اقبال کے فکری اور تخلیقی سر چشمے

حفظ الرحمن قاسمی

اقبال ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر شاعر ہیں۔ ظاہر ہے کہ انھیں عظمت و بلندی کا یہ مقام حاصل کرنے کے لئے بے شمار کتابوں، نظریات و افکار اور بیشتر نامور شاعروں اور مفکروں کا بنظر غائر مطالعہ کرنا پڑا ہوگا۔ چنانچہ ان کے کلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انھوں نے دنیا کے بے شمار صاحب نظر افراد؛ بلکہ مختلف فلسفیانہ اور حکیمانہ نظریات اور کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اس استفادہ کے دوران رد و قبول کے سلسلے میں ان کے یہاں جو معیار تھاوہ قرآن و سنت تھا۔ انھوں نے عربی مقولہ ’خذ ما صفا و دع ما کدر‘ کے اصول پر شخصیات، حکیمانہ نظریات اور کتابوں سے استفادہ کے بعد اپنے فن اور فکر کی عمارت کھڑی کی ہے۔

جب ہم اقبال کے فکری اور تخلیقی سر چشموں کی چھان بین کرتے ہیں تو ہمیں ان کی شاعرانہ اور مفکرانہ دونوں حیثیتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے اور پھراس بات کی تحقیق کرنی چاہیے کہ انھوں نے بطور شاعر اسلوب بیان ، شاعری کی فنی خصوصیات اورالفاظ وتعبیرات کے لحاظ سے کن شعرا کی پیروی کی ہے۔ ایسے شعرا کو ہم اقبال کا فنی سر چشمہ قرار دے سکتے ہیں،دوسرے ان عناصر کا پتہ لگانا ہوگا جن سے فکر اقبال کو جلا ملی اوروہ فکر، بلند خیالی ، سوز و مستی اور جذب و عشق کے عظیم شاعر بن گئے۔

اقبال کے فنی سرچشمے

اقبال نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا تو ہر طرف غزل کی گرم بازاری تھی اور دا غ و میر کا رنگ سخن مقبول خاص و عام تھا۔ چنانچہ اقبال بھی غزل گوئی کی طرف متوجہ ہوئے اور عام طرز سخن کو اختیار کیا۔ اس زمانہ میں داغ نے حیدر آباد میں اصلاح سخن کا دفتر قائم کر رکھا تھا، شعرا کا کلام ڈاک سے موصول ہوتا تھا اور اصلاح کے بعد واپس کر دیا جاتا تھا۔ اقبال بھی داغ کے نا دیدہ پرستار تھے، چنانچہ ان کے حلقہ تلامذہ میں شامل ہو گئے۔

مجھے بھی فخر ہے شاگردی داغ سخنداں کا

اقبال کے اس زمانہ کے کلام کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں اس وقت داغ کی مکمل پیروی کی اور اپنی شاعری میں اس زمانے کی بہت سی غزلوں کو اس مجموعہ میں شامل نہیں کیا۔ ان میں سے ایک غزل کے چند اشعار یہ ہیں:

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

تمھارے پیامی نے سب راز کھولا خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

اس کے بعد اقبال کی زندگی میں ایک زبر دست انقلاب آیا، وہ روایتی عشقیہ شاعری کو تضییع اوقات سمجھنے لگے اور فیصلہ کیا کہ اب ایسی شاعری کی جائے جس سے قوم کے مردہ جسم میں جان آ جائے۔ اس مقصد کے لئے داغ کا اسلوب بے مصرف تھا۔چنانچہ وہ غالب کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ وہ شاعری سے جو کام لینا چاہتے تھے اس میں غالب کا اسلوب ہی معاون ہو سکتا تھا۔ غالب کا فلسفیانہ انداز بیان اور فارسی تراکیب اقبال کے کام میں اس حد تک جلوہ گر ہوئیں کہ کسی نے انھیں غالب کا معنوی شاگرد قرار دیا، کسی نے کہا اگر غالب نہ ہوتے تو اقبال بھی نہ ہوتے، سر عبد القادر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اقبال کے روپ میں غالب نے دوبارہ جنم لیا ہے خود علامہ نے بانگ درا اور جاوید نامہ میں جس انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے وہ غالب سے ان کی عقیدت اور اثر پذیری کا بین ثبوت ہے۔ لیکن غالب اور اقبال میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ غالب فلسفی نہیں البتہ حکیمانہ نظر رکھتے ہیں، جب کہ اقبال فلسفی ہیں اور ایک مربوط فلسفہ رکھتے ہیں۔

اب ان کی غزل کا انداز روایت سے ہٹ کر شاعری کو ایک نئی سمت سے روشناس کرا نے لگا۔

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا سکوت تھا پردو دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا

یہ نمونہ ہے بانگ درا کی ان غزلوں کا جو اقبال کی نئی منزل کا پتہ دیتی ہیں۔ بال جبریل کو اقبال کی فکری و فنی معراج کہا جا تاہے۔ اس میں جو غزلیں ہیں وہ اردو شاعری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بال جبریل کی غزلوں نے اردو غزل کوایک تواناصنف سخن کی حیثیت سے متعارف کرایا ہے۔ کلیم الدین احمد نے غزل کے شعر پر یہ تنقید کی تھی کہ ’غزل کا شعر! دو مصرعے! دو مصرعوں کی بساط ہی کیا؟‘ لیکن اقبال نے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا تھاکہ کوزہ میں دریا کو سمونا بھی ممکن ہے بشرطیکہ انسان کو اس کا ہنر معلوم ہو، چنانچہ اقبال نے پیچیدہ فلسفے اور مشکل پیغام کو بھی پورے شعری آداب کے ساتھ غزل کے شعر میں پیش کیا۔

جن شعرا کے اسلوب سے اقبال کا کلام متاثر نظر آتا ہے ان میں ایک نام حافظ شیرازی کا بھی ہے۔ اقبال کو حافظ کے انداز فکرسے سخت اختلاف تھا ، لیکن وہ ان کے کمال شاعری کے مداح تھے۔ چنانچہ سب کو اعتراف ہے کہ اقبال کے اسلوب شاعری خصوصاپیام مشرق کی نظموں اور زبور عجم کی غزلوں میں وہی غنائیت و سرمستی ہے جو حافظ کی شاعری کا طرہ امتیاز ہے۔ نظیری و بیدل کی شاعری کے رنگ سے بھی وہ متاثر تھے اور اس رنگ کے اثرات ان کی شاعری میں بھی جا بجا واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ شاکر صدیقی کو ایک خط میں بیدل اور نظیر ی کے مطالعے کا مشورہ دیتے ہیں کہ اس سے ان کی فارسی کا ذوق خودبخود بیدار ہوگا۔ نیاز فتحپوری نے اقبال کی غزل گوئی پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے زبان و تعبیرات اور خیال و اسلوب کے لحاظ سے جن شعراے فارسی سے استفادہ کیا ہے ان میں غالب، بیدل، نظیری، عرفی وغیرہ بھی شامل ہیں، لیکن آہنگ تغزل میں وہ حافظ سے بہت متاثر تھے۔

