بیٹیاں

مولانا محمد کلیم اللہ

12 ویں ذوالحجہ کی سہانی صبح تھی جب میرے آنگن میں چاندنی نے ڈیرے ڈال دیے ۔ اللہ کریم نے اپنے فضل سے ہماری گود کو اپنی رحمت سے بھر دیا ایک پیاری سی ………اوں ……مم ………میٹھی سی گڑیا پیدا ہوئی ۔

اولاد کیا ہوتی ہے ؟ آج احساس ہوا ۔ خالق دو جہاں نے اس کو آزمائش کیوں کہا ؟ اب سمجھ آئی ۔ وہ جو اللہ کریم سے دعائیں مانگیں تھیں …رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍاے اللہ ہماری ازواج اور اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنا …… سووہ قبول ہوگئیں ۔

سورۃ الفرقان پارہ نمبر 19 آیت نمبر 74

نماز ظہر کے بعد مسجد کے نمازیوں میں مٹھائی بانٹی ۔مبارک باد دینے کے لیے گھر میں اعزہ واقارب کا تانتا بندھ گیا ۔ پیاری گڑیا کی دادی ماں کا چہرہ خوشی سے تمتماتا ہوا نظر آرہا تھا ۔ آنے والے مہمانوں کی مٹھائی اور کولڈ ڈرنک سے ضیافت کی جارہی تھی ۔

ہائے نی ! آنکھیں دیکھو بالکل اپنی ماں پر گئی ہے ۔ نہیں اپنے باپ پر گئی ہے،آنکھ کان کا پتہ نہیں لمبے لمبے ہاتھ پاؤں بالکل باپ جیسے ہیں ناک چھوٹا ہے نہیں ری اور کتنا بڑا ہوتا ؟؟ ماتھا ایسا ہے جیسے ………مختلف قسم کے تبصرے نومولود پر شروع ہوگئے ۔ ادھر گڑیا نیا خوبصورت فراک زیب تن کیے لوگوں کی خیال آرائیوں سے کوسوں دور میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہی تھی ۔ اللہ اس کو نیک بنائے اور علوم شریعت سے بہرہ ور فرمائے ۔ آمین

µµµµ

آج قرآن کریم سورۃ شوریٰ کی تلاوت کی سعادت نصیب ہوئیلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَأَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا

سورۃ الشوریٰ پارہ نمبر 25 آیت نمبر 49 ،50

اللہ فرماتے ہیں کہ میں زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہوں پیدا کرتا ہوں جو چیز چاہتا ہوں جس کو چاہتاہوں بیٹیاں عطا کرتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں بیٹے ۔ چاہوں تو جڑواں جڑواں بیٹے اور بیٹیاں دے دوں اور میں مالک ہوں چاہوں تو کچھ بھی نہ دوں ۔

قرآنی اسلوب کو ایک بار پھر مد نظر رکھیے اولاد کے تذکرے میں رب تعالیٰ نے بیٹیوں کا ذکر پہلے فرمایا ۔ کیوں ؟

اس لیے کہ اس وقت کے جہلاء عرب اور آج کے جہلاء عجم دونوں بیٹی کو منحوس گردانتے ہیں جہلاء عرب کی حالت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کھینچا ہےوَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ۔ جب ان کو بیٹی خوشخبری دی جاتی ہے تو ان کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور ان کا دل غم اور حزن سے بھر جاتا ہے ۔

سورۃ النحل پارہ نمبر 14 آیت نمبر 58

µµµµ

دربار نبوت لگا ہے عرب کا ایک بدو دیہاتی زار وقطار آنسووں کی برسات میں بھیگ چکا ہے روتے روتے ہچکی بندھی ہوئی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مااجد حلاوۃ الاسلام منذ اسلمت جب سے اسلام لایا ہوں اسلام کی چاشنی اور مٹھاس کو محسوس نہیں کرپارہا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی میں گھر سے کہیں دور سفر پر تھا جب گھر واپس لوٹا تو وہاں وہ چھوٹے چھوٹے قدموں اور ننھے منے ہاتھوں کے بل چل رہی تھی اس کی توتلی زبان اور معصومانہ شرارتیں ………یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے گھر والی کو کہا کہ اس کو تیار کر!اس نے اسے خوبصورت لباس پہنایا میں اس کو ساتھ لے کر دور ایک جنگل میں چلاگیا ۔

گرمی اور لو…… وادی عرب کے تپتے صحرا نے ہمارے قدموں تک کو جھلسا کر رکھ دیا جب میں پسینے میں شرابور ہوجاتا تو میری بیٹی ننھے منے ہاتھوں سے اپنے چھوٹے سے دوپٹے سے میرا پسینہ پونچھتی ۔

یارسول اللہ! یا رسول اللہ !میں نے ایک جگہ گڑھا کھودا ،کھدائی کرتے وقت وہ بار بار اس گڑھے کی طرف دیکھتی اور میری طرف بھی ۔ وہ مجھ سے سوال کرتی تھی : ابو یہ کس لیے گڑھا کھود رہے ہو؟

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں نے اس کے لیے گڑھا کھود کر تیار کر لیا اور اس کو اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو وہ چلائی اس نے مجھے دہائی دی وہ ابو ابو کرتی رہی ۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہتی رہی کہ ابو مجھے مت دفن کرو ابو مجھے معاف کردو ابو مجھے چھوڑ دو ابو مجھے ڈر لگتا ہے ابو ابو میں آپ کے گھر نہیں آؤں گی ابو کبھی بھی واپس نہیں لوٹوں گی ۔ ابو میں آپ پر بوجھ بن کرنہیں رہوں گی ابو میں اکیلی بالکل اکیلی رہ لوں گی ابو ابو ابو ……… یہاں تک کہ میں نے اس کے سر پر بھی مٹی ڈال دی ۔ آخر وقت تک وہ معصوم چلاتی رہی اپنی زندگی کی بھیک مانگتی رہی لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا پتھر دل موم نہ ہوا اور میں اس کو وہیں جنگل میں پیوند خاک کر کے گھر لوٹ آیا ۔

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے الفاظ میری کانوں کی سماعتوں سے ٹکرا رہے ہیں اس کی معصوم بھولی صورت اور دلربا ادائیں میرے دل پر نقش ہوگئی ہیں ۔ یا رسول اللہ کلما ذکرت قولھا لم ینفعنی شئی ۔ یا رسول اللہ میرا کیا بنے گا ؟

ادھر عرب کا دیہاتی رو رہا تھا اور ادھر فخر دو عالم رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مازاغ آنکھوں میں آنسو کے سمندر امڈ آئے موتیوں کی اس لڑی میں محبت وشفقت ومودت کے انمول خزینے چھلکنے لگے آپ نے فرمایا میرے صحابی ماکان فی الجاہلیۃ فقد ھدمہ الاسلام تم نے جو گناہ زمانہ جاہلیت میں کیے قبول اسلام نے ان کو ہمیشہ کے لیے مٹاڈالا ۔

اللباب فی علوم الکتاب سورۃ النحل جز 12 ص 90

µµµµ

علاقے پر علاقے فتح ہورہے ہیں ، قیصر وکسری جیسی سپر پاور طاقتیں کہلانے والی ریاستیں اسلام کا نام سن کر لرزہ براندام ہوجاتی ہیں ۔ ایک جنگ میں کچھ لوگوں کو قیدی بنا کر لایا گیا اسی اثنا ء میں ایک بیٹی …….دشمن کی بیٹی …… کے سر سے آنچل اتر گیا ۔ مزمل ومدثر والے نبی نے اپنی کالی کملی اتاری اور کہا کہ جاؤ اور جا کر اس بیٹی کے سر پر میری یہ چادر اوڑھا دو …… ہاں ہاں ! وہی چادر جس کی عرش والا رب قسمیں کھاتا ہے …….کسی نے کہہ دیا کہ یارسول اللہ یہ کافر کی بیٹی ہے ۔ نطق نبوت حرکت میں آئی اور رہتی دنیا تک اسلام کا وسیع النظر مشفقانہ اصول وضع ہو گیا کہ بیٹی ؛ بیٹی ہوتی ہے خواہ کافر کی ہی کیوں نہ ہو۔

µµµµ

میری بہنو!بیٹی جیسی رحمت خدا ہر گھر کے مقدر میں نہیں کرتا ، بیٹی کو خدا کی انعام اور رحمت سمجھو ۔ آج کے جہلاء بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھتے ہیں یہ تو ان جہلاء عرب سے بھی آگے نکل چکے ہیں کہ جب ان کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی یتواریٰ من القوم من سوء مابشر بہ ایمسکہ علی ھون ام یدسہ فی التراب شرم سے منہ چھپاتے پھرتے پھر بیٹی کی پیدائش پر اس کی ماں کو طلاق دے دیتے اور ایسے گھر میں چھوڑ دیتے جہاں کوئی آتا جاتا نہیں تھا ۔

بیٹی پیدا ہوتی تو اس کو اون یا بالوں سے بنا ہوا جبہ پہنا دیتے اور وہ اونٹوں اور بکریوں کو چراتی رہتی ،بیٹیوں کے قتل کے نت نئے طریقے بنا رکھے تھے کبھی گڑھا کھود کر زندہ دفن کردیتے کبھی پہاڑ کی چوٹی سے گرا دیتے ، کبھی دریا کی بے رحم موجوں کے حوالے کر کے غرق کر دیتے کبھی ذبح کردیتے اور پھر ان سب کو غیرت وحمیت کا نام دیتے کبھی فقر وفاقہ کا عذرلنگ تراش کر معصوم کلیوں کو موت کی آغوش میں سلادیتے اور کبھی اس خوف سے کہ کہیں اور بیاہی جائے گئی تو اس کا مال ان کا ہوجائے گا ۔

