہ موصوف کی نظروں سے مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم بنارسی کا بیان اخبار سے نہیں گزرا کہ ’’دارالعلوم کا دروازہ مسلم اور غیر مسلم قائدین سب کے لیے یکساں کھلا ہوا ہے جو جب چاہیں آسکتے ہیں‘‘۔ کیا اس کے بعد کبھی انہیں دارالعلوم کے ہندو مسلم اتحاد پر کسی دلیل کی حاجت ے؟ اس لیے موصوف شرپسندی کا شکار نہ بنیں اور تاریخ کا مطالعہ کریں اس کے بعد اس ادارہ کے سلسلہ میں جس کے فضلاء پوری دنیا میں امن وخوف کا پیغام دے رہے ہیں اس کے خلاف رائے قائم کریں۔

اپریل فول۔۔۔ منظر پس منظر

عبدالباری سمستی پوری
abarisamastipuri

زمانہ کا رخ عجب سمت کی طرف بڑھ رہا ہے ہر کس وناکس الٹی ہی چال چلنے پر فخر محسوس کرنے لگاہے، مذہب معاشرہ ، سماج اور قومیت سب کو پس پشت ڈال کر یہودی رسوم ورواج کا دلدادہ اور پیروکار بنتا جارہا ہے اور مذہب اسلام جو پاکیزگی اور امن کی دعوت دیتا ہے اور بے حیائی ، فریب، کذب بیانی اور دھوکہ دھڑی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اس سے کنارہ کش ہوچکا ہے مغربیت کی مہلک اور ناروا رسموں میں سے ایک رسم ’’اپریل فول‘‘ ہے اپریل قریب آرہا ہے اس لیے مناسب سمجھا کہ اس کی حقیت کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ بھولے بھالے انسان اس کی قباحت وبربادی پر مطلع ہوکر اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں ، یہ کب ایجاد ہوا ؟ کس نے کیا؟ کیوں؟ اس سلسلے میں مورخین ودانشوران نے مختلف باتیں کہی ہیں البتہ اتنی بات تو سب کے یہاں مسلم ہے کہ یہ رسم محض جھوٹ او ردھوکہ ہے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس ناجائز جھوٹ ودھوکہ پر بنی رسم کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتی ہے کتنے مہلک مرض کا شکار ہوجاتے ہیں اور کم سے کم دماغی الجھن اورد لی پس وپیش کا شکار تو اکثر ضرور ہی ہوجاتے ہیں اپریل فول کی ایجاد کے سلسلہ میں فرانسیسی مصنفین نے لکھا ہے کہ فرانس میں سترھویں صدی سے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہونے لگا اور اس کی نسبت اپنی دیوی ، وینس(vehus) کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھتے تھے یونانی زبان میں venusکا ترجمہ Aphroditeہے ، اس کے ساتھ بت پرستانہ عقائد وابستہ ہوگئے تھے، اس لیے اس دن جشن مناتے تھے جس کا ایک حصہ ہنسی مذاق بھی تھا جو ترقی کرتے کرتے اپریل فول کی شکل اختیار کرگیا۔
(۲) ایک وجہ انیسویں صدی کے معروف انسائیکلو پیڈیا ’’لاروس ‘‘نے بیان کیا ہے کہ دراصل یہودیوں اور عیسائیوں کی بیان کردہ روایت کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے جس میں رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام کو تمسخر او راستہزاء کا نشانہ بنایا گیا پھریہودی سرداروں کی عدالت میں پیش کیا پھر پیلا طس کی عدالت میں پیلاطس نے پروڈو س کی عدالت میں اور پروڈوس نے دوبارہ پیلاطیس کی عدالت میں اوریہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں باربارمنتقل کرنا حضرت عیسی کے ساتھ مذاق اور انہیں تکلیف پہچانے کے لیے تھا ، اس لیے اس دن اپریل فول بنایا جاتا ہے ۔
(۳) مورخین نے تیسری وجہ بھی بیان کی ہے کہ اپریل میں جو شخص بے وقوف بنتا ہے اسے فرانسیی زبان میں پوئنرن دی ایوریل (Poisson davril) کہا جاتا ہے، اسی کو انگریزی میں اپریل فشن (April fish) کہتے ہیں یعنی بے وقوف بننے والا شخص پہلی مچھلی ہے جس کا شکار اپریل کے آغاز میں ہوا فرانسیسی مصنف نے اس کی تحقیق میں لکھا ہے کہ پوئیزن (Poisson) یہ لفظ پانچ الفاظ کے ابتدائی حروف کو ملا کر ترتیب دیا گیا ہے جن کے معنی باالترتیب (۱) عیسی(۲) مسیح(۳)اللہ(۴) بیٹا (۵) فدیہ ہیں اس دن مذاق اڑاکر گویا ان پانچ چیزوں کا مذاق اڑانا ہے نعوذ باللہ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا موجد کوئی یہودہے جس نے عیسائیوں کا مذاق اڑانے کے لیے اس رسم کو ایجاد کیا ہے لیکن آج کل کے عیسائیوں پر حیرت ہے کہ اس رسم کو انہوں نے اس طرح قبول کیا ہے جیسے ان کے مذہب کا ایک مقدس عمل ہو آج دنیا میں اسے سب سے زیادہ عیسائی مناتے ہیں ؛لیکن کچھ بھی ہو اس رسم کا شریعت کی روشنی میں ناجائز اورحرام ہونا واضح ہے ؛اس لیے کہ اس میں جھوٹ ،دھوکہ دہی اور اور دوسروں کی ایذاء رسانی ہوتی ہے جنہیں صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر مذہب اور معاشرہ ناجائز سمجھتا ہے اور کم سے کم بت پرستی ،توہم پرستی یا پیغمبرکے ساتھ گستاخانہ مذاق تو ضرور پایا جاتا ہے ۔
اللہ ہمیں اس فرسودہ اور غلط رسم سے بچنے کی توفیق دے (آمین )