اقبال کے فکری سر چشمے

اقبال کی شاعرانہ عظمت تو مسلم ہے، لیکن ان کی فکر اس قدر بلنداور پختہ ہے کہ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اقبال بڑے مفکر ہیں یا بڑے شاعر۔ بہر کیف اقبال کی زندگی کا یہ پہلو ایک مستقل موضوع بحث ہے۔ یہاں ہمیں ان عناصر کی جستجو کرنی ہے جنھوں نے اقبال کو درد و سوز، تب و تاب اور ان کی فکر کو نئی قوت و توانائی بخشی۔

ایمان و یقین :

اقبال کی شخصیت کے عناصر ترکیبی میں سب سے پہلی چیز ان کا ’ایمان و یقین‘ ہے۔ ایمان و یقین ہی اقبال کی ساری طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا پہلا منبع اور سر چشمہ ہے۔اقبال کا ایمان اس خشک و جامد ایمان کی طرح نہیں جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہوتا ہے؛ بلکہ ان کا ایمان عقیدہ و محبت کا حسین امتزاج ہے جو ان کے قلب و وجدان، عقل و فکر اور ارادہ و تصرف، تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ تھامس آرنلڈ نے ’مذہب اسلام ‘(The Faith of Islam) میں لکھا ہے کہ ’ان کا ایمان ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات مثالی معاشرے کی بنیاد ہیں اور انہیں کے ذریعہ عالم اسلام کی نشاۃ ثانیہ ممکن ہے۔ بنی کریم ﷺکے ساتھ ان کی محبت اورشغف انتہا درجہ کا تھا۔ ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندہ جاوید دین ہے جس کے بغیر انسانیت فلاح و بہبود کے بام عروج تک نہیں پہونچ سکتی۔‘

مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک دمک سے بھی اقبال کی آنکھیں خیرہ نہ ہو ئیں، حالانکہ انھوں نے اپنی زندگی کے طویل ایام جلوہ دانش فرنگ میں گذارے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مضبوط ایمان تھا اور بنی کریم ﷺسے ان کی قلبی محبت تھی،جس نے ان کو فساد قلب و نظر سے محفوظ رکھا:

خیرہ نہ کر سکی مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میر آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

جوں جوں زندگی کے دن گذرتے گئے، اقبال کی بنی ﷺکے ساتھ والہانہ محبت بڑھتی گئی، یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی نبی ﷺ یا مدینہ کا ذکر ہوتا، تو بے قرار ہو جاتے اور آنکھیں نم ہو جاتیں، یہی وہ گہری محبت تھی جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی، چنانچہ اللہ تعالی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مکن رسوا حضور خواجہ مارا

حساب من زچشم او نہاں گیر
ان کا کلام اگر ایمان و محبت سے خالی ہوتا تو ایک مقفی اور موزوں کلام تو بن جا تا لیکن زندہ جاوید پیغام نہ بنتا۔

قرآن:

اقبال کی شخصیت کا دوسرا تخلیقی عنصر قرآن کریم ہے۔ اقبال کی زندگی پر اس عظیم کتاب سے زیادہ کوئی دوسری چیز اثر اندازنہیں ہوئی۔ قرآن کریم ان کے دل و دماغ پر چھایا ہو تھا، مولانا مودودی ’جوہر‘ (اقبال نمبر) میں لکھتے ہیں کہ ’اقبال جو کچھ سوچتا تھا وہ قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔ حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شئے واحد تھے۔‘ ‘ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کہتے ہیں کہ ’اقبال قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن تھا۔‘

قرآن کے ساتھ اقبال کے اس تعلق و شغف کی کیا وجہ تھی؟ در اصل اس کی وجہ وہ واقعہ تھا جو انھوں نے خود بیان کیا کہ بچپن میں اقبال کے والد نے ان سے کہا تھا کہ قرآن اس طرح سے پڑھو گویا تم پر ابھی نازل ہو رہا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن سمجھ کر پڑھنا شروع کر دیا۔ اپنے ایک شعر میں وہ اس کا اظہار کرتے ہیں:

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

پھرتو گویا قرآن کریم ان کی زندگی پر اس طرح چھا گیا کہ وہ قرآن کے شاعر ہو گئے، خود ان کا دعوی ہے کہ ان کاکوئی شعر قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں۔ ’عرض حال مصنف‘ کے عنوان سے انھوں نے ایک جگہ گڑ گڑا کر حلفیہ بیان کیا ہے کہ ان کے کلام کا ایک ایک لفظ قرآن کے مطابق ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو حشر کے دن انھیں آنحضرت ﷺ کا دیدار نصیب نہ ہو:

گر دلم آئینہ بے جوہر است ور بحرفم غیر قرآں مضمر است
روز محشر خوار و رسوا کن مرا بے نصیب از بوسہ پا کن مرا

آہ سحر گاہی:

چوتھی چیز جس نے اقبال کی شخصیت کو پروان چڑھایا اور ان کی شاعری کو نت نئے معانی، افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطاکی ، وہ ان کی آہ سحر گاہی تھی۔ جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا تو اخیر شب میں اقبال اٹھتے اوراپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوکر گریہ و زاری کرتے، یہی وہ چیز تھی جو ان کی روح کو ایک نشاط، قلب کو ایک نئی روشنی اور فکر کو ایک نئی پرواز عطا کرتی تھی۔

اقبال کے نزدیک آہ سحرگاہی زندگی کا بہت عزیز سرمایہ ہے، بڑے سے بڑا عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں:

عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

الحاصل سحر خیزی نے اقبال کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کا عقیدہ بھی تھا کہ اس کے بغیر کوئی بھی انسان انسانیت اور حکمت و تدبر کے اعلی منازل نہیں طے کر سکتا ، اس لئے وہ قوم کے جوانوں کے لئے اس چیز کی تمنا بھی کرتے ہیں:

جوانوں کو سوز جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے

مجدد الف ثانی:

شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کی شخصیت اور افکار نے اقبال کی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالاہے۔ اقبال کو شیخ سے بے پناہ لگاؤ اور محبت تھی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے بیان کے مطابق ان کی پیدائش سے قبل علامہ شیخ کے مزار پر حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ ان کی پیدائش کے بعد علامہ ان کو ساتھ لے کر دوبارہ مزار پر حاضر ہوئے اور قرآن کی تلاوت کی اور دعا کی۔ اس وقت ان کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔ علامہ نے خود بھی شیخ کے مزار پر حاضری کے بعد اپنے قلبی احساس کو شعر میں پرویا ہے:

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر وہ خاک کہ ہے زیر نظر مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار

سوال یہ ہے کہ شیخ سے اقبال کی محبت، الفت اور اثر پذیری کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ اقبال کے ’مرد مومن‘ اور ’انسان کامل‘ کا واقعی مصداق تھے، مزید یہ کہ فکری اعتبار سے بھی دونوں میں یکسانیت تھی، دونوں ہی ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کو گمراہ کن خیال کرتے تھے اور اس کی توجیہ وحدت الشہود سے کرتے تھے۔ دونوں ہی حقیقت شناسی کے لئے علم و عقل کے مقابلے میں الہام و وجدان کو ضروری خیال کرتے تھے۔ دونوں اس بات کے متمنی تھے کہ مسلم قوم پورے طور پر قرآن و شریعت پر آجائے اور اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سعی کرے۔ یہی وہ فکری یکسانیت تھی جس کی وجہ سے اقبال حضرت شیخ سے بے حد متاثر تھے اور اس اثر پذیری نے بھی اقبال کی شخصیت و فکر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔

مولانا روم:

نبیﷺ کے بعد اگر کسی انسان اور اس کے افکار نے اقبال کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ، تو وہ مولانارومی اور ان کی مثنوی ہے۔ اقبال کو مولانا سے اس قدر لگاؤ اور محبت ہے کہ وہ مولانا کو اپنا معنوی استاد اور رہنما سمجھتے ہیں۔ اپنے کلام میں نہ صرف یہ کہ اقبال رومی کا بارہا تذکرہ کرتے ہیں بلکہ کبھی ان کے اشعار کو انتساب کو طور پر اپنے مجموعہ کلام کے سر ورق کی زینت بناتے ہیں، کبھی ان کے اشعار کی تضمین کرتے ہیں، کبھی مصرعوں پر مصرعے لگا تے ہیں۔ اقبال کی نگاہ میں رومی کی قدر و منزلت صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ رومی ایک عظیم شاعر یا مفکر ہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھکر وہ انھیں اپنا روحانی اور فکری پیشوا مانتے ہیں۔ رومی نے اقبال پر خودی کے اسرار کس طرح سے فاش کئے اور فکر اقبال کی کس طرح تعمیر کی وہ ان کے اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے:

باز بر خوانم زفیض پیر روم دفتر سربستہ اسرار علوم
پیر رومی خاک را اکسیر کرد ازغبار م جلوہ ہا تعمیر کرد

اقبال نے کئی جگہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حیات و کائنات کے رازوں سے انہیں مولانا روم نے آشنا کیا:

صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش لاکھ حکیم سر بجیب ایک کلیم سر بکف

در اصل مولانا رومی اور اقبال کے تصور عشق کی ہم آہنگی نے ہی اقبال کو رومی سے اس قدر قریب کر دیا۔ مثنوی معنوی اور دیوان شمس تبریز کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومی کے نزدیک عشق تمام کائنات کی روح ، زندگی کا حاصل اور مبدا و منتہی ہے۔ عشق ایک تکوینی قوت ہے جو ہر ذی روح و غیر ذی روح میں جوہر ذاتی کے طور پر موجود ہ اور ذوق ارتقا و شوق نمود کا باعث ہے۔ عشق کے بارے میںیہی نظریہ اقبال کا بھی ہے:

عشق کے مضراب سے نغمہ تار حیات عشق ہے نور حیات عشق ہے نار حیات
از محبت چوں خودی محکم شود قوتش فرماں دہ عالم شود

اس کے علاوہ دونوں کے درمیان ایک فکری یکسانیت یہ بھی ہے کہ دونوں حقیقت شناسی کے سلسلے میں وجدان کو منطقی استدلال پر ترجیح دیتے ہیں۔ دونوں ترک نفس سے زیادہ تزکیہ نفس پر زور دیتے ہیں اور تکمیل خودی پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں توکل کو تعطل کا مرادف سمجھتے ہیں اور سعی و عمل کو زندگی کی اصل حقیقت خیال کرتے ہیں اور دونوں کے نزدیک زندگی کا مقصد اس کے بے شمار امکانات کا کھوج لگا کر انھیں عملی شکل میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ ہے وہ فکری یکسانیت جس کی وجہ سے اقبال رومی کے گرویدہ ہو ئے، بلکہ یوں کہا جانا چاہیے کہ رومی کے افکار کی روشنی میں ہی اقبال نے اپنے فلسفہ حیات کی تشکیل کی ہے۔

خاتمہ:

اقبال نے مذکورہ شخصیات کے علاوہ اور بھی بہت سے مشرقی و مغربی مفکرین کا مطالعہ کیا ہے اور ان سے اثربھی قبول کیا ہے، البتہ مذکورہ بالاعناصر نے اقبال کی زندگی اور فکر کو سب سے زیا دہ متاثر کیا۔ خلاصہ یہ کہ داغ کی غزل گوئی، غالب کے اسلوب بیان، حافظ شیرازی کی غنائیت و سرمستی، نظیری و بیدل کی فارسی گوئی، ایمان و یقین کی قوت، قرآنی پیغام کی بلندی اور آفاقیت، سحر خیزی کی دولت و برکت، مجدد الف ثانی کی ایمانی جرات و عزیمت اور رومی کے عشق کوملا کرجب ایک خمیر تیار کیا جائے تو اس سے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر شاعرپیدا ہوتا ہے جس کو دنیاعلامہ اقبال کے نام سے جانتی ہے۔

انسداد عصمت دری کی اسلامی تدابیر

حفظ الرحمن قاسمی

جدید علم سماجیات میں انسانوں کو Social Animal (سماجی حیوان) کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان در حقیقت ایک حیوان ہے،اور جانوروں سے صرف اس معنی کر ممتاز ہے کہ یہ فطری طور پر سماجی زندگی گذارنے کا خوگر ہے۔ انسان کی اس تعبیر کا مفہوم اوراس کی حقیقت کیا ہے، اس سے قطع نظر ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ علم سماجیات نے انسان کو تعبیری طور پر ایک جانور تسلیم کیا ہے۔ اس کے برخلاف انسان کی اسلامی تعبیر ’اشرف المخلوقات‘ ہے۔ اس تعبیر کے فرق سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ اسلام کی نگاہ میں انسان کتنا مکرم اور عظیم ہے۔