تفسیر سراج منیر سورۃ النحل جز 2 ص 188

اور آج کا جاہل ماں کے پیٹ میں ہی اس کو ختم کرادیتا ہے ، اسقاط حمل کے جرم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ، بچی کی ولادت پر اسے اور اس کی ماں کو زندہ جلا دیتا ہے ، بیٹی جیسے معصوم رشتے کی پیدائش پر اس کی ماں کو طلاق دے دیتا ہے کبھی یکے بعد دیگرے بیٹیوں کی پیدائش عورت کا جرم قرار دیتا ہے ۔

معاف کرنا !ایسے مسلمان پر اسلام کے الف کا اثر بھی نہیں ہوا وہی جاہلیت زدہ خیالات اور فرسودہ عقائد دل ودماغ میں رچے بسے ہوئے ہیں ۔

تفسیر شعراوی اور دیگر تفاسیر میں ایک واقعہ مرقوم ہے کہ ام حمزہ عرب کی ایک سمجھ دار اور شاعرانہ مزاج کے حامل عورت تھی ۔ اس کو بھی یکے بعد دیگرے بیٹیاں پیدا ہوئیں تو اس کے خاوند ابو حمزہ نے اس وجہ سے گھر آنا چھوڑ دیا اس پر اس نے برجستہ اشعار کہے :

مَا لأبي حمزةَ لاَ يأتِينَا غَضْبانَ ألاَّ نَلِدَ البَنِينا
تَاللهِ مَا ذَلكَ فِي أَيْدينا فَنَحنُ كَالأَرْضِ لغارسينا
نُعطِي لَهُم مِثْل الذِي أُعْطِينَا

تفسیر شعراوی تحت آیت الا ساء ما یحکمون

ابو حمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ہمارے پاس نہیں آتا وہ اس لیے ناراض ہے کہ ہم بیٹوں کو جنم نہیں دیتیں اللہ کی قسم یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہماری مثال توکاشت کار کے لیے زمین جیسی ہے سو جو بویا جائے گا وہی کاٹا جائے گا

بیٹی کے بارے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فرامین پڑھ لیجیے ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ هَكَذَا وَضَمَّ إصْبَعَيْهِ.

جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں ……پھر ان کا اچھے گھرانےمیں نکاح کردیا ……تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ انگلیاں ۔ پھر آپ نے دونوں ہاتھو ں کی انگلیوں کو آپس میں داخل کر دیا ۔

مصنف ابن ابی شیبہ جز 8 ص 364

مسند احمد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت شدہ ہے کہ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

مسند احمد جز 41 ص 120

جس شخص کو بیٹی جیسی اولاد دے کر آزمایا گیا اور اس نے ان کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اچھی پرورش کی تو وہ بیٹی اس کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائے گی ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے ۔

آمین بجاہ النبی الرحمۃ علی البنات والبنین

خشوع وخضوع والی نماز

مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض
(najeebqasmi)

قیام، قرآن کی تلاوت، رکوع، سجدہ اور قعدہ وغیرہ نماز کا جسم ہیں اور اسکی روح خشوع وخضوع ہے۔ چونکہ جسم بغیر روح کے بے حیثیت ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ نمازوں کو اس طرح ادا کریں کہ جسم کے تمام اعضاء کی یکسوئی کے ساتھ دل کی یکسوئی بھی ہو تاکہ ہماری نمازیں روح یعنی خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں۔ دل کی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات ووساوس سے دل کو محفوظ رکھیں اور اللہ کی عظمت وجلال کا نقش اپنے دل پر بٹھانے کی کوشش کریں۔ جسم کے اعضاء کی یکسوئی یہ ہے کہ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگیں بلکہ خوف وخشیت اور عاجزی وفروتنی کی ایسی کیفیت طاری کریں جیسے عام طور پربادشاہ کے سامنے ہوتی ہے۔
قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں نماز کو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کرنے کی بار بار تعلیم دی گئی ہے کیونکہ اصل نماز وہی ہے جو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جائے اور ایسی ہی نماز پر اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا فرماتے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل قرآن کریم کی آیات اور احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے:
یقینا وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے جن کی نمازوں میں خشوع ہے۔ (سورہٴ الموٴمنون ۱، ۲)
صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کیا کرو۔ بیشک وہ نماز بہت دشوار ہے مگر جن کے دلوں میں خشوع ہے ان پر کچھ بھی دشوار نہیں۔ ( البقرہ ۴۵)
تمام نمازوں کی خاص طور پر درمیان والی نماز (یعنی عصر کی) پابندی کیا کرو اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔ (سورہٴ البقرہ ۲۴۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جب اقامت سنو تو پورے وقار، اطمینان اور سکون سے چل کر نماز کے لئے آؤ اور جلدی نہ کرو۔ جتنی نماز پالو پڑھ لو اور جو رہ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔ (صحیح بخاری )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ ایک اور صاحب بھی مسجد میں آئے اور نماز پڑھی پھر (رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پاس آئے اور) رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گئے اور جیسے نماز پہلے پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھکر آئے، پھررسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو آکر سلام کیا۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ اُن صاحب نے عرض کیا: اُس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے نماز سکھائیے۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھرقرآن مجید میں سے جو کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو۔ پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے کھڑے ہو تو اطمینان سے کھڑے ہو، پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدہ سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں کرو۔ (صحیح بخاری)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی فرض نماز کا وقت آنے پر اسکے لئے اچھی طرح وضو کرتاہے پھر خوب خشوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے جسمیں رکوع بھی اچھی طرح کرتا ہے تو جب تک کوئی کبیرہ (بڑا) گناہ نہ کرے یہ نماز اس کے لئے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور یہ فضیلت ہمیشہ کے لئے ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرتاہے پھر دو رکعت اس طرح پڑھتا ہے کہ دل نماز کی طرف متوجہ رہے اور اعضاء میں بھی سکون ہو تو اسکے لئے یقینا جنت واجب ہوجاتی ہے۔ (ابوداوٴد)

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف اس وقت تک توجہ فرماتے ہیں جب تک وہ نماز میں کسی اور طرف متوجہ نہ ہو۔ جب بندہ اپنی توجہ نماز سے ہٹالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹالیتے ہیں۔ (نسائی)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بدترین چوری کرنے والا شخص وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز میں کس طرح چوری کرے گا؟ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح سے ادا نہ کرنا۔ ( غرض اطمینان و سکون کے بغیر نماز ادا کرنے کو نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے بدترین چوری قرار دیا)۔ (مسند احمد، طبرانی)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لئے ثواب کا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے، اسی طرح بعض کے لئے نواں حصہ، بعض کے لئے آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھائی، تہائی، آدھا حصہ لکھا جاتا ہے۔ (ابوداوٴد، نسائی، صحیح ابن حبان)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی نماز کی طرف دیکھتے ہی نہیں جو رکوع اور سجدہ کے درمیان یعنی قومہ میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔ (مسند احمد)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاجو رکوع اور سجدہ کو پوری طرح سے ادا نہیں کررہا تھا۔ جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگیا تو محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کے دین کے بغیر مرے گا۔ (بخاری)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمانے لگے کہ میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ نماز میں گھوڑے کی دُم کی طرح اپنے ہاتھ اٹھاتے ہو۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔ (مسلم)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا، اور نیز اس بات کا حکم فرمایا کہ نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔ (بخاری، مسلم)

حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے منع فرمایا کوّے کی طرح ٹھونگے مارنے سے (یعنی جلدی جلدی نماز پڑھنے سے) اور درندہ کی کھال بچھاکر نماز پڑھنے سے اور اس سے کہ کوئی شخص مسجد میں نماز کی کوئی خاص جگہ مقرر کرلے جیسے کہ اونٹ (اپنے اصطبل) میں ایک خاص جگہ مقرر کرلیتاہے۔ (مسند احمد، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس چیز کا علم لوگوں سے اٹھا لیا جائیگا وہ خشوع کا علم ہے۔ عنقریب مسجد میں بہت سے لوگ آئیں گے، تم ان میں ایک شخص کو بھی خشوع والا نہ پاؤگے۔ (ترمذی)

نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کا طریقہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان بآواز ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو وہ واپس آجاتا ہے۔ جب اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پھر بھاگ جاتا ہے اور اقامت پوری ہونے کے بعد پھر واپس آجاتا ہے تاکہ نمازی کے دل میں وسوسہ ڈالے۔ چنانچہ نمازی سے کہتا ہے یہ بات یاد کر اور یہ بات یاد کر۔ ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو باتیں نمازی کو نماز سے پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ نمازی کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں ہوئیں۔ (مسلم۔ باب فضل الاذان )
شیطان کی پہلی کوشش مسلمان کو نماز سے ہی دور رکھنا ہے کیونکہ نماز اللہ کی اطاعت کے تمام کاموں میں سب سے افضل عمل ہے۔ لیکن جب اللہ کا بندہ‘ شیطان کی تمام کوششوں کو ناکام بناکر اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب عمل نماز کو شروع کردیتا ہے تو پھر وہ نماز کی روح یعنی خشوع وخضوع سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے، چنانچہ وہ نماز میں مختلف دنیاوی امور کو یاد دلاکر نماز کی روح سے غافل کرتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کرے کہ جن سے نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں ۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کے چند اسباب ذکر کئے جارہے ہیں۔ اگر ان مذکورہ اسباب کو اختیار کیا جائیگا تو انشاء اللہ شیاطین سے حفاظت رہے گی اور ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں گی۔