شیخ ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اعظمی قاسمی اور ان کی حدیث کی خدمات

محمد نجیب قاسمی سنبھلی( ریاض)

احادیث کو عربی زبان میں سب سے پہلے کمپیوٹرائز کرنے والی شخصیت، جس کو حدیث کی خدمات پر ۱۹۸۰ء میں کنگ فیصل عالمی ایوارڈ ملا اور جس نے مستشرقین (خاص کر Joseph Schacht، Ignac Goldziher اور David Margoliouth) کے قرآن وحدیث کی تدوین پر اعتراضات کے مدلل جوابات میں انگریزی وعربی زبان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں، جس کو عصر حاضر میں شرق وغرب میں علم حدیث کی اہم ومستند شخصیت تسلیم کیا گیا ہے۔

آپ کی پیدائش ۱۹۳۰ء (۱۳۵۰ھ) کے آس پاس اترپردیش کے مردم خیز علاقہ مئو (اعظم گڑھ) میں ہوئی۔ برصغیر کی معروف علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے ۱۹۵۲ء (۱۳۷۲ھ) میں فراغت حاصل کی۔ ازہر الہند دارالعلوم دیوبند سے علوم نبوت میں فضیلت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد دنیا کے معروف اسلامی ادارہ جامعہ ازہر، مصر سے ۱۹۵۵ء میں ” شہادة العالمیة مع الاجازة بالتدریس ” (MA) کی ڈگری حاصل کی اور وطن عزیز واپس آگئے۔ ۱۹۵۵ء میں ملازمت کی غرض سے قطر چلے گئے اور وہاں کچھ دنوں غیر عربی داں حضرات کو عربی زبان کی تعلیم دی، پھر قطر کی پبلک لائبریری میں لائبریرین کی حیثیت سے فرائض انجام دئے۔ اس دوران آپ نے اپنے علمی ذوق وشوق کی بنیاد پر متعدد قیمتی مخطوطات پر بھی کام کیا۔

۱۹۶۴ء میں قطر سے لندن چلے گئے اور ۱۹۶۶ میں دنیا کی معروف یونیورسٹی Cambridge,London سے جناب A.J.Arberry اور جناب Prof.R.B.Serjeant کی سرپرستی میں Studies in Early Hadith Literature کے موضوع پر Ph.D کی۔ مذکورہ موضوع پر انگریزی زبان میں Thesis پیش فرماکر CambridgeUniversity سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہونے کے بعد آپ دوبارہ قطر تشریف لے گئے اور وہاں قطر پبلک لائیبریری میں ڈائرکٹر کی حیثیت سے مزید دو سال یعنی ۱۹۶۸ء تک کام کیا۔

۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۳ء تک جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں مساعد پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری بخوبی انجام دی ۔