یہ فطری قانون ہے کہ جو چیز جس درجہ قابل قدر ہوتی ہے، اس کی بقا اور تحفظ کا اہتمام بھی اتنا ہی کیا جاتا ہے، چنانچہ اسلام نے بھی انسان کی جان ، مال اور آبرو کے تحفظ کی خاطر موثر اور مستحکم اصول بنائے ہیں۔ جان کی حفاظت کے لئے قرآن نے قصاص کا اصول پیش کیا ہے (بقرہ: ۱۷۹)جس کے انطباق سے جان کی حفاظت یقینی ہو جاتی ہے۔ مال کی حفاظت کے لئے قرآنی اصول قطع ید ہے (المائدہ: ۳۹) اور جن ممالک میں یہ اصول آئین کا حصہ ہے وہاں چوری کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں۔ انسان کی عزت و آبرو اسلام کی نگاہ میں سب سے اہم ہے اس لئے اسلام نے اس کے تحفظ کے لئے کئی موثر اصول بنائے اور حفاظتی تدابیر پیش کیں۔ اگر ان اصول و تدابیر کو انسان عملی زندگی میں لے آئے تو اس کی عزت و آبرو پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔

عصمت دری کے حالیہ افسوسناک واقعہ کے پیش آنے کے بعد پوری قوم حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ مجرمین کو سزائے موت دی جائے۔ لیکن اگر اس فعل شنیع کی پاداش میں اسلام کے ذریعہ تجویز کردہ سزا کو قانونی حیثیت دے دی جاتی تو شاید آج مریم کی بیٹیاں اپنی آبرو کی تحفظ کے لئے انڈیا گیٹ اور پارلیمنٹ کے چکر نہ کاٹتیں۔ اسلام کی نگاہ میں عورتوں کی عصمت اس قدر پیاری ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ عصمت دری پر حد جاری کرتا ہے(زانی اگرشادہ شدہ ہو تو رجم، ورنہ سو کوڑے)، بلکہ تہمت زنا کو بھی ایک مجرمانہ فعل(Criminal Act) گردانتے ہوئے حد قذف (اسی کوڑے) پیش کرتا ہے۔

یہ حدود اس قدر پختہ اور مستحکم ہیں کہ گناہ کے ثبوت کے بعد ہر حال میں جاری کی جائیں گے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’اپنے اور بیگانے سب کے بارے میں حدوداللہ کو قائم کرو۔ اور اللہ کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت تمھیں دامنگیر نہ ہو۔‘ ( مشکوۃ المصابیح) واضح رہے کہ اس سلسلے میں کسی کی سفارش بھی قابل قبول نہ ہوگی۔ اگر ان حدود کے اجرا کی راہ میں کسی کی سفارش آڑے آتی ہے تو ایسے شخص کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’اس نے اللہ کی مخالفت کی اور جو شخص جانتے ہوئے باطل کے بارے میں جھگڑا کرے گا وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا۔‘ حدیث پاک میں جو شدید لہجہ اور پھر سفارش کی سلسلے میں جو وعید پیش کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام عصمت دری کے جرم کو قابل معافی نہیں گردانتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ دور حاضر کی عام ملحدانہ ذہنیت کے بر عکس اسلام نے زنا بالرضا کو بھی قابل مواخذہ جرم قرار دیا ہے۔ چنانچہ اگر دونوں کی رضامندی کے ساتھ اس فعل کا ارتکاب کیا جائے تو دونوں پر حد جاری کی جائے گی۔ اس لئے کہ ایسی صورت میں دونوں نے مل کر ایک ایسے اخلاقی نظام کو توڑا ہے جوعائلی نظام کے بقا اور فتنہ کے سد باب کے لئے ضروری تھا۔ مزید یہ کہ زنا بالرضا بھی جبری عصمت دری کی راہ ہموار کرتا ہے۔

بہر کیف ان سزاؤں کو آئینی حیثیت دینے کے ساتھ ساتھ اسلام نے عزت و عصمت کی حفاظت کے لئے کچھ تدابیر بھی بتائیں ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج پوری قوم اس وبا سے پریشان ہے، لیکن اس سے بچنے کی جو فطری تدابیر ہیں ان کی طرف کسی کی نگاہ نہیں جاتی۔تاہم اہل نظر اس بات کا انکار نہیں کرسکتے کہ اگر ان تدابیر کو اپنا یا جائے تو معاشرہ اس ناسور سے پاک ہو سکتا ہے۔ سطور ذیل میں مختصراً ان حفاظتی تدابیر کو پیش کیا جاتا ہے۔

زناکاری ایک سنگین جرم: عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کوتاراج کرنے والے عمل یعنی زنا کی شناعت و قباحت کو سمجھا جائے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس کی سنگینی کوبیان کیا کہ زنا ایک برا عمل ہے۔ پھر برائیوں سے احتراز کرنے کے لئے متعدد آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا۔ قرآن نے زنا کی قباحت اور سنگینی کو بیان کرنے لئے’فاحشۃ‘کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی ’حد سے آگے بڑھنا‘ ہیں ، تو اب زنا کا مطلب ہوگا اللہ کے قائم کردہ حدود کو پار کرنا۔ اور ہر انسان جانتا ہے کہ حدود کو پار کر کے کسی ممنوعہ علاقہ میں گھس جانا سماج میں کتنا بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے اپنے حدود کا احترام کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی ہے، جب کہ حدود سے تعدی کرنے والوں کو جہنم اور رسوا کن عذاب کی وعید سنائی ہے۔ ( نساء: ۱۴، ۱۵)اسی طرح مختلف احادیث میں نبی کریم ﷺنے زنا کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے کہیں اس کووبائی امراض کا باعث بتایا (ابن ماجہ)، کہیں قحط سالی کا سبب بتایا (مشکوۃ)، کہیں افلاس کو مستلزم قرار دیا (بیہقی)۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کے عذاب کی و عید بیان کی۔

خلاصہ یہ کہ انسداد زنا اور عصمت دری کے لئے قرآن و حدیث نے سب سے پہلی تدبیر کے طور پر اس کی سنگینی اور شناعت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا اور آخرت میں اس سے مرتب ہونے والے نتائج کو بھی واضح کیااور لوگوں کو اس کے دواعی و اسباب کے قریب بھی پھٹکنے سے خبر دار کیا، چہ جائیکہ اس کا ارتکاب کیا جائے۔ ( الاسراء: ۳۳)