نماز شروع کرنے سے پہلے:

۱) جب مؤذن کی آواز کان میں پڑے تو دنیاوی مشاغل کو ترک کرکے اذان کے کلمات کا جواب دیں اور اذان کے اختتام پر نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم پر درود پڑھکر اذان کے بعد کی دعا پڑھیں۔
۲) پیشاب وغیرہ کی ضروریات سے فارغ ہوجائیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کا فرمان ہے: کھانے کی موجودگی میں(اگر واقعی بھوک لگی ہو) نماز نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس حالت میں جب پیشاب پائخانہ کا شدید تقاضہ ہو۔ (صحیح مسلم)
۳) بسم اللہ پڑھکر سنت کے مطابق اس یقین کے ساتھ وضو کریں کہ ہر عضو سے آخری قطرے کے گرنے کے ساتھ اس عضو کے ذریعہ کئے جانے والے صغائر گناہ بھی معاف ہورہے ہیں اور وضو کی وجہ سے اعضاء قیامت کے دن روشن اور چمکدار ہوں گے جن سے تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم اپنے امت کے افراد کی شناخت فرمائیں گے۔
۴) صاف ستھرہ لباس پہن لیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (یَا بَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُم عِندَ کُلِّ مَسجِد) اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت ایسا لباس زیبِ تن کرلیا کرو جسمیں ستر پوشی کے ساتھ زیبائش بھی ہو۔ (سورہٴ الاعراف ۳۱) نیز نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم)
﴿وضاحت﴾: تنگ لباس ہرگز استعمال نہ کریں، احادیث میں تنگ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ نیز مرد حضرات پائجامہ یا کوئی دوسرا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ پہنیں ، احادیث میں ٹخنوں سے نیچے پائجامہ وغیرہ پہننے والوں کے لئے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
۵) جو چیزیں نماز میں اللہ کی یاد سے غافل کریں، ان کو نماز سے قبل ہی دور کردیں۔
۶) اپنی وسعت کے مطابق سخت سردی اور سخت گرمی سے بچاؤ کے اسباب اختیار کریں۔
۷) شور وغل کی جگہ نماز پڑھنے سے حتی الامکان بچیں۔
۸) مرد حضرات فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجدوں میں اور مستورات گھر میں ادا کریں۔
۹) صرف حلال روزی پر اکتفا کریں اگرچہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو ۔
۱۰) نماز میں خشوع وخضوع پیدا ہوجائے ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہیں۔

نماز شروع کرنے کے بعد:
۱) نہایت ادب واحترام کے ساتھ اپنی عاجزی وفروتنی اور اللہ جلّ شانہ کی بڑائی، عظمت اور علو شان کا اقرار کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھاکر زبان سے اللہ اکبر کہیں، دل سے یقین کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی بڑا ہے اور وہی جی لگانے کے لائق ہے اس کے علاوہ ساری دنیا حقیر اور چھوٹی ہے، اور دنیا سے بے تعلق ہوکر اپنی تمام تر توجہ صرف اسی ذات کی طرف کریں جس نے ہمیں ایک ناپاک قطرے سے پیدا فرماکر خوبصورت انسان بنادیا اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی اس دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔
۲) ثنا، سورہٴ فاتحہ، سورہ، رکوع وسجدہ کی تسبیحات، جلسہ وقومہ کی دعائیں، التحیات، نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم پر درود اور دعاؤں وغیرہ کو سمجھ کر اور غور وفکر کرتے ہوئے اطمینان کے ساتھ پڑھیں، اگر تدبر وتفکر نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا معلوم ہو کہ نماز کے کس رکن میں ہیں اور کیا پڑھ رہے ہیں۔
۳) اس یقین کے ساتھ نماز پڑھیں کہ نماز میں اللہ جلّ شانہ سے مناجات ہوتی ہے جیسا کہ حضرت انس کی حدیث میں گزرا ۔ نیز دوسری حدیث میں ہے کہ سورہ ٴفاتحہ کی تلاوت کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ ہر آیت کے اختتام پر بندہ سے مخاطب ہوتا ہے۔
۴) اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، نیز بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگیں۔
۵) سجدہ کے وقت یہ یقین ہو کہ میں اس وقت اللہ کے بہت زیادہ قریب ہوں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: بندہ نماز کے دوران سجدہ کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (مسلم)
۶) نماز کے تمام ارکان واعمال کو اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کریں۔
۷) نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز ادا کریں۔
۸) نماز میں خشوع وخضوع کی کوشش کے باوجود اگر بلا ارادہ دھیان کسی اور طرف چلا جائے تو خیال آتے ہی فوراً نماز کی طرف توجہ کریں۔ اس طرح بلا ارادہ کسی طرف دھیان چلا جانا نماز میں نقصان دہ نہیں ہے (انشاء اللہ) ، لیکن حتی الامکان کوشش کریں کہ نماز میں دھیان کسی اور طرف نہ جائے۔
﴿وضاحت﴾: نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کے لئے کثرت سے اللہ کے ذکر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے اس لئے صبح وشام پابندی سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں کیونکہ ذکر شیطان کو دفع کرتا ہے اور اس کی قوت کو توڑتا ہے نیز دل کو گناہوں کے زنگ سے صاف کرتا ہے۔

اہم گزارش: نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے اہم اور بنیادی شرط اخلاص ہے کیونکہ اعمال کی قبولیت کا انحصار نیت اور ارادہ پر ہوتا ہے جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث میں ہے: اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے، ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔۔۔ لہذا نماز کی ادائیگی سے خواہ فرض ہو یا نفل صرف اللہ جل شانہ کی رضامندی مطلوب ہو۔ دوسروں کو دکھانے کے لئے نماز نہ پڑھیں کیونکہ دوسروں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھنے کو احادیث میں فتنہٴ دجال سے بھی بڑا فتنہ اور شرک قرار دیا ہے۔

  1. حضرت ابو سعید خدری  فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کررہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے فتنے سے زیادہ خطرناک بات سے آگاہ نہ کردوں؟ ہم نے عرض کیا : ضرور۔ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی‘ دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو اور نماز کو اس لئے لمبا کرے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے۔ (ابن ماجہ ۔ باب الریاء والسمعہ)
  2. حضرت شداد بن اوس  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد ۔ج ۴، ص۱۲۵)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے والا بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

اسلام اور تعمیر شخصیت

از: مولانا محمداللہ خلیلی قاسمی

اسلام سے پہلے کے عرب کی تاریخ جو کچھ دستیاب ہے، اس سے عرب کی مجموعی سیاسی و سماجی اور اخلاقی و معاشرتی صورت حال کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ اس وقت کی ترقی یافتہ قومیں عربوں کو نہایت جاہل، اجڈ اور گنوار سمجھتی تھیں۔ شام و یمن کے کچھ شمالی و جنوبی علاقوں کو چھوڑ کر پورا جزیرہ نمائے عرب کا صحرائی علاقہ دنیا کے فاتحین و حکمرانوں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پوری معلوم تاریخ میں عرب کے علاقہ میں نہ کوئی باقاعدہ سیاسی نظام قائم ہوا اور نہ کسی سیاسی طاقت نے عربوں کو اپنے زیر نگیں رکھنے کی کوشش کی۔

شاید عرب وہ قوم تھی جسے اللہ نے تکوینی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ عرب کے سنگلاخ اور صحرائی علاقوں میں آباد کرایا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی عَلَم برداری کے لیے ان کو تیار کیا۔ یہی وجہ رہی کہ وہ فطری ماحول میں پرورش پاتے رہے اور ان کے اندر فطری صلاحتیں بدرجہٴ اتم موجود رہیں۔ نہ کسی سیاسی نظام نے ان کو متاثر کیا اور نہ کسی ثقافتی یلغار نے ان کی فطری صلاحیتوں کو گدلا کیا۔

عرب اپنے قدرتی اور فطری انداز میں زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کی اس فطری اور آزاد زندگی میں جہاں کچھ قدرتی حسن موجود تھا ، ان کے اندر شجاعت و بہادری ، جرأت وبے باکی، سخاوت و فیاضی، غیرت و حمیت اور فصاحت و بلاغت، جیسے اوصاف موجود تھے، وہیں ان کے اندر اخلاق و کردار کی بہت ساری برائیاں بھی پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کی شجاعت و بہادری کو صحیح رخ نہ ملنے سے ان کے اندر بے جا قتل و قتال ، خانہ جنگی اور قبائلی عصبیت کی قباحتیں پیدا ہوگئی تھیں ۔ ایسی ہی قبائلی عصبیت کی خونیں لڑائیاں بہت ہی معمولی باتوں پر چھڑ جاتی تھیں اور پشُتہا پشت چلتی تھیں۔ حرب بسوس ، حرب داجس اور حرب بعاث وغیرہ جیسی تقریباً سوا سو مشہور جنگوں میں ایسی کوئی جنگ نہیں ملتی جو کسی معقول اور اہم سبب کی بناء پر شروع ہوئی ہو۔