۱۹۷۳ء سے ریٹائرمنٹ یعنی ۱۹۹۱ء تک کنگ سعود یونیورسٹی میں مصطلحات الحدیث کے پروفیسر کی حیثیت سے علم حدیث کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

۱۹۶۸ء سے ۱۹۹۱ء تک مکہ مکرمہ اور ریاض میں آپ کی سرپرستی میں بے شمار حضرات نے حدیث کے مختلف پہلوٴوں پر ریسرچ کی۔ اس دوران آپ سعودی عرب کی متعدد یونیورسٹیوں میں علم حدیث کے ممتحن کی حیثیت سے متعین کئے گئے، نیز مختلف تعلیمی وتحقیقی اداروں کے ممبر بھی رہے۔

حدیث کی عظیم خدمات پر ۱۹۸۰ء میں کنگ فیصل عالمی ایوارڈ :

۱۹۸۰ء (۱۴۰۰ھ) میں مندرجہ ذیل خدمات کے پیش نظر آپ کو کنگ فیصل عالمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

۱) آپ کی کتاب "دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ” جو کہ انگریزی زبان میں تحریر کردہ آپ کی Thesis کا بعض اضافات کے ساتھ عربی میں ترجمہ ہے، جس کا پہلا ایڈیشن کنگ سعود یونیورسٹی نے ۱۹۷۵ء میں شائع کیا تھا۔اس کتاب میں آپ نے مضبوط دلائل کے ساتھ احادیث نبویہ کا دفاع کرکے تدوین حدیث کے متعلق مستشرقین کے اعتراضات کے بھرپور جوابات دئے ہیں۔

۲) صحیح ابن خزیمہ جو حدیث کی صحیح بخاری وصحیح مسلم کے علاوہ احادیث صحیحہ پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے، عصر حاضر میں چار جلدوں میں اس کی اشاعت آپ کی تخریج وتحقیق کے بعد ہی دوبارہ ممکن ہوسکی۔ اس کے لئے آپ نے مختلف ممالک کے سفر کئے۔

۳) احادیث نبویہ کو عربی زبان میں سب سے پہلے کمپیوٹرائز کرکے آپ نے حدیث کی وہ عظیم خدمت کی ہے کہ آنے والی نسلیں آپ کی اس اہم خدمت سے استفادہ کرتی رہیں گی۔ ان شاء اللہ یہ عمل آپ کے لئے صدقہٴ جاریہ بنے گا۔

اس طرح ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی دنیا میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کی عربی عبارتوں کو کمپیوٹر ائز کیا۔ غرضیکہ منتسبین مکتب فکر دیوبند کو فخر حاصل ہے کہ جس طرح احادیث کو پڑھنے وپڑھانے، کتب حدیث کی شروح تحریر کرنے اور حجیت حدیث اور اس کے دفاع میں سب سے زیادہ کام ان کے علماء نے کیا ہے، اسی طرح احادیث نبویہ کو کمپیوٹرائز کرنے والا پہلا شخص بھی فاضل دارالعلوم دیوبند ہی ہے جس نے قرآن وحدیث کی تعلیم وتعلم سے کامیابی کے وہ منازل طے کئے جو عموماً لوگوں کو کم میسر ہوتے ہیں۔ یا اللہ! موصوف کو مزید نافع علم عطا فرما اور آخرت میں بھی امتیازی کامیابی عطافرما، آمین، ثم آمین۔

ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی صاحب نے کتب حدیث کی تخریج وتحقیق، ان پر تعلیقات، اپنی نگرانی میں ان کی اشاعت اور قرآن وحدیث کی تدوین کے متعلق مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جوابات انگریزی وعربی زبان میں پیش کرکے دین اسلام کی ایسی عظیم خدمت پیش کی ہے کہ ان کی شخصیت صرف ہندوستان یا سعودی عرب تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے سے ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے، حتی کہ اسلام مخالف قوتوں نے بھی آپ کی علمی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ غرضیکہ عصر حاضر میں شیخ الحدیث مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ (۱۸۷۵ء۔۱۹۳۳ء) کے شاگر رشید محدث کبیر شیخ حبیب الرحمن اعظمی رحمة اللہ علیہ (۱۹۰۱ء۔۱۹۹۵ء) کے بعد شیخ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی صاحب کا نام سرفہرست ہے جنہوں نے متعدد کتب حدیث کے مخطوطات پر کام کرکے احادیث کے ذخیرہ کو امت مسلمہ کے ہر خاص وعام کے پاس پہونچانے میں اہم رول ادا کیا۔ شیخ حبیب الرحمن اعظمی رحمة اللہ علیہ نے بھی تقریباً گیارہ احادیث کی کتابوں کی تخریج وتحقیق کے بعد ان کی اشاعت کروائی تھی۔

ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اعظمی صاحب نے سعودی نیشنلٹی حاصل ہونے کے باوجود اپنے ملک، علاقہ اور اپنے ادارہ سے برابر تعلق رکھا ہے، تقریباً ہر سال ہی اپنے وطن کا سفر کرتے رہے ہیں، اپنے علاقہ کے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد کام کرواتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اعظمی صاحب نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ سے قبل تقریباً چھ ماہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں تعلیم حاصل کی ہے، نیز آپ تقریباً ایک سال علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہے ہیں۔ آپ کے تین بچے ہیں، بیٹی فاطمہ مصطفی اعظمی امریکہ سے M.Com اور Ph.D کرنے کے بعد کنگ سعود یونیورسٹی میں مساعد پروفیسر ہیں۔ بڑے صاحبزادے عقیل مصطفی اعظمی امریکہ سے Engineering پھر Master in Engnireering اور Ph.D کرنے کے بعد کنگ سعود یونیورسٹی میں مساعد پروفیسر ہیں، چھوٹے بیٹے جناب انس مصطفی اعظمی دیوان المظالم میں ہیں۔

# اس کے علاوہ کنگ خالد بن عبد العزیز نے آپ کی عظیم خدمات کے پیش نظر ۱۹۸۲ء میں آپ کو Medal of Merit, First Class سے سرفراز فرمایا۔

سعودی نیشنلٹی:

۱۹۸۱ء (۱۴۰۱ھ) میں حدیث کی گرانقدر خدمات کے پیش نظر آپ کو سعودی نیشنلٹی عطا کی گئی۔

دیگر اہم ذمہ داریاں:

– Chairman of the Dept. of Islamic Studies, College of Education, King Saud University.

– Visiting Scholar at the University of Michigan, Ann Arbor, Michigan (1981-1982).

– Visiting Fellow of St. Cross College, Oxford, England, during Hilary term (1987).

– Visiting Scholar at the University of Colorado, Boulder, Colorado, USA (1989-1991).

– King Faisal Visiting Professor of Islamic Studies at Princeton University, New Jersy (1992).

– Member of Committee for promotion, University of Malaysia.

– Honorary Professor, Department of Islamic Studies, University of Wales, England.

علمی خدمات: آپ کی علمی خدمات کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔

۱) Studies in Early Hadith Literature: یہ کتاب دراصل ڈاکٹر مصطفی اعظمی قاسمی صاحب کی Ph.D کی Thesis ہے جو انگریزی زبان میں تحریر کی گئی تھی جس کا پہلا ایڈیشن بیروت سے ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا، دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۸ء اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں امریکہ سے شائع ہوا اور اس کے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ اس کا ۱۹۹۳ء میں ترکی زبان میں اور ۱۹۹۴ء میں اندونیشی اور اردو زبان میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ مشرق ومغرب کی متعدد یونیورسٹیوں میں یہ کتاب نصاب میں داخل ہے۔

۲) دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ: موصوف نے انگریزی زبان میں تحریر کردہ اپنی Thesis میں بعض اضافات فرماکر خود عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے، جو ۷۱۲ صفحات پر مشتمل ہے، جس کا پہلا ایڈیشن کنگ سعود یونیورسٹی نے ۱۹۷۵ء میں شائع کیا تھا۔ اس کے بعد ریاض وبیروت سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ان دونوں مذکورہ انگریزی وعربی کتابوں میں مستند دلائل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوگیا تھا ،نیز اس دعوہ کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہوا تھا۔

۳) منہج النقد عند المحدثین نشاتہ،تاریخہ: اس کتاب میں موصوف نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ محدثین کرام نے احادیث کے علمی ذخیرہ کو صحیح قرار دینے کے لئے جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کی کوئی نظیر حتی کہ ہمارے زمانہ میں بھی نہیں ملتی ہے۔ نیزاس کتاب میں تدوین حدیث کے ابتدائی دور میں محدثین کے حقیقی طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور ۲۳۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۵ء میں ریاض سے، دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۲ء میں ریاض سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۳ء میں ریاض سے شائع ہوئے ہیں، اس کے بعد بھی اس کتاب کے شائع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کتاب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے نصاب میں داخل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی اہم کتاب ہے۔