بے محابا اختلاط سے احتراز: کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اسباب و عوامل پر غور کیا جائے اور ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس لئے کہ اگرتنے کو کاٹنے پر اکتفا کرتے ہوئے جڑ کو چھوڑ دیا جائے تو دیر سویر اس کی کونپلیں زندگی کے آثار پاکر دوبارہ تناوردرخت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اس لئے جب اسلام نے دیکھا کہ عورتوں اور مردوں کا بے محابا اختلاط (Free Intimation)اور تنہائی میں ملنا اکثر و بیشتر نا جائز تعلقات کی راہ ہموار کرتا ہے، تو اس نے عورتوں کی عصمت کی حفاظت کے لئے اختلاط مرد و زن کو ممنوع قرار دیا۔ تجربہ ہے کہ جب تک دونوں جنس آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے قریب نہ ہو جائیں، اس وقت تک معاصی میں مبتلا ہونے کے امکانات پیدا نہیں ہوتے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں نبی کریم ﷺ کی پاک زبان سے اللہ نے اس کی ممانعت کو بیان فرمایا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’غیر محرم عورت پر داخل ہونے سے بچو۔‘ (بخاری و مسلم) یہی نہیں بلکہ اسلام نے دیوروں کے ساتھ بھی تنہائی میں ملنے اور بے تکلف ہونے سے منع کیا ہے۔ نبی کریمﷺسے کسی نے شوہر کے رشتہ داروں سے اختلاط کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کے یہ رشتہ دار تو موت ہیں۔ (مشکوۃ) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو اپنے ان سسرالی رشتہ داروں سے جن کے ساتھ عام طور رشتہ کی نوعیت بے تکلفانہ ہوتی ہے، ایسے ہی ڈرنا چاہیے جیسا کہ موت سے ڈر لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے ان سے فتنہ کے وقوع کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کا خلوت میں پہونچنا اور ملنا سماج میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ اس حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ایسے دلدوز واقعات سامنے آتے ہیں جن میں نہ صرف رشتہ اخوت کا تقدس پامال ہوتا ہے، بلکہ معاملہ خون خرابہ تک آجا تا ہے۔ اس لئے اسلام نے اس کو ممنوع قرار دیا۔

غض بصر: آنکھیں دل کا دروازہ ہیں۔ جب انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے، تو اس کی خصوصیات آنکھوں کے راستے اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ پھر اگر اس چیز میں اس کے لئے پسندیدگی کا سامان بھی ہو تو اس کے حصول پر دل اسے مجبور کرتا ہے۔ اس لئے عصمت نسواں کے تحفظ کے لئے اسلام نے غیر محرم پر نظر کرنے سے منع کیا۔ ( نور: ۳۱)اگر کسی پر اتفاقیہ نظر پڑ جائے تو اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ فورا ہٹا لی جائے، اس پر نظر جما نا یا دوبارہ بالارادہ دیکھنا جائز نہیں۔ (ترمذی شریف)

اسی طرح عورتوں کو بھی تاکید کی گئی کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر نہ کریں۔( نور: ۳۲) اس سے نہ صرف یہ کہ خود ان کے دل میں وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے؛ بلکہ اگر کوئی مرد کسی عورت کو اپنی طرف دیکھتا ہوا محسوس کرلے تو اس میں فطری طور پربرائی کا ارادہ جنم لیتا ہے اور وہ اس سے قربت کی جرات کرنے لگتا ہے۔ اس سلسلے میں تیسری چیز یہ کہی گئی کہ عورتوں کو اپنے بدن کو چادرسے ڈھانک لینا چاہیے۔( احزاب: ۵۹) اس لئے کہ اگر دو عورتیں ایک جگہ ہوں، ان میں سے ایک مہذب لباس میں ملبوس ہو، جبکہ دوسری نیم عریاں اپنے جسم کی نمائش کر رہی ہو، تو عام طور پر دیکھنے والے کے دل میں بد خیالی دوسری عورت کے تعلق سے ہوگی، جبکہ پہلی عورت کے تعلق سے اس کے دل میں عزت پیدا ہوتی ہے اس کا دل اس کوبد خیالی سے روکتا ہے۔

مہذب لباس:لباس کے کئی مقاصد ہیں، جیسے بدن کا چھپانا، موسم کی تلخیوں سے حفاظت اور زینت۔ لیکن ان میں سب سے پہلا مقصد ستر عورت ہے۔ (اعراف: ۲۷) اور اسی لباس سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے جو نہ تو اتنا باریک ہوکہ جسم پورے طور پر نظر آئے اور نہ ہی اتنا تنگ کہ نشیب و فراز نمایاں ہو۔ لباس کے اعتبار سے انسان کی اصل ترقی یہی تھی، اس لئے اسلام نے اس کو لازم کر دیا۔ اس لئے کہ اس کے علاوہ کسی اور لباس کو اپنانا تنزلی کی جانب واپس لوٹنے کے مترادف ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ ایسا لباس جو جسم کے خاص حصوں کو نمایاں کرے وہ دیکھنے والوں کے دلوں میں برے خیالات پیدا کرتے ہیں اور نتیجتا اس سے عزت خطرہ میں آجاتی ہے۔ اس لئے اسلام نے مرد و عورت دونوں کے لئے لباس کا ایک خاص معیار متعین کیا، تاکہ لباس کے تمام مقاصد حاصل ہوں۔

استیذان: ذاتیات (Privacy ) ہر انسان کا پیدائشی حق ہے، کسی کو یہ اختیار نہیں کہ کسی کی ذاتی زندگی میں خلل انداز ہو۔ اس لئے اسلام نے معاشرتی زندگی کا ایک قاعدہ یہ بیان کیا کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لینی چاہیے۔ (نور: ۲۸)اس لئے کہ انسان کا گھر اپنا ہوتا ہے، اور اپنے گھر میں انسان کس حالت میں ہو، کسی کو پتہ نہیں۔ چانچہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بلا اجازت چلا جائے اور گھر کی عورتیں مکمل پردے میں نہ ہو ں تو اس سے معاشرتی نظام بگڑ جاتا ہے۔واضح رہے کہ یہ حکم صرف دوسرے لوگوں ہی کے لئے نہیں؛ بلکہ اگر پورا کنبہ مشترکہ طور پر ایک ساتھ رہتا ہو، تو اس حالت میں بھی گھر کے لوگوں کو یہ حکم ہے کہ داخل ہونے سے پہلے سلام کریں، تاکہ اندر کی عورتیں ہوشیار ہو جائیں، یہاں تک کہ گھر میں رہنے والے بچے جب بلوغ کو پہونچ جائیں اور ان میں صنفی احساس بیدار ہونے لگے تو انھیں بھی سلام کرنا اور اجازت لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