عربوں میں بے جا غیرت و حمیت کی وجہ سے بعض قبائل میں لڑکیوں کے قتل اور زندہ در گور کرنے کی وبا درآئی تھی۔ فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیری و اخلاقی پہلو میں استعمال کرنے کے بجائے وہ باہمی قبائلی منافست اور فخر وریا حتی کہ جنگ و جدال میں صرف کیا کرتے تھے۔ ان کی شعر و شاعری کی ساری توانائیاں فخر و مباہات میں صرف ہورہی تھیں۔ زبان و بیان کی ساری زور آزمائی کا محور ذاتی و قبائلی بڑائی تھا۔ ان کی نگاہوں کے سامنے ان کی ساری زندگی کا کوئی بڑا تعمیری مقصد نظر نہیں آتا جس کے لیے وہ اپنی فطری اعلی صلاحیتوں کو استعمال کرتے۔ فطری اور آزاد ماحول میں پرورش کی وجہ سے ان کے اندر اطاعت حق کا جوہر موجود تھا، لیکن ملت براہیمی کے صحیح خد وخال کے مٹ جانے کی وجہ سے ان کے اندر شرک و بت پرستی سرایت کر گئی تھی، یہی ان کی سب سے بڑی بیماری بن گئی۔ شرک و مظاہر پرستی نے ان کی قوت فکری کو مفلوج کرکے رکھ دیا اور وہ اپنے نفس اور قبیلہ سے اوپر اٹھ کر کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔

اسلام کی کردار سازی اور تعمیر شخصیت

اسلام نے سب سے پہلے عربوں کی اسی کمزوری کو نشانہ بنایا۔ شرک و بت پرستی کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیااور توحید کو تمام نیکیوں اور اچھائیوں کی اساس قرار دیا گیا۔ توحید سے عربوں کے فکری جمود کاپتھر چکنا چور ہوگیا۔اسلام کی دعوت توحید نے عربوں کے بے جان لاشہ میں حرکت و اضطراب اور جہد و عمل کی خوشگوار روح پھونک دی، جس سے ان کی خوابیدہ صلاحیتوں میں زندگی کی توانائیاں دوڑ گئیں۔اس طرح اسلام نے عربوں کو خواب غفلت سے بیدار کر کے مردم سازی کی بے نظیر تاریخ پیش کی ۔ اس نے غلاموں کو شہنشاہ، بوریہ نشینوں کو حاکم و مدبر اور وحشیوں کو اعلیٰ ترین تہذیب وتمدن کا علم بردار بنا دیا۔

عربوں میں بہت سی ایسی قابل قدر صفات موجود تھیں، جن کا وہ صحیح استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ جنگ جو واقع ہوئے تھے، ان کی صحرائی اور غیرتمدنی زندگی کا تقاضہ بھی یہی تھا ۔ جنگ ان کے لیے ایک ضرورت سے زیادہ تفریح اور دل بستگی کا سامان تھی۔ بہادری ان کے محل سرا کی کنیز تھی؛لیکن وہ جنگ کا غلط استعمال کرتے تھے، قبیلہ اور وطن کے نام پر لڑتے تھے۔ اسلام نے انھیں اعلاء کلمة اللہ اور اشاعتِ حق کے جذبہ سے لڑنے کا سبق دیا۔

وہ نہایت حق گو، بے باک، فیاض، تیز فہم اور عہد کے پکے تھے؛ مگر ان کے یہ اوصاف حمیدہ غلط رخ پر محو سفر تھے۔ قرآن نے آکر ان کی خرابیوں کو اچھائیوں سے بدل دیا اور اچھی صفات کو صحیح سمت پر ڈال دیا۔ اسلام نے اس طرح ان کو متحرک کیا کہ وہ دنیا کے اندھیروں کو ختم کرنے والے اور ہر طرف اجالا پھیلانے والے بن گئے، ان سے لوگوں کو رہ نمائی ملی۔ یہ اسلامی انقلاب کا تعمیری مرحلہ تھا۔

ان کی زندگی کا کوئی مقصد اور مطمح نظر نہ تھا۔ عربوں نے قرآن پڑھ کر اس میں عظیم ترین سچائی کو پالیا۔ قرآن نے ان کے سامنے اعلی مقصد آخرت کو پیش کیا؛ چنانچہ وہ ان کے لیے حقائق کی دریافت کا ذریعہ بن گیا۔ اسلام نے ان کے ذہن کے بند دروازوں کوکھول دیا۔ ان کے سینوں میں حوصلوں کے چشمے جاری کردیے۔ اسلام نے ان کی سوچ کی سطح کو بدل دیا اور اسی کے ساتھ کردار و عمل کے معیار کو بھی اونچا کردیا۔ اہل ایمان کو اسلام کا عطا کردہ مقصدِ حیات اتنا عظیم تھا کہ اس کی حد کہیں ختم نہیں ہوئی؛ اس لیے ان کی ذات سے ایسے کارنامے ظاہر ہوئے جو کسی حد پر بھی رکنا نہیں جانتے تھے۔ اسلام نے ان کے ذہن کو جگا کر اس کے اندر سوچ کی بے پناہ محبت بھردی ۔

اسلام کی معجزاتی تاثیر نے ہی اخلاق و اقدار سے بیگانہ عرب قوم کو تہذیب اور اعلی اخلاق کا آئیڈیل بنادیا۔ درس گاہ قرآنی کے اولین فضلاء یعنی صحابہ دین و اخلاق اور سیاست و قوت کے مکمل پیکر تھے۔ ان میں انسانیت کی اپنے تمام گوشوں، شعبوں اور محاسن کے ساتھ نمود تھی۔ ان کی اعلی روحانی تربیت، بے مثال اعتدال، غیر معمولی جامعیت اور وسیع عقل کی بنا پر ان کے لیے ممکن ہوا کہ وہ انسانی گروہ کی بہتر طور پر اخلاقی اور روحانی قیادت کرسکیں۔ ان کے اعلی اخلاقی نمونے معیار کا کام دیتے تھے اور ان کی اخلاقی تعلیمات عام زندگی اور نظام حکومت کے لیے میزان کا درجہ رکھتی تھیں۔ ان میں فرد وجماعت کا تعلق حیرت انگیز طور پر روادارانہ اور برادرانہ تھا۔ وہ ایک معیاری دور تھا جس میں عدل و انصاف، صدق و سادگی، خلوص ووفا اور محبت و الفت کی خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ اس سے زیادہ ترقی یافتہ دور کا انسان خواب نہیں دیکھ سکتا اور اس سے زیادہ مبارک و پُر بہار زمانہ فرض نہیں کیا جاسکتا۔

حضرات صحابہ کے حیرت انگیز انقلابی کارنامے

یہ اسلام کے عظیم الشان انقلابی پیغام کا کرشمہ تھا کہ صحابہٴ کرام کا ایک ایسا منتخب طبقہ دنیا میں پیدا ہوا جن کی نظیر روئے زمین پر کبھی موجود نہیں رہی۔ تمام انبیاء و رسل اور فلاسفہ و مفکرین میں یہ فخر صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ۔ دیگر بڑے بڑے انبیاء و رسل اور فلاسفہ و مفکرین کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ تعداد کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے مذہب عیسائیت کے رہ نما حضرت عیسی (علیہ السلام) کو صرف چند حواری ملے، ان میں ایک ایسا بھی تھا جس نے دشمنوں سے خود ان کی مخبری کردی اور عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق ان کو صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کے اصحاب بنو اسرائیل نے میدان جنگ میں انھیں ٹکا سا جواب دیدیا کہ تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ، اور ہم یہیں بیٹھے ہیں۔

اس کے برعکس اسلام کی بے مثال انقلابی تعلیمات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جاں نثار پیروکاروں کی ایک جماعت میسرہوئی جس نے آپ سے محبت و تعلق کا حق ادا کیا اور آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔ حضرات صحابہ کے اندر وہ تمام صفات و کمالات بدرجہ اتم پیداہوئیں جن کی اس مشن کی تکمیل کے لیے ضرورت تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قوم میسر آئی وہ جانبازی و جاں نثاری، قدسی صفات، اعلی انسانی اخلاقی، بلند کرداری اور شاندار فطری صلاحتیوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ پوری انسانی تاریخ میں ایسی عظیم الشان جماعت روئے زمین پر نہیں پائی گئی، اپنی تعداد کے اعتبار سے بھی اور اپنی گوناگوں خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے بھی۔ تاریخ عرب کا مشہور مصنف پروفیسر ’فلپ کے حتی ‘ (Philip K Hitti) اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انتقال کے بعد عرب کی بنجر زمین گویا جادو کے ذریعہ ہیروٴں کی نرسری میں تبدیل ہوگئی۔ ایسے ہیرو کہ اتنی تعداد اور ان جیسی صفات کا حامل کہیں اور پایا جانا بہت مشکل ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

After the death of the Prophet, the sterile Arabia seems to have been converted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom both in number and quality is hard to find anywhere. (Philip K Hitti, History of Arabs, 142)