۴) کتاب التمییز للامام مسلم: امام مسلم  کی اصول حدیث کی مشہور کتاب التمییز آپ کی تحقیق وتخریج کے بعد شائع ہوئی۔

۵) Studies in Hadith Methodology and Literature: اس کتاب میں حدیث کے طریق کار سے بحث کی گئی ہے تاکہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ نیز مستشرقین نے جو شبہات پیدا کردئے تھے ان کا ازالہ کرنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ مصنف نے اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے پہلے حصہ میں احادیث کے طریق کار سے بحث کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصہ میں حدیث کے ادبی پہلو کو صحاح ستہ اور دوسری کتب حدیث کی روشنی میں اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب انگریزی داں اصحاب کے لئے علوم وادب حدیث کے مطالعہ کا اہم ذریعہ ہے جو مختلف یونیورسٹییوں کے نصاب میں داخل ہے۔ کتاب کا پہلا اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۷ء میں امریکہ سے، تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں امریکہ سے شائع ہوا۔ اس کے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

۶) The History of the Quranic Text from Revelation to Compilation:

یہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی کی بہترین تصانیف میں سے ایک ہے جس میں قرآن کریم کی تدوین کی تاریخ‘ مستند دلائل کے ساتھ ذکر فرمائی ہے۔ دیگر آسمانی کتابوں کی تدوین سے قرآن کریم کی تدوین کا مقارنہ فرماکر قرآن کریم کی تدوین کے محاسن وخوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، نیز اسلام مخالف قوتوں کو دلائل کے ساتھ جوابات تحریر کئے ہیں۔ اس کتاب میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ قرآن کریم کا حتمی نسخہ تیار کرنے کے لئے طریق کار پر بھی مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۲۰۰۳ء میں انگلینڈ سے، دوسرا ایڈیشن ۲۰۰۸ء میں دبیٴ سے شائع ہوا۔ اس کے بعد سعودی عرب، ملیشییا، کناڈا اور کویت سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

ابھی تک اس اہم کتاب کا عربی یا اردو زبان میں ترجمہ تحریر نہیں ہوا ہے۔ مولانا کی صحت اب مزید علمی مشغلہ سے مانع بن رہی ہے، انہوں نے ۸ فروری ۲۰۱۳ء کو میری ملاقات کے دوران اس عظیم کتاب کے اردو یا ہندی میں ترجمہ کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ یہ کتاب تقریباً ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔

۷) On Schacht’s Origins of Muhammadan Jurisprudence:

مشہور ومعروف مستشرق "شاخت” کی کتاب کا تنقیدی جائزہ اور فقہ اسلامی کے متعلق اس کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کے مدلل جوابات پر مشتمل ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف یونیورسٹییوں کے نصاب میں داخل ہے۔ یہ کتاب ۲۴۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۵ء میں نیویارک سے، دوسرا ایڈیشن ۱۹۹۶ء میں انگلینڈ سے شائع ہوا ہے۔ اسکے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور سلسلہ برابر جاری ہے۔ یہ کتاب دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں داخل ہے۔ ۱۹۹۶ء میں اسکا ترکی زبان میں ترجمہ شائع ہوا۔ عربی زبان میں ترجمہ اور اردو میں ملخص طباعت کے مرحلہ میں ہے۔

۸) اصول الفقہ المحمدی للمستشرق شاخت (دراسة نقدیة) یہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب کی انگریزی زبان میں تحریر کردہ کتاب کا عربی ترجمہ ہے جو ڈاکٹر عبدالحکیم مطرودی نے کیا ہے ، جو ابھی تک شائع نہیں ہوسکا ہے۔

۹) کتاب النبی ﷺ: اس کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی جانب سے لکھنے والے صحابہٴ کرام کا تذکرہ ہے۔ موٴرخین نے عموماً ۴۰۔۴۵ کاتبین نبی کا ذکر فرمایا ہے لیکن ڈاکٹر اعظمی صاحب نے ۶۰ سے زیادہ کاتبین نبی ﷺ کا ذکر تاریخی دلائل کے ساتھ فرمایا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۴ء میں دمشق سے اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۸ء میں بیروت سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں ریاض سے شائع ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ جلدی ہی شائع ہوا ہے۔