تبرج جاہلیہ سے اجتناب:عورتوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور بلا ضرورت باہر نہ نکلیں۔ اور اگر کسی ضرورت کی وجہ سے نکلنا بھی ہو توزیب و زینت کر کے نہ نکلیں۔ (سورہ احزاب: ۳۳) زمانہ جاہلیت میں عورتوں کی عادت تھی کہ وہ گھروں میں کم اور باہر زیادہ ہوتی تھیں اور وہ بھی پورے زیب و زینت کے ساتھ، اس لئے کہ ان کے میں عزت و عفت کی کوئی وقعت نہ ہوتی تھی، اس کو قرآن نے تبرج جاہلیہ سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن یہ چیزباعزت اور شرفا کی عورتوں کے لئے مناسب نہ تھی۔ اس لئے اسلام نے انھیں گھروں میں رہنے کا حکم دیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام نے انھیں گھروں میں قید کر کے رکھ دیا ہے اور تعلیم و تربیت اور ترقی کے سارے دروازے ان کے لئے بند کر دئے۔ بلکہ بوقت ضرورت انھیں گھروں سے نکلنے اجازت ہے، البتہ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ نکلتے وقت بناؤ سنگار کا اہتمام نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے کشش پیدا ہوتی ہے اور وہ ہوس زدہ لوگوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

یہ ہیں وہ تدابیر جو اسلام نے صنف نازک کی عصمت کے تحفظ کے لئے پیش کی ہیں۔ لیکن افسوس کہ آزادی نسواں کا راگ الاپنے والے عناصرنے ان بیش بہا اصولوں کو عورتوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا ذریعہ قرار دیا اور پھر اس کا جو لازمی نتیجہ ظاہر ہوناتھا وہ ہو رہا ہے۔حوا کی بیٹیاں اپنا سب کچھ کھو دینے کے بعدکف افسوس مل رہی ہیں اوراس پر میڈیا اور نیتا اپنی سیاسی روٹی سینک رہے ہیں۔ اسلام نے زانیوں کے لئے جو سزا تجویز کی ہے، اس کو بھی مغربی مفکرین نے ظالمانہ قرار دیا۔ لیکن جب معاشرہ میں ان فتنہ انگیز عناصر کی تباہ کاریاں سر سے اوپر چڑھ جاتی ہیں توزبان خلق سے یہی صدا آتی ہے کہ ایسے مجرموں کو سزائے موت دی جائے۔ اس سے یہ نظریہ اور بھی محقق ہو جاتا ہے کہ اسلام اور اسلامی اصول فطری ہیں۔ دنیا اس سے چاہے جتنی دور چلی جائے، ایک دن چار و ناچار اسے اپنی فطرت پر لوٹنا ہی پڑتا ہے۔اس لئے آج یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے پاس ناموس نسواں کے تحفظ کا کوئی سامان نہیں ہے، اگر عزت کی حفاظت درکار ہے تو اسے اسلامی تدابیر کو اپنانا ہی پڑے گا۔

اسراف: انفرادی عمل اور اجتماعی نقصان

حفظ الرحمن قاسمی

فرد کا سماج سے وہی رشتہ ہوتا ہے جو موج کا دریا سے اور کڑی کا زنجیر سے ۔ سماجی زندگی فرد کی شرست میں داخل ہے ، جبکہ فرد سماج کالازمی عنصر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ فرد کی انفرادی حیثیت بھی اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ ایک مربوط اور منظم سماج میں زندگی گذارتا ہے۔ سماج کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں ، اور بیرون دریا کچھ نہیں

عام خیال یہ ہے کہ انسان اپنے ماحول اور گردو پیش کا اثر قبول کرتا ہے؛ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فردکے ہرہر عمل کا معاشرہ پر کسی نہ کسی حد تک مثبت یا منفی اثر ضرور پڑتا ہے۔ چنانچہ اچھے سماج کی تشکیل اور اس کے بقاء میں ہر فرد کے ذاتی عمل کا گہرا رنگ نظر آتا ہے۔ لہذا ہر فرد پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے کسی بھی عمل کی انجام دہی سے پیشتر اس سے پیدا ہونے والے منفعت اور مضرت کے دونوں پہلوؤں کا بنظر غائر جائزہ لے لے۔ کسی بھی فردکو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ معاشرہ اور معاشرہ سے اپنی وابستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی ایسا کام کر گذرے جس کے اثرات کسی نہ کسی درجہ میں سماج پر مرتب ہوتے ہوں۔ اس لئے کہ سماج سے الگ ہوکر فرد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی اور اس حقیقت سے چشم پوشی کرنا اپنی فطرت اور اس کے تقاضوں سے چشم پوشی کرنے کے مترادف ہے۔

اس میں شک نہیں کہ انسان بشری تقاضوں کے خم و پیچ میں ہر آن الجھا رہتا ہے۔ اسے ہر لمحہ کسی نہ کسی ضرورت کا مسئلہ در پیش اور اس کی تکمیل کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ اورقدرت نے انسان کی جملہ ضروریات اور مسائل کے حل کے لئے ہمہ اقسام کے بے شماراسباب و وسائل فراہم کئے ہیں۔مگر یہ تمام خزانے ہمارے پاس امانت ہیں، ہم بقدر ضرورت ان کے استعمال کا اختیارتو رکھتے ہیں لیکن اس میں من چاہے اسراف(Extravagance) اور غیر ضروری کفایت شعاری (Frugality)کااختیار نہیں رکھتے۔ خوشگوار انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ انسان ضرورت کے وقت میں ان وسائل کا استعمال کرے۔ اگر کوئی انسان ضرورت کے وقت میں بھی ان وسائل کا استعمال میں غیر ضروری کفایت شعاری سے کام لیتا ہے توگویا یہ ایک انتہا ہے جسے بخل کہا جاتا ہے۔ اور اس کے بر عکس دوسری انتہا کا نام اسراف ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے بلا ضرورت یا ضرورت سے زائد وسائل کا استعمال۔ زیر نظر مضمون میں اسی اسراف کے منفی پہلوؤں پر اظہار خیال مقصودہے۔