حضرات صحابہ کی جاہلیت اور اسلام کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوگا کہ ایام جاہلیت میں تمام اکابر صحابہ جن کی کوئی امتیازی شناخت نہیں تھی اور جو عام انسانوں کی طرح سمجھے جاتے تھے؛ لیکن قبول اسلام کے بعد ان کے اندر علم و عمل کی بے پناہ قوت ودیعت کردی گئی ۔ ان میں سے کتنے اسلام کے وسیع و عریض امپائر کے حکمراں ہوئے۔ کوئی مشہور عالم فوجی جرنیل، کوئی نامی گرامی فاتح، کوئی اولوالعزم اور طالع آزما مجاہد، کوئی میدان علم و تقوی کا شہسوار اور کوئی اعلی انسانی اخلاق کا پیکر۔ ایک ایک صحابی کی زندگی کا ورق اٹھا کردیکھ لیجیے کہ ان کی زندگی میں کتنے ہمہ گیر انقلابات آئے اور اسلام نے ان کی خوابیدہ فطری صلاحتیوں کو جگا کر انھیں کہاں سے کہاں پہنچادیا اور ان کا نام رہتی دنیا تک کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ رضی اللہ عنہم وارضاہم ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہٴ خلافت میں (۱۸ھ میں ) شام کے محاذ پر مسلمان فوج میں طاعون کی وبا پھیل گئی جو تاریخ میں طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شہرہٴ آفاق اور معیاری تصنیف ”الفاروق“ میں لکھا ہے کہ پچیس ہزار مسلم فوج اس وبا کا نشانہ بن گئی ، ورنہ پچیس ہزار کی یہ جیالی فوج آدھی دنیا فتح کرنے کے لیے کافی ہوسکتی تھی۔

اسلام کی آفاقی تعلیمات نے شخصیات کی تعمیر اور کردار سازی میں جو انقلابی رول ادا کیا ہے وہ تاریخ کے ہر دور کاایک نمایاں باب ہے۔ اسلام نے خدا جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور نہ جانے کتنے دلوں میں ہلچل مچادی۔ اسلام کی پوری تاریخ عبقری شخصیات سے پُر ہے۔ علم و اخلاق، فکر وفلسفہ اور سیاست و حکومت کے ہر میدان میں ایسی بے شمار عالمی شخصیات پیداہوئیں جن کی نظیر کسی اور مذہب میں مل ہی نہیں سکتی ۔ حضرات صحابہ کے بعد تابعین اور بعد کے ادوار میں عالم اسلام کے اندر کتنے عباقرہ ، اکابر علماء و زعماء، محدثین و مفسرین اور مشہور عالم شخصیات پیدا ہوئیں یہ یقینا اسلام کی انھیں انقلابی تعلیمات کی پیدوار تھیں۔ ان کی زندگی میں حرکت وعمل کی انقلاب آفریں روح تھی جو اسلام نے ہی ان میں پھونکی تھی اور ان کی زندگی میں جس رفتار سے برقی لہر دوڑرہی تھی اس کی سپلائی اسلام ہی کے پاور ہاؤس سے ہورہی تھی۔

پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب مسلمانوں نے خود کو اسلام کی انقلاب آفریں تعلیمات سے مکمل طور ہم آہنگ کیا ہے ان میں اسی طرح کی انقلابی روح پیدا ہوئی ہے اور ان سے حیرت انگیر انقلابی کارنامے وجود میں آئے ہیں۔ زوال و ادبار کا جو طوفانِ بلاخیز اس وقت مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اس کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ کاش یہ عظیم حقیقت ہمیں دریافت ہوجاتی کہ ہماری کامیابی کی کنجی مغرب کی خیرہ کن تہذیب میں نہیں؛ بلکہ ان سادہ اسلامی تعلیمات میں ہے جس کا ایک علم بردار (حضرت ربعی بن عامر) رستم ایران کے زرق برق ایوان کے قالینوں اور غالیچوں کو نیزہ کی نوک سے چھیدتے ہوئے پہنچا اور یہ اعلان کیا کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد انسانوں کو دنیا کی تنگی سے کشادگی کی طرف اور باطل مذاہب کی بے اعتدالیوں سے اسلام کے عدل کی طرف لانا ہے۔ (الکامل فی التاریخ)

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا

اسلام جس طرح کل مسلمانوں کی عظمت و رفعت کا ضامن تھا ، اسی طرح آج بھی ہے، اس میں وہ قوت ہے کہ مسلم قوم کو ذلت و نکبت کے گڑھے سے نکال کر کامیابی و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردے۔

***

(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ‏، جلد: 96 ‏، رمضان-ذیقعدہ 1433 ہجری مطابق اگست-ستمبر 2012ء)

فتویٰ– ماضی اور حال کے تناظر میں

                                مولانا محمداللہ قاسمی، دیوبند

”فقہ“ علوم اسلامیہ میں سب سے زیادہ وسیع اور دقیق علم ہے۔ یہ ایک طرف قرآن و علوم قرآن ، حدیث و متعلقات حدیث، اقوال صحابہ، اجتہادات فقہاء ، جزئیات و فروع ، مرجوح و غیر مرجوح اور امت کی واقعی ضروریات کے ادراک کے ساتھ زمانے کے بدلتے حالات کے تناظر میں دین کی روح کو ملحوظ رکھ کر تطبیق دینے کا نام ہے۔ دوسری طرف فقہ ایسا علم ہے جو طہارت و نظافت کے جزوی مسائل سے لے کر عبادات، معاملات، معاشرت، آداب و اخلاق اور ان تمام امور کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جن کا تعلق حلال و حرام اور اباحت و حرمت سے ہے۔
فتاوی کا میدان فقہ سے زیادہ وسیع ہے؛ اس لیے کہ فتاوی میں ایمانیات و عقائد، فرق وملل، تاریخ و سیرت، تصوف و سلوک، اخلاق و آداب، عبادات و معاملات، معاشرت و سیاسیات کے ساتھ قدیم و جدید مسائل کا حل، اصولی و فروعی مسائل کی تشریح و تطبیق وغیرہ جیسے امور بھی شامل ہوتے ہیں ۔

فتوی کیا ہے؟
فتوی کے لغوی معنی ہیں: کسی سوال کا جواب دینا، سوال خواہ شرعی یا غیر شرعی ؛ لیکن بعد میں فتوی شرعی حکم معلوم کرنے کے معنی میں خاص ہوگیا۔ قرآن و حدیث میں فتوی، افتاء، استفتاء کے الفاظ متعدد مواقع پر وارد ہوئے ہیں۔ قرآن پاک میں سورہ یوسف آیت نمبر ۴۱، ۴۲، ۴۳ ، سورہ نمل آیت نمبر ۲۷ میں یہ الفاظ مطلق جواب حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں، جب کہ سورئہ نساء آیت نمبر ۱۲، ۱۷۶میں شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے اس کا استعمال ہوا ہے۔ مسند احمد کی حدیث 17313 (الاثم ما حَاکَ فِي صَدْرِکَ وَانْ أَفْتَاکَ الناسُ عنہ) اور مسند دارمی کی حدیث159 (أَجْرَوٴُکُمْ عَلی الْفُتْیَا أَجْرَوٴُکم عَلی النارِ)میں بھی فتوی کا لفظ مذکور ہے۔

شریعت کی اصطلاح میں زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق پیش آمدہ مسائل میں دینی رہنمائی کا نام فتویٰ ہے، بالفاظِ دیگر کسی بھی مسلمان کو کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہو تو اس کے استفسار پر قرآن و حدیث اور ان سے اخذ کیے ہوئے اصول و تشریحات کی روشنی میں علمائے دین اور مفتیانِ کرام جو حکمِ شرعی بتاتے ہیں،اسی کا نام فتوی ہے۔

فتوی کسی عالم یا مفتی کی ذاتی رائے کا نام نہیں کہ جس پر عمل کرنا ضروری نہ ہو؛ بلکہ فتوی قرآن و سنت کی تشریح کا نام ہے ،جو ایک مسلمان کے لیے واجب العمل اور لائقِ تقلید ہے۔

فتوی کا تاریخی پس منظر
دورِ رسالت مآب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود مفتی الثقلین تھے اور منصبِ افتاء پر فائز تھے۔ آپ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف سے فتوی دیا کرتے تھے۔ آپ کے فتاوی (احادیث) کا مجموعہ ، شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا ماخذ ہے۔ ہر مسلمان کے لیے اس پر عمل ضروری ہے اور اس سے سرِ مو انحراف کی اجازت نہیں۔آپ نے فتاوی کے ذریعہ ہر باب میں رہ نمائی کی ہے۔ عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات و آداب وغیرہ میں آپ کے فتاوی مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کے عہدِ زریں میں کوئی دوسرا فتوی دینے والا نہیں تھا؛ البتہ آپ کبھی کبھی کسی صحابی کو کسی دور دراز علاقہ میں مفتی بنا کر بھیجتے تو وہ منصب افتاء و قضا پر فائز ہوتے اور لوگوں کی رہ نمائی کرتے۔ جیسے حضرت معاذ بن جبل کو آپ نے یمن بھیجااور انھیں قرآن و حدیث اور قیاس و اجتہاد کے ذریعہ فتوی دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

آپ کے بعد فتوی کی ذمہ داری کو صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سنبھالا اور احسن طریقے سے انجام دیا۔ حضرات صحابہ کرام میں جو فتوی دیا کرتے تھے، اس کی مجموعی تعداد ایک سوتیس سے بھی زائد ہے ، جن میں مرد بھی شامل ہیں اور عورتیں بھی؛ البتہ زیادہ فتوی دینے والے سات تھے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔

اس کے بعد تعلیم و تربیت اور فقہ و فتوی کا سلسلہ حضرات صحابہ کے شاگردوں نے سنبھالا اور دل و جان سے اس کی حفاظت کر کے اسے اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ صحابہٴ کرام کے زمانے میں فتوحات ہوئیں ، اسی وجہ سے وہ دور دراز علاقوں میں پھیل گئے؛چناں چہ ہر جگہ ان کے شاگرد تیار ہوئے۔ مدینہ میں حضرات سعید بن المسیب، عروة بن زبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، قاسم بن محمد، سلیمان بن یسار، خارجہ بن زید ، ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہم اللہ تعالی۔ ان حضرات کو فقہائے مدینہ یا فقہائے سبعہ کہا جاتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں عطاء بن ابی رباح، عبد الملک بن جریج، علی بن ابی طلحہ ۔ کوفہ میں ابراہیم نخعی، علقمہ، عامر بن شراحیل شعبی، بصرہ میں حسن بصری، یمن میں طاؤس بن کیسان، شام میں مکحول وغیرہ (رحمہم اللہ رحمة واسعة) ۔ ان حضرات کے فتاوی مصنفات، سنن اور مسندات وغیرہ میں موجود ہیں۔

امام ابوحنیفہ تابعین میں سے ہیں۔ آپ کی پیدائش کے وقت متعدد صحابہٴ کرام کوفہ میں موجود تھے۔ آپ نے آٹھ صحابہ سے روایت بھی فرمائی۔ (رد المحتار 1:149) آپ استنباطِ مسائل میں حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ آپ کے پاس علمائے کرام کی ایک جماعت جمع ہوتی اور اس میں ہر فن کے ماہرین ہوتے تھے، جو اپنے علم و فن میں کا مل رسوخ کے ساتھ خدا ترسی، فرض شناسی وغیرہ اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔ خود امام صاحب اس جماعت کے صدر کی حیثیت سے شریک ہوتے۔ کوئی مسئلہ پیش آتا تو سب مل کر بحث و مباحثہ اور غور و خوض کرتے۔ جب سب علماء ایک بات پر متفق ہوجاتے تو امام ابو حنیفہ اپنے تلمیذِ خاص امام ابویوسف کو حکم دیتے کہ اس کو فلاں باب میں لکھ لو۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایسے لائق شاگرد عطا فرمائے کہ جنھوں نے آپ کے علوم کو دنیا کے چاروں اطراف میں پھیلادیا۔ علامہ شامی کی تحقیق کے مطابق یہ تعداد چار ہزار تک ہے؛ چناں چہ خلفائے عباسیہ کے دور سے لے کر گذشتہ صدی کے شروع ہونے تک اکثر اسلامی ممالک میں فقہِ حنفی قانونی شکل میں نافذ و رائج رہا۔

ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے زوال اور برطانوی آبادکاروں کے تسلط کے بعد فتوی کا کام دینی مدارس کی طرف منتقل ہوگیا اوراب یہ کام دینی مدارس کے ذریعہ ہی انجام پارہا ہے۔ دینی مدارس نے فقہ و فتوی کی اس عظیم ذمہ داری نہات احسن طریقے سے نبھائی۔ فقہ و فتوی کے سلسلے میں مدارس کے علماء و مفتیان کرام خصوصاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری، حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی،حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہم اللہ نے فقہ و فتوی کے سلسلے میں عظیم الشان خدمات انجام دیں اور ان حضرات کے فتاوی اور فقہی رہ نمائی نے مسلمانان برصغیر؛ بلکہ عالم اسلام تک کو فائدہ پہنچایا۔

فتوی اور مفتی کی اہمیت و ذمہ داری
ہرمسلمان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ قطعی حکم ملا ہے کہ اپنے قول و عمل (جس کو وہ انجام دینا چاہتا ہے) کے متعلق اگر اسے نہیں معلوم کہ خدائی قانون (شریعت) کہاں تک اس کی اجازت دیتا ہے، اور اجازت کی صورت میں اس کے کیا حدود و شرائط ہیں تو اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے اس کے لیے لازم ہے کہ قانونِ الٰہی کے ان واقف کاروں و تجربہ کاروں سے رجوع کرے جن کومسلم سماج میں اعتماد حاصل ہے، ان سے اپنے مسئلہ کی نوعیت بتلاکر حکمِ شرعی معلوم کرلے جس کو ”استفتاء“ کہتے ہیں۔

قرآن کریم میں (سورة النساء 59 اور 83) اولو الامر کی طرف مراجعت اور ان کی اطاعت کو واجب اور ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ایک تفسیر کے مطابق اولو الامر سے مراد حضرات علماء و فقہاء ہیں۔ علامہ ابوبکر جصاص نے حضرات جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عباس وغیرہم سے نقل کیا ہے کہ اولوا الامر سے مراد علماء و فقہاء ہیں۔ (احکام القرآن 2:210)

اسی طرح بعض دیگر آیات سے بھی علماء کی اتباع اور شرعی احکام کو معلوم کرنے کے لیے ان کی طرف مراجعت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے: فَاسْاَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن ”سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں“ (سورة النحل43)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيّ ”اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف“ (سورة لقمان 15)

لہٰذا ان آیات کی روشنی میں علمائے کرام نے لکھا ہے کہ عام مسلمان پر ضروری ہے کہ جب کسی معاملہ میں دینی رہ نمائی مطلوب ہوتو حکمِ خداوندی معلوم کرنے کے لیے مفتیانِ کرام کی طرف رجوع کریں؛ جیسا کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درپیش دینی معاملات میں حضرت نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے اور جس طرح حضرات صحابہ کے زمانہ میں دیگر صحابہ و تابعین فقہائے صحابہ سے دینی مسائل میں رہ نمائی حاصل کرتے تھے۔

فتوی دینے کا منصب بہت اہم اور نازک ہے۔ فقہائے کرام اور مفتیان عظام کی وہ جماعت جنھوں نے خود کو استنباطِ احکام، استخراجِ مسائل کے لیے مختص کیا اور حلال و حرام کو معلوم کرنے کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کیے ، وہ انبیائے کرام کے حقیقی وارث ہیں۔ (العُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأنبِیَاءِ۔ ترمذی 2:97)

فتویٰ دینے کے کچھ اصول و ضوابط ہیں، جن کی روشنی میں مرکزی دینی مدارس اور جامعات میں باقاعدہ تخصص کرایا جاتاہے۔ فتویٰ دینے کے لیے عملی مشق کرائی جاتی ہے، اور جب تک تخصص کرانے والے اساتذہ کو تخصص کرنے والوں کی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہوجاتا، افتاء کی سند نہیں دی جاتی۔ مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں متقی، پرہیزگار اور شریعت کا پابند ہو، ہرقابلِ ذکر مدرسہ فتویٰ دینے کے لیے ایسے ہی عالم کاانتخاب کرتا ہے، جو مذکورہ بالا صفات کا حامل ہوتا ہے۔ مفتی جو کچھ بھی فتویٰ دیتا ہے، اس میں پوری دیانت ملحوظ رکھتا ہے، وہ بحیثیت نائبِ رسول حکم شرعی کی نشاندہی کرنے والا ہوتا ہے۔ مفتی فتویٰ صادر کرکے کوئی نیا قانون نہیں بناتا، نہ وہ اس کی ذاتی رائے ہوتی ہے؛ بلکہ وہ تو صرف قانون اسلامی کی مقرر دفعہ کو بتلاتا ہے یا وضاحت کرتا ہے جو دفعات اپنے موقع پر کتب فقہ وفتاویٰ میں قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے؛ اس لیے اسلام کے جس قانون کو مفتی بتلاتا ہے، اس کا قرآن وحدیث اور کتبِ فقہ سے ثابت ہونا کافی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص مستند فتوے پر طعن کرتا ہے تو درحقیقت وہ قانونِ اسلام کو نشانہ بنارہا ہے۔

فتوی اور میڈیا
عصرِ حاضر میں فتوی ہماری قومی اور عالمی میڈیا کا ایک اہم عنوان بن گیا ہے۔بسا اوقات میڈیا میں شائع ہونے والے فتاوی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے یا اس سے غلط اور بے بنیاد نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس طرح فتوی کا اصل مفہوم خبروں کی بھیڑ میں کھوجاتا ہے اور اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا کو یہ بات محسوس کرنی چاہیے کہ فتوی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آج منظرِ عام پر آیا ہے ؛بلکہ وہ فقہ اسلامی کی کوئی دفعہ ہے جو ہمیشہ سے مسلم اور منقح ہے۔ فتوی کوئی شاہی فرمان بھی نہیں کہ ہر کس و ناکس سے اس پر جبری طور پر عمل کروایا جائے۔ فتوی در اصل کسی شخص کے خاص معاملہ میں حکم شرعی دریافت کیے جانے کے وقت اس معاملے کے حکم شرعی سے آگاہ کرنے کا نام ہے۔ اس کا تعلق براہ راست اس شخص سے ہوتا ہے جو سوال کرتا ہے، فتوی کے ذریعہ اس شخص کی رہ نمائی کردی جاتی ہے۔