۱۰) المحدثون من الیمامة الی ۲۵۰ ہجری تقریباً : ابتدائے اسلام سے اب تک عالم اسلام کے تمام شہروں کے محدثین کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر مصنف نے الیمامہ کے محدثین کا تذکرہ اس کتاب میں کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۴ء میں بیروت سے شائع ہوا ہے۔

۱۱) موٴطا امام مالک: آپ کی تخریج وتحقیق کے بعد اس اہم کتاب کی ۸جلدوں میں اشاعت ہوئی۔ یہ حدیث کی مشہور ومعروف کتاب ہے جو امام مالک نے تصنیف فرمائی ہے، بخاری ومسلم کی تحریر سے قبل یہ کتاب سب سے معتبر کتاب تسلیم کی جاتی تھی۔ آج بھی اسے اہم مقام حاصل ہے۔ موٴسسة زاید بن سلطان آل نہیان ، ابوظبی نے اس کی اشاعت کی ہے۔ آپ نے موٴطا مالک کے راویوں پر بھی کام کیا ہے جن کی تعداد آپ کی تحقیق کے مطابق ۱۰۵ ہے۔

۱۲) صحیح ابن خزیمہ: صحیح ابن خزیمہ جو حدیث کی صحیح بخاری وصحیح مسلم کے علاوہ احادیث صحیحہ پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے، ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب نے ہی حدیث کی اس نایاب کتاب کو تلاش کیا جس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ ضائع ہوچکی ہے، اس طرح حدیث کی یہ اہم کتاب موصوف کی تخریج وتحقیق کے بعد ہی دوبارہ شائع ہوسکی۔ اس کی چار جلدیں ہیں ، پہلا ایڈیشن ۱۹۷۰ء میں بیروت سے، تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۲ء میں ریاض سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۹۳ء میں بیروت سے اور اس کے بعد بے شمار ایڈیشن مختلف اداروں سے شائع ہوئے اور ہو رہے ہیں۔

۱۳) العلل لعلی بن عبداللہ المدینی : آپ کی تحقیق وتعلیق کے بعد اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۲ء میں اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

۱۴) سنن ابن ماجہ : حدیث کی اس اہم کتاب کی آپ نے تخریج وتحقیق کرنے کے بعد اس کو کمپیوٹرائز کرکے چار جلدوں میں ۱۹۸۳ء میں ریاض سے شائع کرایا۔ احادیث کو کمپیوٹرائز کرنے کا سلسلہ آپ نے کسی حد تک CambridgeUniversity میں Ph.D کے دوران شروع کردیا تھا۔

۱۵) سنن کبری للنسائی : آپ نے ۱۹۶۰ء میں اس کے مخطوطہ کو حاصل کرکے اسکی تخریج وتحقیق کے بعد اشاعت فرمائی۔

۱۶) مغازی رسول اللہ ﷺ لعروة بن زبیر بروایة ابی الاسود : مشہور ومعروف تابعی حضرت عروہ بن زبیر  (ولادت ۲۳ھ) کی سیرت پاک کے موضوع پر تحریر کردہ سب سے پہلی کتاب (مغازی رسول اللہ ﷺ) ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب نے اپنی تخریح وتحقیق اور تنقید کے بعد شائع کی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اس بات کی علامت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد سیرت نبوی پر لکھنا شروع ہوگیا تھا۔ ادارہٴ ثقافت اسلامیہ، پاکستان نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے ۱۹۸۷ء میں شائع کیا ہے، اس کتاب کا انگریزی زبان میں تعارف طباعت کے مرحلہ میں ہے۔ اصل کتاب (عربی زبان میں) کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں ریاض سے شائع ہوا ہے۔

۱۷) صحیح بخاری کا مخطوطہ: متعدد علماء کے حواشی کے ساتھ ۷۲۵ھ میں تحریر کردہ صحیح بخاری کا مخطوطہ جو ۱۹۷۷ء میں استنبول سے حاصل کیا گیا ،موصوف کی تحقیق کے بعد طباعت کے مرحلہ میں ہے۔

غرض ڈاکٹر محمدمصطفی اعظمی قاسمی صاحب نے حدیث کی ایسی عظیم خدمات پیش فرمائی ہیں کہ ان کی حدیث کی خدمات کا اعتراف عالم اسلامی ہی میں نہیں بلکہ مستشرقین نے بھی آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ الہم زد فزد۔ موصوف کی اکثر کتابیں انٹرنیٹ پر FreeDownload کے لئے مہیا ہیں۔