اسراف یا فضول خرچی ایک ایسا عمل ہے جس کے مضرت کا ہر شخص کو احساس و اعتراف اور غیر معقولیت پر ہر عقلمند انسان کو حق الیقین حاصل ہے۔ اس لئے کہ فضول خرچی کے پاداش میں نہ صرف یہ کہ انسان غضب الہی کا مستحق ہو جاتاہے ، بلکہ ایک دن ان وسائل سے محرومی بھی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بالآخر وہ افلاس وبد حالی کا شکار ہوکر معاشرہ میں اپنی ساکھ کو بچانے میں بھی ناکام ہو جاتا ہے جسے وسائل کی بہتات اور دولت کی ریل پیل کے بل پر اس نے قائم کیا تھا۔قرآن کریم افراط اور تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے لوگوں کو شاہراہ اعتدال کی یوں رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے: ’اے بنی آدام، ہر نماز کے وقت (لباس سے) اپنے تئیں آراستہ کر لیا کرو، اور کھاؤ پیو اور بے جا خرچ نہ کرو، اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘ (الاعراف، ۷: ۳۱)

اس کائنات کے ذرہ ذرہ کو انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے وجود بخشا گیا ہے۔ چنانچہ ہر انسان اس دنیا میں اپنی آنکھیں کھولتے ہی اپنے گرد و پیش میں مواقف حیات اسباب (Life Support System) کا ایک وسیع اور ہمہ گیر نظام پاتا ہے۔خالق ارض و سماء نے انسان کی تخلیق سے قبل اس کی معاش کے خزانہ تمام طلبگاروں کے لئے حسب ضرورت یکساں طور زمین میں رکھ دئے ۔ تاکہ روئے زمیں پر بسنے والے تمام انسان اپنی جائز ضروریات کی تکمیل کے لئے اعتدال کی روش کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان اسباب کا استعمال کریں اور بے جا اسراف میں اس امانت کو برباد کر کے دوسرے کی حق تلفی کا باعث نہ بنیں۔جہاں تک انسانی ضروریات کا تعلق ہے اس کے لئے یہ تمام اساب و وسائل کافی ہیں۔ البتہ انسان کی خواہشات کی تکمیل اس دنیا میں ممکن نہیں۔ لیکن سماج میں زندگی گذارنے والے کچھ لوگ جب اس حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی خواہشات کی تکمیل میں دوسروں کی پرواہ کئے بغیر وسائل کاغلط استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو اس کے منفی اثرات صرف اسی کی ذات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس سے متعدی ہوکر پورے سماج کوایک بحرانی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔نتیجتاً سماج میں وسائل کی قلت کی وجہ سے بے شمار پریشانیاں اور مشکلات رونما ہوتی ہیں، اورفرد کے گناہ کا کفارہ جماعت کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں بے شمار ایسی مثالیں مل جائیں گی جن سے پتہ چلتا ہے کہ پورے سماج پر ایک فرد کے مسرفانہ اور غیر معتدل انداز بود و باش(Extravagant Mode of Life) کی وجہ سے کس طرح کے بحرانی دورے (Crisis) پڑ رہے ہیں۔ ذیل میں کچھ موٹی موٹی پریشانیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو فردکے اسراف کے نتیجہ میں پورے سماج کو اپنی چپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔

مثلا نقل و حمل (Transportation)کے مسئلہ ہی کو لیجیے۔ آج کی دنیا میں سائنس و ٹکنالوجی کی محیر العقول دریافتوں کی وجہ سے پوری دنیا ایک گاؤں (Global Village) میں سمٹ کررہ گئی ہے اورنقل و حمل کے ایسے وسائل فراہم ہو چکے ہیں جن سے دوریاں نزدیکیوں میں بدل گئی ہیں۔ پہلے آدمی کو کسی جگہ کا سفرکرنے کے لئے یا کسی مقام تک پیغام رسانی کے لئے مہینے درکار ہوتے تھے، آج وہی مسافتیں گھنٹوں، بلکہ منٹوں میں طے ہو جاتی ہیں۔ لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بڑے شہروں میں بسا اوقات چند فرلانگ کی دوری بھی گھنٹوں میں طے ہو پاتی ہے اور منزل تک رسائی کے لئے وقت کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ سڑکوں پر مختلف چھوٹی بڑی گاڑیوں کا تانتا کچھ ایسے لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں جہاں عام معمول زندگی متاثر ہوتا ہے وہیں جان بلب مریضوں کوفوری طور پر طبی امدادبھی مہیا نہیں ہو پاتی ہیں اور وہ ہمیشہ کے لئے اس بھیڑ بھاڑ اورو شور شرابہ کی دنیا کو خیرباد کہ دیتے ہیں۔دوسری طرف بڑے شہروں کی تنگ گلیاں ہوں، رہائشی علاقے ہوں یا بازار، آپ کسی بھی جگہ اپنی سائیکل سے جائیں اور کسی ضرورت سے تھوڑی دیر کے لئے سائیکل کھڑی کرناچاہیں، تو جگہ کی تلاش میں منٹوں سوچنا پڑتا ہے۔ کہیں بھی آسانی کے ساتھ آپ کو پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ملتی۔ اور اگر کوئی جگہ مل بھی جائے تو کام سے فراغت کے بعد وہاں سے اپنی سائیکل کو نکال لانا دشوار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اتنی دیر میں اس کے ارد گردبہت سی سائیکلیں، گاڑیاں اور ٹھیلے وغیرہ لگ چکے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس طرح کی پریشانیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟ بڑے لوگ جو عام طور پر اپنی پر تعیش (Luxurious) گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ اس پریشانی کا اصل سبب عام طور پر ان لوگوں کو قرار دیتے ہیں جو رکشہ چلاکر یا ٹھیلا کھینچ کر اپنی اور اپنے کنبہ کی زندگی کی گاڑی کو کسی طرح کھینچ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ کو ملزم ٹھراتے ہیں۔ لیکن ان تمام وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی ایک وجہ وہ لمبی چوڑی گاڑیاں ہیں جن کی برق رفتاری اور فراٹوں سے اہل ثروت اپنے شوق کو تسکین دیتے ہیں۔ جن کے پاس پیسے ہیں اگر ان کی ضرورت دو پہیے سے پوری ہو جائے تب بھی وہ چار پہیے کو اپنا لازمہ حیات سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی خواہش اور ان کی تونگری کا آئینہ دار ہے۔ بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جن کے یہاں دولت کی ریل پیل کی وجہ سے گاڑیوں کی تعدادکا تناسب بلا ضرورت افراد کی تعداد کے مساوی ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اس اسراف کو کبھی تو ضرورت کا جامہ پہنا کر جائز ٹھراتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کرٹال دیتے ہیں کہ’ زندگی ہے ہی کتنے دن کی؟اور پھر اس مال کو کوئی قبر میں لے کر تھوڑے ہی جانا ہے‘۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں سوچتے کہ یہ گاڑیاں آخر کس سڑک پر دوڑینگی اور پارکنگ کے لئے خالی جگہ کہاں سے مہیا کی جائے گی؟ وہ اپنی خواہنشات کی تکمیل میں اپنی دولت کو بے تحاشہ لٹاتے ہیں اور ان کے قہقہوں میں نہ جانے کتنی آہیں اور کراہیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اگر انسان اس سلسلے میں صرف اپنی ضرورت کی تکمیل پر توجہ دے اور اپنی ذاتی گاڑیوں کا استعمال بقدر ضرورت ہی کرنے پر اکتفا کرے، تو ٹریفک کے مسئلہ کا کسی حد تک حل نکل سکتا ہے۔