میڈیا میں شائع ہونے والے فتاویٰ سے عام طور یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ یہ نیا فتوی اور فرمان ہے جو حال ہی میں جاری ہوا ہے ۔ اس سے عموماً یہ تاثر پھیلتا ہے کہ اب تک اسلام یا مسلمانوں کے یہاں اس سلسلے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی؛ لیکن اب یہ کام منع ہے ۔ جب کہ حقیقتِ واقعہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ فتوی کے ذریعہ اسلام کے ہمیشہ سے طے شدہ مسلمہ مسائل کی کسی دفعہ کو سامنے لایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی معنی میں کوئی نیا معاملہ نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگر میڈیا کسی فتوی کو شائع ہی کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی دیانت وامانت کا تقاضہ ہے کہ پورا فتویٰ من وعن مع سوال وجواب اور فتویٰ نمبر کے حوالے کے ساتھ پبلک کے سامنے پیش کرے۔ میڈیا کو سوال وجواب کے الفاظ میں تصرف کرنا یعنی کمی بیشی کرنا، تقدیم وتاخیر کرکے الٹ پلٹ کرنا، اپنے طورپر اس کا مفہوم متعین کرکے اپنے الفاظ میں پیش کرنا ہرگز درست نہیں؛ کیونکہ یہ خیانت ہے؛ بلکہ سوال وجواب کا پورا متن بعینہ شائع کرنا چاہیے ۔ اسی طرح کبھی کسی گفتگو یا موبائل پر بات چیت کو فتوی کے عنوان سے شائع کردیا جاتا ہے ، یہ بھی سراسر اصول صحافت سے انحراف اور زیادتی ہے۔

اس سلسلے میں خصوصاً مسلمانوں کو چند باتیں ذہن میں ضرور رکھنی چاہئیں۔ میڈیا میں شائع ہونے والے ہر فتوی کو آنکھ بند کر کے صحیح اور مستند تسلیم نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ جب تک پورا فتوی مع حوالہ سوال و جواب سامنے نہ آجائے یا متعلقہ ادارہ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہ آجائے ، اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ پورا فتوی یا اس کی وضاحت سامنے آجانے کے بعد جب کہ وہ مسئلہ قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ثابت و مسلم ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ بر سرِ عام اس فتوی کو تنقید کا نشانہ بنائے اور مفتیانِ کرام یا اسلامی ادارہ کو طعن و تشنیع کرے۔ ہاں ! کسی علمی و اجتہادی مسئلہ میں علمی اختلاف کا حق ان علماء و مفتیان کو ضرور ہے جو علم و اجتہاد کی ان شرائط کو پورا کرتے ہوں۔
###

حیات نبوی کا مکی دور: ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک عملی نمونہ

Image                                        محمد اللہ خلیلی قاسمی
اسلام ، عالمی اورابدی مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیمات اور اس کاسرمدی پیغام دنیا کے ہر گوشے میں بسے ہوئے انسانی افراد اور معاشرے کے لیے یکساں طور پر قابل عمل ہے۔ اس عالمی اور آفاقی مذہب کے پیغمبر آخر الزماں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر مرحلہ اور ہر پہلو پوری امت مسلمہ کے لیے ایک کامل اسوہ اور مکمل نمونہ ہے جیسا کہ قرآن کریم کی شہادت ہے: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة (۲۱:۳۳) آپ کی گھریلو زندگی ہویا سماجی زندگی، مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی ، عبادات ہوں یا معاملات، سیاسیات ہوں یا اخلاقیات و مذہبیات، آپ کی زندگی کا عملی نمونہ ہر شعبہٴ زندگی میں تمام انسانوں کے لیے قابل تقلید ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جو اس ملک میں اقلیت میں ہیں ایک مکمل عملی نمونہ موجود ہے۔ ہمارے ملک میں اکثریت غیر مسلمین کی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمان یہاں کی آبادی کا تقریباً پندرہ فی صد ہیں۔ یہ ملک ہم مسلمانوں کا اپنے محبوب وطن ہے اور مسلمان اس سرزمین کے ایک اٹوٹ حصہ کے طور پر صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد اسی خاک میں مدفون ہیں اور اس بر صغیر میں ہماری تہذیب و تمدن اور تاریخ و روایات کے کتنے ہی انمٹ نقوش اور لاثانی یادگاریں ثبت ہیں کہ اگر اس گراں قدر تہذیبی، ثقافتی و تاریخی ورثہ کو ہندوستانی تاریخ سے مٹادیا جائے تو یہاں کی تاریخ روکھی اور بے رنگ نظر آنے لگے گی۔
حصول آزادی کے بعد بھی گو مسلمانوں کو اس ملک میں مسلسل گذشتہ ساٹھ برسوں سے معاشی و تعلیمی اور سیاسی و سماجی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ لیکن ملک کے مجموعی حالات مسلمانوں کے لیے اگر ہمت افزا نہیں تو کم از کم مایوس کن اور دل شکن بھی نہیں۔ یوں تواسلام کی ساری تعلیمات پر کاربند ہونا مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری اور اسلامی تقاضا ہے۔ تاہم مسلمانوں کے لیے ملک کے موجودہ حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مکی نمونہ خاص طور پر مکمل عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔
امانت و دیانت اور پاکیزگی و شرافت
مکی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی شناخت تھی آپ کی صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی ۔ مکی زندگی میں نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے سے پہلے اور بعد کا زمانہ میں آپ کی شناخت آپ کی صداقت و امانت، شرافت و پاکیزگی ، تواضع و انکساری اور تقوی و پاکبازی تھی۔ مکہ کا ہر باشندہ آپ کی شرافت و پاکیزگی اور اعلی اخلاق کا قائل تھا۔ آپ کو عام طور پر صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجر اسود کو اس کے مقام تک اٹھا کر رکھنے میں قریش کے اندر جو سخت اختلاف پیدا ہوا اور جس کی وجہ سے خونیز جنگ چھڑنے والی تھی ، وہ آپ کی جوانی کا زمانہ تھا، لیکن قریش کے سرداروں اور بڑے بوڑھوں کو جب یہ ہاشمی نوجوان دکھائی پڑا تو سب نے بیک آواز ہو کر کہا: ھذا محمد الأمین رضینا ھذا محمد الأمین (یعنی یہ محمد امین شخص ہیں، ہم ان سے خوش ہیں، یہ امین ہیں)۔اور سب نے اس نوجوان کے حکیمانہ فیصلے کو بخوشی قبول کیا اور اس طرح ایک خون ریز جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی۔ (سیرة المصطفیٰ۱۱۶:۱، بحوالہ سیرت ابن ہشام)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے ابتدائی مراحل میں جب اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ نبوت کے پیغام اور توحید کی دعوت کو علی الاعلان اپنے قبیلہ والوں تک پہنچا یا جائے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لاتے ہیں اور قریش کو قبائل کو آواز دیتے ہیں۔ ارشاد فرماتے ہیں : اے قریش! اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج حملہ آور ہونے کو تیار ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟ پوری قوم یک زبان ہو کر کہتی ہے: نعم! ما جربنا علیک الا صدقا (ہاں! ہم نے آپ میں سوائے صدق اور سچائی کے کچھ نہیں پایا)۔(صحیح بخاری ، حدیث نمبر 4397)
آپ کی امانت و دیانت کا عالم تھا کہ مکہ کے بڑے بڑے تاجر خواہش مند ہوتے تھے کہ آپ ان کے تجارتی سامان لے کر شام و یمن وغیرہ کی عالمی منڈیوں میں لے جائیں تاکہ آپ کے ذریعہ ان کی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔ نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی مکہ کے وہ لوگ جو آپ کی دعوت اسلام کو نہیں مانتے تھے وہ بھی آپ کے پاس اپنی امانتیں بغرض حفاظت رکھ جاتے تھے۔ انھیں اس بات کا اطمینان تھا کہ ان کی امانت اس امین کے علاوہ کسی اور کے ہاتھوں میں اتنی محفوظ نہیں ہے۔
صبر و استقامت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا دوسرا سب سے واضح عنصر آپ کا بے پناہ جذبہٴ صبر و استقامت، اولو العزمی اور اپنے صحیح موقف پر پہاڑ کی طرح قائم رہنے کی قوت تھی۔ تبلیغ اسلام اور دعوت حق کے بعد مکہ کی اکثریت آپ کے خلاف تھی۔ وہ ہمیشہ آپ کے اور مٹھی بھر مسلمانوں کے در پئے آزار رہتے، انھیں تکلیفیں پہنچاتے، ایذائیں دیتے اور دن رات اسلام پیغمبر اسلام اور متبعین اسلام کے خلاف سازشیں کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے اس برتاؤ کا جواب صبر و خاموشی اور ہمت و استقامت سے دیا۔ آپ نے دعوت حق کے اپنے موقف سے ذرہ برابر پیچھے ہٹنا گوارا نہیں کیا، حتی کہ آپ کو پورے عرب کی بادشاہت، مال و دولت، حسین ترین عورتوں اور ہر خواہش کی چیز پیش کیے جانے کی پیش کش بھی کی گئی ، لیکن آپ نے اس دعوت حق کے سامنے ہر کسی پیش کش کو حقارت سے ٹھکرادیا۔ آپ نے خواجہ ابو طالب کی فہمائش کے جواب میں فرمایا کہ چچا اگر میرے ایک ہاتھ میں چاند دوسرے میں سورج رکھ دیا جائے اور کہا جائے کہ اس کام سے باز رہو، تو بھی میں ایسا نہیں کرسکتا۔
تصادم سے گریز اور دعوت و تبلیغ کا تسلسل
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صبر آزما اور مخالف ماحول میں اہل مکہ کے سامنے اعلی اخلاقی نمونہ پیش کیا ۔گالیوں کا جواب دعاؤں سے، پتھر کا جواب نرم کلامی سے ، دل آزاری کا جواب ہمدردی و غم گساری سے دیا۔ آپ نے اس ماحول میں تصادم سے گریز کیا اور حکمت و بصیرت کے ساتھ کام کرتے رہے۔ لوگوں کی بھلائی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے ان کو خدائے واحد اور اللہ کے پسندیدہ دین کی طرف بلاتے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا جو فرض منصبی آپ نے اٹھایا تھا، اس پر پوری دلجمعی، استقامت اور سختی سے قائم رہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی دعوت دلوں کے قلعوں کو تسخیر کرتی چلی گئی اور مکہ کی ایک بڑی تعداد نے مخالف ماحول میں بھی اسلام میں کشش محسوس کی ۔جو لوگ کل تک آپ کے مشن کے شدید ترین دشمن تھے، وہ آپ کے اخلاق عالیہ اور دعوت حق کی گرمی سے پگھل کر پانی پانی ہوجاتے اور اہل ایمان کے حلقے میں شامل ہوجاتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سے یہ چند خاص سبق ملتے ہیں کہ اہل ایمان کو اپنے حق و صداقت کے موقف پر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ جمنا چاہیے اور اس کی طرف پر پورے وثوق کے ساتھ دعوت دینی چاہیے ۔ جہاں تک ہوسکے اپنے پڑوسیوں، اہل خاندان ، اہل وطن سے خواہ وہ کسی کبھی فکر و خیال اور مذہب کے ماننے والے ہوں ، ان سے اخلاق و محبت، خیر خواہی و ہمدردی اور بہتری و بھلائی کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ نیز، معاشرے کے سامنے ہمیشہ اپنے اعلی کردار و عمل ، تقوی و طہارت، امانت و دیانت اور اخلاص و خیر خواہی کے ذریعہ بلند پایہ اخلاقی اقدار و آداب کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہجرت حبشہ سے چند سبق
نبوت کے پانچویں برس دو مرحلوں میں تقریباً سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر حبشہ (موجودہ ایتھوپیا ، افریقہ) کی طرف ہجرت فرمائی۔ گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہجرت میں حصہ نہیں لیا، لیکن چوں کہ آپ کے اصحاب (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ کے مشورہ سے ہجرت اختیار کی تھی اور آپ کی تعلیمات کی روشنی میں انھوں نے وہاں زندگی گزاری ؛ اس لیے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا ہی ایک حصہ تصور کی جاتی ہے۔
حبشہ ایک غیر مسلم ملک تھا، وہاں کا حکم ران نجاشی اس وقت نصرانی تھا۔ سو کے قریب مسلمانوں کی جمعیت وہاں کی قلیل ترین اقلیت تھی۔ لیکن حبشہ کی زندگی میں حضرات صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں جو لائحہ عمل اختیار کیا وہ ہندوستان جیسے ملک میں رہنے والی مسلم اقلیت کے لیے ایک بہترین اسوہ ہے۔
حبشہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں نے وہاں اپنی کالونی بنالی اور اس عادل بادشاہ کے رعایا بن کر رہنے لگے۔ ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ کفار مکہ کے دو نمائندوں عبد اللہ بن ربیعہ اور عمرو بن العاص نے حبشہ کی سرزمین بھی مسلمانوں پر تنگ کرنی چاہی اور بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا نا چاہا۔ اس موقع پر حبشہ کے مسلمانوں نے جو طریقہٴ کار اختیار کیا وہ ہمارے لیے روشن نمونہ کا درجہ رکھتا ہے۔ مسلمانوں نے سب سے پہلے اجتماعیت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر منتخب کیا۔ پھر انھوں نے باہمی مشورہ اور اتفاق رائے سے یہ طے کیا کہ جس دین حق کی خاطر ہم نے اپنا وطن چھوڑا ہے اس کے خلاف ہم کچھ نہیں کہیں گے اور جو کچھ حق ہوگا ، حکمت و بصیرت کے ساتھ معقول و مدلل انداز میں اس کو سامنے رکھیں گے۔ نیز، اپنے جائز مقصد کے حصول اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے عادل بادشاہ کے عدل و انصاف اور قانون کا سہارا لیں گے۔ چناں چہ جب قریشی نمائندوں نجاشی کے سامنے مسلمانوں پر یہ الزام لگایا کہ یہ بد دین ہو اپنے ملک سے بھاگ آئے ہیں ، ان کو واپس کیا جائے، تو نجاشی نے مسلمانوں سے صفائی پیش کرنے کو کہا۔ ان روشن اصولوں کی رہ نمائی میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نہایت معقول انداز میں کہا کہ کیا ہم غلام ہیں جو تمہارے یہاں سے بھاگ آئے ہیں، یا ہم نے کسی کا قتل کیا ہے یا ہم کسی کا مال ہڑپ کرکے آئے ہیں۔اس بر محل اور معقول سوال کا جواب ان قریشی نمائندوں کے پاس نہیں تھا۔
پھر نجاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ آخر وہ کون سا دین ہے جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اس کے جواب میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا جو خلاصہ پیش کیا وہ ایک بہترین دینی اور سماجی نمونہ تھا۔ حضرت جعفر نے اسلام کے تعارف پر مشتمل جو تقریر نجاشی کے دربار میں کی تھی اس میں رسول پاک کی چودہ تعلیمات کا ذکر تھا: (۱) توحید (۲) سچائی (۳) امانت داری (۴) صلہ رحمی (۵) پڑوسیوں سے اچھا سلوک (۶) حرام کاموں سے پرہیز (۷) خونریزی سے گریز (۸) بدکاری سے پرہیز (۹) جھوٹی بات سے پرہیز (۱۰) مال یتیم سے پرہیز (۱۱) عورتوں پر الزام تراشی سے گریز (۱۲) نماز قائم کرنا (۱۳) زکوٰة دینا (۱۴) روزہ رکھنا۔ان تعلیمات میں، مذہب، اخلاق اور سماج سب کچھ کی رہنمائی موجود ہے۔
دوسرے دن قریشی نمائندوں نے ایک دوسری چال چلی اور حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق عبدیت کے اسلامی عقیدہ کے خلاف نجاشی عیسائی بادشاہ کو بھڑکانا چاہا کہ یہ لوگ حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ مسلمانوں کے لیے یہ مشکل وقت تھا، لیکن حق پرستی اور صداقت شعاری کے روشن اصولوں کی روشنی میں جو اسلامی عقیدہ تھا وہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے بلا کم و کاست پیش کردیا اور بالآخر حق کا بول بالا ہوا اور باطل رسوا و ذلیل ہو کر واپس ہوا۔
کتب سیرت و احادیث میں حبشہ میں مسلمانوں کی عام زندگی کی تفصیلات نہیں ملتیں، لیکن جو کچھ جابجا روایات میں ملتا ہے اس سے بھی ان کے طرز معاشرت کی ایک جھلک دکھائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔ حضرات نے صحابہ نے اپنی چھوٹی سے بستی بنا کر تجارت وغیرہ کا پیشہ اختیار کیا اور مقامی غیر مسلم آبادی کے ساتھ معاملات کیا۔اس سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں بھی رہیں محنت و مشقت اور امانت و دیانت کے ساتھ حلال روزی کے ذرائع اختیار کریں۔
 مسلمانوں نے ملک کی خیر خواہی اور اہل ملک کے ساتھ وفاداری کا برتاؤ کیا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنوں نجاشی بادشاہ کو ایک بغاوت کا سامنا کرنا پڑا چناں چہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ اس سے یہ اصول ماخوذ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ملک اور عادل رہ نما کے ساتھ وفاداری اور خلوص و محبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہم مسلمانوں کو ہجرت حبشہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ نازک اور اہم مواقع پر اجتماعیت اختیار کرکے باہمی مشورہ سے کام لینا اور اپنا امیر منتخب کرلینا چاہیے۔ مسلمانوں کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ کسی وہ حال میں بھی حق و صداقت کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور اپنے ایمان و یقین کا سودا کسی صورت میں نہیں کریں گے، یہی ان کی مذہبی اور تہذیبی زندگی کی اساس ہے۔ نیز، جذباتیت سے گریز کرتے ہوئے حکمت و بصیرت سے کام لینا چاہیے اور مخالف حالات کا صبر و استقامت سے سامنا کرنا چاہیے ۔ دین کی دعوت، حکمت،معقولیت اور مدلل طریقہ سے اپنے ہم وطنوں کو دینی چاہیے اور ہمیشہ طاقت کا مقابلہ حکمت و دانائی سے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ملک کے نظام عدل سے واقفیت حاصل کرنا چاہیے اور اسے اپنے تحفظ کے لیے اوراپنا حق حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔
نیز ، مسلمانوں کو جس ملک میں وہ رہیں وہاں امن پسند شہری کی حیثیت سے رہنا چاہیے اور تخریبی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موقف، مقصد حیات اور طرز زندگی سے ہم وطنوں کو واقف کرائیں تاکہ وہ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں اور تحفظ کے مسائل پیدا نہ کریں اور اسلام سے اجنبیت کی وجہ سے اس کو حریف نہ سمجھیں۔ نیز، مسلمانوں کو ہم وطنوں کے مذہب، مزاج اور تہذیبی شعار سے ضروری واقفیت حاصل کرنی چاہیے تاکہ امن و سکون اور بقائے باہم کی راہ ہموار ہو۔ ہجرت حبشہ سے قبل سورہ مریم کا نزول، نجاشی کی عدالت میں حضرت جعفر کی تلاوت ، اور نجاشی کے دربار میں آپ کی پوری تقریر کاخلاصہ یہی ہے۔                         (بشکریہ ماہنامہ انابت)

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حالات

The Biography of Imam Abu Hanifah