دوسرا مسئلہ توانائی کا ہے۔زندگی کے سفر میں دیگر بہت سی چیزوں کے علاوہ انسان روشنی کا بھی محتاج ہے۔ اسی لئے وہ رات کی تاریکیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے روشنی کے نت نئے طریقوں کو بروئے کار لاتا ہے۔قدیم زمانہ میں لوگوں نے چقماق سے آگ نکال کر اس کی ابتدا کی بعد ازاں اس سمت میں مرحلہ وار کئی ایک اقدامات عمل میں آئے۔ اور آخر کار اس نے ترقی کرتے کرتے برقی توانائی سے روشنی کا سامان پیدا کیا۔اور اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ برقی توانائی(Electronic Power) انسانی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں لوگ اس قدر لا پرواہی اور اسراف سے کام لیتے ہیں کہ کہیں تو قمقموں کی جگمگاہت سے چراغاں ہو رہا ہے، اور کہیں غریبوں کے دیئے تیل کی بوند سے بھی خالی ہیں۔سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں بجلی کا جس قدر بیجا استعمال ہوتا ہے اس سے ہروہ شخص واقف ہے جو کسی حد تک ان جگہوں پر آنا جانا کرتا ہے۔ان دفاتر کے ملازمین کو بل کی بالکل پروا نہیں ہوتی، اس لئے کہ بل انھیں خود ادا نہیں کرنا پڑتا۔ اہل ثروت کے گھروں کی بھی حالت اس سے دگر گوں نہیں ہے۔البتہ وہ اتنا احتیاط ضرور کرلیتے ہیں کہ کہیں جاتے وقت سارے بلب بجھا دیتے ہیں اور پنکھے بند کر دیتے ہیں۔ لیکن اسراف کی اس حد سے وہ بھی نہیں بچ پاتے کہ جس جگہ ایک بلب سے کام چل سکتا ہے وہاں اسراف کرتے ہوئے کئی کئی بلب ہوتے ہیں۔ اس سے انھیں تھوڑی دیر کی چمک دمک سے لطف اندوز ہونے کا موقع تو مل جاتاہے؛ لیکن اس کا منفی اثر سماج پر یہ ہوتا ہے کہ توانائی کی قلت کی وجہ سے ملک کے بہت سے حصے روشنی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کی راتیں تاریکیوں میں گذرتی ہے، اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اگر یہ فضول خرچی کرنے والے اہل ثروت تھوڑی دیر کے لئے اس نکتے پر غور کر لیں تو نہ صرف یہ کہ ان کامحنت سے کمایا ہوا اثاثہ ضائع ہونے سے بچ جائے گا، بلکہ بہت سے لوگ تاریکیوں میں رات گذارنے کی پریشانی سے محفوظ ہو جائیں گے۔

اسراف کا ایک بڑا سماجی نقصان شادیوں اور دیگر تقریبات کے موقعوں سے پڑوسیوں کی ایذا رسانی کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں لوگ ناچ گانوں اور دیگر لغویات پر جو خرچ کر ڈالتے ہیں اگر وہ پیسے قوم کے غریب بچوں پر خرچ کئے جائیں، تو بہت سے نونہالان قوم کو وہ میدان مل سکتا ہے جس میں وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے خوابوں کی دنیا بسا سکتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو فطری قابلیت (Talent) کے حامل ہونے کے باوجود محض وسائل کی قلت کی وجہ سے کامیابی کے اس مقام بلند تک نہیں پہونچ پاتے جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق تھے۔ اس اسراف کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ رات کے حصوں میں جب ناچ گانے کا ماحول گرم ہوتا ہے، تودن بھی کے تھکے ہارے مزدوری کرنے والے کتنے ہی لوگوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں، کتنے طلباء جو مطالعہ کے لئے یکسوئی کے خواہاں ہوتے ہیں، ان کی یکسوئی متاثر ہوتی ہے، کتنے مریض جن کو سکون کی ضرورت ہوتی ہے، ان کا سکون اس شور شرابہ میں غارت ہوکر رہ جاتا ہے۔ لیکن ان چیزوں سے ان دولتمندوں کو کیاسروکار؟ انھیں تو انھیں تو اپنے ارمان نکالنے ہیں، خواہ معاشرہ کو اس کی کیسی ہی قیمت ادا کرنی پڑے اور افراد کی اس ہوس پرستی کا کیسا ہی اثر سماج پر مرتب ہو۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ قوم کا بے پناہ پیسہ برباد ہوتا ہے، بلکہ مستحقین کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔

معاشرے پر پڑنے والے فضول خرچی کے یہ کچھ منفی اثرات تھے جو نمونہ کے طور پر پیش کئے گئے، ورنہ روز مرہ کی زندگی میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جب اسراف کیا جاتا تو اس میں اجتماعی اور سماجی نقصان کا کچھ نہ کچھ پہلو ضرورشامل ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ فرد کے اسراف کا راست اثر سماج پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن پاک نے ارشاد فرمایا: ’اور رشتہ داروں کو (بھی) ان کا حق ادا کرو، اور مسکین و مسافر کو (بھی ان کا حق دو) اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ کرنے والے لوگ شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکر گذار ہے۔ (بنی اسرائیل، ۱۷: ۲۶،۲۷)اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اسراف کے نتیجے میں حق تلفیاں ہوتی ہیں اور معاشرہ ہر اعتبار سے عدم توازن کا شکار ہوتا ہے جس سے بغض و حسد اور باہمی رقابت جیسے منفی احساسات پروان چڑھتے ہیں اور بالآخر آپس میں بھائی بھائی میں دشمنی کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں جو شیطان کا عین منشا ہے۔

نوٹ:۔ یہ مضمون روزنامہ صحافت، دہلی کے شمارہ ۷/ ۱/ ۲۰۱۳ میں شائع ہوا۔